<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 19:11:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 19:11:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260754/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کی جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے، قرضوں کی ادائیگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو ایک ہزار ارب تک مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پلاننگ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بعد وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 644 ارب روپے انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس کے لیے مختص کیے گئے، جس میں انرجی، پانی، ٹرانسپورٹ اور فزیکل اینڈ پلاننگ ہاؤسنگ کے شعبے شامل ہیں، جبکہ اس میں سے خطیر رقم پاور، پانی اور ہائی ویز سیکٹرز کے لیے رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سوشل سیکٹر کے لیے 150 ارب روپے، اسپیشل ایریاز، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 63 ارب روپے، فاٹا کے انضمام ہونے والے اضلاح کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سائنس اور آئی ٹی کے شعبے کے لیے 53 ارب روپے، گورننس، مختلف ریفارمز کے لیے 9 ارب، پروڈکشنز سیکٹرز کے لیے 11 ارب مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شہباز-شریف-کی-ہدایت-پر-120-ارب-روپے-این-25-شاہراہ-کیلئے-مختص" href="#شہباز-شریف-کی-ہدایت-پر-120-ارب-روپے-این-25-شاہراہ-کیلئے-مختص" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’شہباز شریف کی ہدایت پر 120 ارب روپے این 25 شاہراہ کیلئے مختص‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی ہدایت پر 120 ارب روپے این 25، چمن، کوئٹہ اور کراچی شاہراہ کو دو رویہ اور ایکسپریس وے بنانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ ملک کے اخراجات اورآمدن میں توازن لانا ضروری ہے، پاکستان میں معاشی بحران یہاں تک آگیا تھا کہ وفاقی حکومت کو جو معصولات صوبائی حکومت کا حصہ ادا کرنے کے بعد  بچتے تھے وہ تمام قرضوں کی ادائیگی میں چلے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کی بڑی وجہ وہ قرضے ہیں جو 2018 سے 2022 کے درمیان لیے گئے، پھر مہنگائی کے نتیجے میں پالیسی ریٹ 23 فیصد تک گیا تو ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ ہمارے کل اخراجات کا تقریبا 56 فیصد حصہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کے مطابق اس صورتحال کا دباؤ ترقیاتی بجٹ پربھی پڑا، 2018 میں جب ہم نے حکومت چھوڑی تو اُس وقت دفاع کا بجٹ ایک ہزار ارب تھا اور ترقیاتی بجٹ بھی ایک ہزار ارب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جو 70 سے 80 فیصد مکمل ہوگئے ہیں ساتھ ہی بیرون فنڈنگ حاصل کرنے والے منصوبوں کو بھی ترجیح لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، زراعت سے4.5 فیصد، انڈسٹری سے 4.3 فیصد اور سروسسز سے 4.2 فیصد گروتھ کا ہدف رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ برآمدات کو 35 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، ترسیلات زر کے لیے 39 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا، جو اس سے قبل سال 23-2022  میں 27 ارب ڈالر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن میں 26 فیصد اضافہ ہوا، ہمارا ترقیاتی بجٹ کم ہو رہا ہے، یہ ہمارے مستقبل کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جہاں ہمیں مضبوط دفاع کی ضرورت ہے، وہیں ہمیں مضبوط معیشت کی بھی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کی جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے، قرضوں کی ادائیگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو ایک ہزار ارب تک مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں پلاننگ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بعد وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 644 ارب روپے انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس کے لیے مختص کیے گئے، جس میں انرجی، پانی، ٹرانسپورٹ اور فزیکل اینڈ پلاننگ ہاؤسنگ کے شعبے شامل ہیں، جبکہ اس میں سے خطیر رقم پاور، پانی اور ہائی ویز سیکٹرز کے لیے رکھی گئی ہے۔</p>
<p>احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سوشل سیکٹر کے لیے 150 ارب روپے، اسپیشل ایریاز، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 63 ارب روپے، فاٹا کے انضمام ہونے والے اضلاح کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سائنس اور آئی ٹی کے شعبے کے لیے 53 ارب روپے، گورننس، مختلف ریفارمز کے لیے 9 ارب، پروڈکشنز سیکٹرز کے لیے 11 ارب مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<h1><a id="شہباز-شریف-کی-ہدایت-پر-120-ارب-روپے-این-25-شاہراہ-کیلئے-مختص" href="#شہباز-شریف-کی-ہدایت-پر-120-ارب-روپے-این-25-شاہراہ-کیلئے-مختص" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’شہباز شریف کی ہدایت پر 120 ارب روپے این 25 شاہراہ کیلئے مختص‘</h1>
<p>وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی ہدایت پر 120 ارب روپے این 25، چمن، کوئٹہ اور کراچی شاہراہ کو دو رویہ اور ایکسپریس وے بنانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ ملک کے اخراجات اورآمدن میں توازن لانا ضروری ہے، پاکستان میں معاشی بحران یہاں تک آگیا تھا کہ وفاقی حکومت کو جو معصولات صوبائی حکومت کا حصہ ادا کرنے کے بعد  بچتے تھے وہ تمام قرضوں کی ادائیگی میں چلے جاتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کی بڑی وجہ وہ قرضے ہیں جو 2018 سے 2022 کے درمیان لیے گئے، پھر مہنگائی کے نتیجے میں پالیسی ریٹ 23 فیصد تک گیا تو ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ ہمارے کل اخراجات کا تقریبا 56 فیصد حصہ ہو گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر کے مطابق اس صورتحال کا دباؤ ترقیاتی بجٹ پربھی پڑا، 2018 میں جب ہم نے حکومت چھوڑی تو اُس وقت دفاع کا بجٹ ایک ہزار ارب تھا اور ترقیاتی بجٹ بھی ایک ہزار ارب تھا۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جو 70 سے 80 فیصد مکمل ہوگئے ہیں ساتھ ہی بیرون فنڈنگ حاصل کرنے والے منصوبوں کو بھی ترجیح لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>احسن اقبال کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، زراعت سے4.5 فیصد، انڈسٹری سے 4.3 فیصد اور سروسسز سے 4.2 فیصد گروتھ کا ہدف رکھا گیا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ برآمدات کو 35 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، ترسیلات زر کے لیے 39 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا، جو اس سے قبل سال 23-2022  میں 27 ارب ڈالر رہی تھیں۔</p>
<p>احسن اقبال نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن میں 26 فیصد اضافہ ہوا، ہمارا ترقیاتی بجٹ کم ہو رہا ہے، یہ ہمارے مستقبل کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جہاں ہمیں مضبوط دفاع کی ضرورت ہے، وہیں ہمیں مضبوط معیشت کی بھی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260754</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Jun 2025 19:15:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/021908124eadfc9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/021908124eadfc9.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
