<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:40:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:40:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا کا پرائیویسی مسائل کا جائزہ لینے کیلئے اے آئی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260749/</link>
      <description>&lt;p&gt;میٹا (سابقہ فیس بک) نے اپنے پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر کی جانے والی اپڈیٹس میں ممکنہ خطرات اور پرائیویسی کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق، اس اقدام کے تحت کمپنی اپنی پراڈکٹ کی تشخیص کے 90 فیصد حصے کو خودکار  بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 2012 میں فیس بک اور امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کمپنی کو اپنی پراڈکٹس کی ہر نئی اپڈیٹ سے پہلے پرائیویسی کے ممکنہ خطرات کا باقاعدہ جائزہ لینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک یہ جائزے انسانی مدد سے انجام دیے جاتے تھے، تاہم میٹا اب اس عمل کو تیز تر اور مؤثر بنانے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے اے آئی سسٹم کے تحت، پراڈکٹ ٹیموں کو ہر اپڈیٹ کے بارے میں ایک سوالنامہ پُر کرنا ہوگا، جس کی بنیاد پر اے آئی خودکار طور پر خطرات کی نشاندہی کرے گا اور یہ بتائے گا کہ کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے تاکہ اپڈیٹ لانچ کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1257180"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام کم خطرے والی اپڈیٹس کے لیے تیز اور مستقل فیصلے فراہم کرے گا، جبکہ پیچیدہ یا غیر معمولی معاملات کی صورت میں ماہرین کی رائے بھی شامل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پراڈکٹ اپڈیٹس کا عمل زیادہ مؤثر اور تیز ہوجائے گا، جس سے صارفین کو بہتر تجربہ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے پرائیویسی پروگرام میں اب تک 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرچکی ہے اور اس بات کا عزم رکھتی ہے کہ وہ جدید پراڈکٹس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری تقاضوں کو بھی پورا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، بعض ماہرین نے اس نئے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار بعض اوقات پیچیدہ مسائل کی بروقت نشاندہی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سابقہ ایگزیکٹو نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ طریقہ کار تیز ہے، لیکن اس سے منفی نتائج کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ کچھ مسائل کا اندازہ دیر سے ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میٹا (سابقہ فیس بک) نے اپنے پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر کی جانے والی اپڈیٹس میں ممکنہ خطرات اور پرائیویسی کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق، اس اقدام کے تحت کمپنی اپنی پراڈکٹ کی تشخیص کے 90 فیصد حصے کو خودکار  بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ 2012 میں فیس بک اور امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کمپنی کو اپنی پراڈکٹس کی ہر نئی اپڈیٹ سے پہلے پرائیویسی کے ممکنہ خطرات کا باقاعدہ جائزہ لینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>اب تک یہ جائزے انسانی مدد سے انجام دیے جاتے تھے، تاہم میٹا اب اس عمل کو تیز تر اور مؤثر بنانے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے جارہی ہے۔</p>
<p>نئے اے آئی سسٹم کے تحت، پراڈکٹ ٹیموں کو ہر اپڈیٹ کے بارے میں ایک سوالنامہ پُر کرنا ہوگا، جس کی بنیاد پر اے آئی خودکار طور پر خطرات کی نشاندہی کرے گا اور یہ بتائے گا کہ کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے تاکہ اپڈیٹ لانچ کی جاسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1257180"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ نظام کم خطرے والی اپڈیٹس کے لیے تیز اور مستقل فیصلے فراہم کرے گا، جبکہ پیچیدہ یا غیر معمولی معاملات کی صورت میں ماہرین کی رائے بھی شامل کی جائے گی۔</p>
<p>میٹا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پراڈکٹ اپڈیٹس کا عمل زیادہ مؤثر اور تیز ہوجائے گا، جس سے صارفین کو بہتر تجربہ حاصل ہوگا۔</p>
<p>کمپنی نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے پرائیویسی پروگرام میں اب تک 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرچکی ہے اور اس بات کا عزم رکھتی ہے کہ وہ جدید پراڈکٹس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری تقاضوں کو بھی پورا کرے گی۔</p>
<p>دوسری جانب، بعض ماہرین نے اس نئے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار بعض اوقات پیچیدہ مسائل کی بروقت نشاندہی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔</p>
<p>ایک سابقہ ایگزیکٹو نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ طریقہ کار تیز ہے، لیکن اس سے منفی نتائج کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ کچھ مسائل کا اندازہ دیر سے ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260749</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Jun 2025 20:54:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/02173956e80b9a4.jpg?r=174004" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/02173956e80b9a4.jpg?r=174004"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
