<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 06:51:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 06:51:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حافظ آباد: 2 بچوں کے قتل کیس کے ملزم کی پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش، دریا میں ڈوب کر ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260938/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں 2 بچوں کے قتل کیس کے ملزم نے پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی کوشش میں دریا میں چھلانگ لگا دی، جس کی لاش نہر سے ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 30 مئی کو حافظ آباد ضلع کے گاوں کاسوکی میں لاپتا ہونے پر 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر میں لوہے کے ڈبے سے برآمد ہوئی تھیں، جبکہ مرنے والے لڑکوں میں سے ایک کے انکل اور اس کے تین ساتھی ملزمان میں شامل تھے، جن میں سے دو کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے 4 نامزد اور 2 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حافظ آباد کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اعجاز احمد نے آج ڈان ڈیجیٹل کو بتایا کہ واقعے کے بعد مرنے والے ایک بچے کے انکل سی سی ڈی کی تحویل میں تھے، مزید کہا کہ مشتبہ شخص ڈوب گیا اور بعد میں اس کی لاش نہر سے برآمد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) حافظ آباد کے کسوکی تھانے میں سب انسپکٹر علی کامران کی شکایت پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 224 کے تحت درج کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں کہا گیا کہ دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بچوں کو لکڑی کے بلے سے تشدد کا نشانہ بنایا، اور اس نے بلے کو اپنے کمرے میں چھپا رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس مشتبہ شخص کے ساتھ بلے کو برآمد کرنے کے لیے جا رہی تھی، جب کریالہ گاؤں کے قریب ایک نہر کے قریب گاڑی ایک گڑھے کے قریب پہنچنے کے بعد سست ہو گئی، جہاں مشتبہ شخص نے اپنے دائیں ہاتھ سے ہتھکڑیاں ہٹا دیں، پولیس نے مشتبہ شخص کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ گاڑی سے چھلانگ لگا کر جھاڑیوں کی طرف بھاگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق جب پولیس مشتبہ شخص کا تعاقب کر رہی تھی تو انہوں نے پانی کی آواز سنی، مزید کہا گیا کہ پولیس نے اسے بلایا، لیکن ملزم پانی میں آگے بڑھتا رہا اور غائب ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 30 مئی کو پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں لاپتا ہونے کے کئی روز بعد 7 سال کے 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر سرکاری تنظیم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sahil.org/cruel-numbers/"&gt;&lt;strong&gt;ساحل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سال &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1908682"&gt;&lt;strong&gt;2024&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 3 ہزار 364 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرل نمبرز 2024 کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://drive.google.com/file/d/1BiZQB4r46gbIYR88plzov08iuLzJ606_/view?pli=1"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ملک بھر کے 81 قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی، اس سے پتا چلتا ہے کہ سال کے دوران روزانہ 9 بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، جب ہ صنفی تقسیم کے تجزیے سے پتا چلا کہ کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 1,791 (53 فیصد) متاثرین لڑکیاں اور 1,573 (47 فیصد) لڑکے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں 2 بچوں کے قتل کیس کے ملزم نے پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی کوشش میں دریا میں چھلانگ لگا دی، جس کی لاش نہر سے ملی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 30 مئی کو حافظ آباد ضلع کے گاوں کاسوکی میں لاپتا ہونے پر 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر میں لوہے کے ڈبے سے برآمد ہوئی تھیں، جبکہ مرنے والے لڑکوں میں سے ایک کے انکل اور اس کے تین ساتھی ملزمان میں شامل تھے، جن میں سے دو کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔</p>
<p>پولیس نے 4 نامزد اور 2 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی تھی۔</p>
<p>حافظ آباد کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اعجاز احمد نے آج ڈان ڈیجیٹل کو بتایا کہ واقعے کے بعد مرنے والے ایک بچے کے انکل سی سی ڈی کی تحویل میں تھے، مزید کہا کہ مشتبہ شخص ڈوب گیا اور بعد میں اس کی لاش نہر سے برآمد ہوئی۔</p>
<p>اس واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) حافظ آباد کے کسوکی تھانے میں سب انسپکٹر علی کامران کی شکایت پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 224 کے تحت درج کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایف آئی آر میں کہا گیا کہ دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بچوں کو لکڑی کے بلے سے تشدد کا نشانہ بنایا، اور اس نے بلے کو اپنے کمرے میں چھپا رکھا تھا۔</p>
<p>اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس مشتبہ شخص کے ساتھ بلے کو برآمد کرنے کے لیے جا رہی تھی، جب کریالہ گاؤں کے قریب ایک نہر کے قریب گاڑی ایک گڑھے کے قریب پہنچنے کے بعد سست ہو گئی، جہاں مشتبہ شخص نے اپنے دائیں ہاتھ سے ہتھکڑیاں ہٹا دیں، پولیس نے مشتبہ شخص کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ گاڑی سے چھلانگ لگا کر جھاڑیوں کی طرف بھاگا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق جب پولیس مشتبہ شخص کا تعاقب کر رہی تھی تو انہوں نے پانی کی آواز سنی، مزید کہا گیا کہ پولیس نے اسے بلایا، لیکن ملزم پانی میں آگے بڑھتا رہا اور غائب ہو گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 30 مئی کو پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں لاپتا ہونے کے کئی روز بعد 7 سال کے 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔</p>
<p>غیر سرکاری تنظیم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sahil.org/cruel-numbers/"><strong>ساحل</strong></a> کے مطابق سال <a href="https://www.dawn.com/news/1908682"><strong>2024</strong></a> میں چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 3 ہزار 364 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔</p>
<p>کرل نمبرز 2024 کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://drive.google.com/file/d/1BiZQB4r46gbIYR88plzov08iuLzJ606_/view?pli=1"><strong>رپورٹ</strong></a> ملک بھر کے 81 قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی، اس سے پتا چلتا ہے کہ سال کے دوران روزانہ 9 بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، جب ہ صنفی تقسیم کے تجزیے سے پتا چلا کہ کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 1,791 (53 فیصد) متاثرین لڑکیاں اور 1,573 (47 فیصد) لڑکے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260938</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Jun 2025 23:55:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظہیر عباس سیال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/042341329f4acb1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/042341329f4acb1.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
