<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 09:53:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 09:53:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران-اسرائیل جنگ: بلوچستان میں فیول کا بحران شدت پکڑنے لگا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1261771/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے باعث پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فیول کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1917405#:~:text=Fuel%20crisis%20deepens%20in%20Balochistan"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایران-اسرائیل بڑھتی جنگ کے دوران بلوچستان میں فیول کا بحران تشویش ناک صورتحال اختیار کر رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث ایرانی تیل کی بلوچستان میں سپلائی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں پیڑول پمپس بھی بند ہونا شروع ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ بلوچستان کے ایران کی سرحد سے ملحقہ اضلاع تربت، گوادر، پنجگور، چاغی، واشک اور ماشکیل موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے، ان علاقوں میں نہ صرف ایرانی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی بلکہ کھانے پینے کی اشیا کی بھی بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا ہے اس کی وجہ ان اضلاع میں اشیائے خور و نوش کا بڑا انحصار ایران پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکران، رخشاں اور چاغی کے راستوں سے ہونے والی ایرانی تیل کی اسمگلنگ معطل ہونے کے باعث بلوچستان کے اِس وقت 60 سے 70 فیصد پیٹرول پپمس بند ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ضلعی انتظامیہ نے ایرانی اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرنے والے متعدد پیٹرول پمپس کو گزشتے ہفتے ہی بند کروا دیا تھا جس کی وجہ سے کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے رہائشیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال اور فیول کی کم یابی کے باعث ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں خاطرخواہ اضافہ دیکھنے میں آیا، اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول بیچنے والے 280 سے 300 روپے فی لیٹر پیٹرول بلیک مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت  258 روپے 43 پیسے فی لیٹر قیمت مقرر کی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232203"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے کوئٹہ پیٹرول کی سپلائی بھی مختلف سڑکوں کی بندش کے باعث متاثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، حکومت بلوچستان نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو کسی قسم کی فیول کی قلت کا سامنا نہیں ہے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں  بیشتر  پیٹرول پمپس کھلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے صوبے میں فیول کی کمی کی تردید کی، انہوں نے کہا کہ ایرانی آئل بیچنے والے پیٹرول پمپس حادثات کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد رند کے مطابق صوبے میں ایرانی آئل سے ملحقہ جگہوں پر 28 مختلف حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں جس میں ایئرپورٹ روڈ اور ہزار گنجی کے بڑے حادثات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا نام نہاد فیول کی کمی کو ان لوگوں کی جانب سے  بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جو ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر عائد پابندی کو ختم کرانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ لیگل فیول کی مسلسل اور بر وقت ترسیل اور رسائی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اگر کسی پیٹرول اسٹیشن نے پیٹرول دینے سے منع کیا یا پھر ذخیرہ اندوزی کی تو ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے باعث پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فیول کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1917405#:~:text=Fuel%20crisis%20deepens%20in%20Balochistan">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایران-اسرائیل بڑھتی جنگ کے دوران بلوچستان میں فیول کا بحران تشویش ناک صورتحال اختیار کر رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث ایرانی تیل کی بلوچستان میں سپلائی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں پیڑول پمپس بھی بند ہونا شروع ہوگئے ہیں۔</p>
<p>صوبہ بلوچستان کے ایران کی سرحد سے ملحقہ اضلاع تربت، گوادر، پنجگور، چاغی، واشک اور ماشکیل موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے، ان علاقوں میں نہ صرف ایرانی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی بلکہ کھانے پینے کی اشیا کی بھی بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا ہے اس کی وجہ ان اضلاع میں اشیائے خور و نوش کا بڑا انحصار ایران پر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مکران، رخشاں اور چاغی کے راستوں سے ہونے والی ایرانی تیل کی اسمگلنگ معطل ہونے کے باعث بلوچستان کے اِس وقت 60 سے 70 فیصد پیٹرول پپمس بند ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ضلعی انتظامیہ نے ایرانی اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرنے والے متعدد پیٹرول پمپس کو گزشتے ہفتے ہی بند کروا دیا تھا جس کی وجہ سے کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے رہائشیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>موجودہ صورتحال اور فیول کی کم یابی کے باعث ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں خاطرخواہ اضافہ دیکھنے میں آیا، اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول بیچنے والے 280 سے 300 روپے فی لیٹر پیٹرول بلیک مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت  258 روپے 43 پیسے فی لیٹر قیمت مقرر کی ہوئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232203"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کراچی سے کوئٹہ پیٹرول کی سپلائی بھی مختلف سڑکوں کی بندش کے باعث متاثر ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، حکومت بلوچستان نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو کسی قسم کی فیول کی قلت کا سامنا نہیں ہے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں  بیشتر  پیٹرول پمپس کھلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے صوبے میں فیول کی کمی کی تردید کی، انہوں نے کہا کہ ایرانی آئل بیچنے والے پیٹرول پمپس حادثات کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>شاہد رند کے مطابق صوبے میں ایرانی آئل سے ملحقہ جگہوں پر 28 مختلف حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں جس میں ایئرپورٹ روڈ اور ہزار گنجی کے بڑے حادثات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انھوں نے کہا نام نہاد فیول کی کمی کو ان لوگوں کی جانب سے  بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جو ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر عائد پابندی کو ختم کرانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ لیگل فیول کی مسلسل اور بر وقت ترسیل اور رسائی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اگر کسی پیٹرول اسٹیشن نے پیٹرول دینے سے منع کیا یا پھر ذخیرہ اندوزی کی تو ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1261771</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Jun 2025 17:19:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/16145902911f853.jpg?r=150129" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/16145902911f853.jpg?r=150129"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
