<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 20:47:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 20:47:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے مسلسل میزائل حملوں سے شہریوں کی حفاظت کیلئے اسرائیل کے بے پناہ اعتماد کو دھچکا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1261787/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مسلسل میزائل حملوں سے اسرائیل کے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے بے پناہ اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے تین راتوں کی مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی اب کسی شک و شبہ میں نہیں رہے کہ ان کی حکومت جو بات مسلسل کہتی آ رہی تھی وہ بالکل سچ تھی کہ ان کا مشہور میزائل دفاعی نظام ’ناقابلِ تسخیر‘ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی ٹیلیگراف کے مطابق ایران کے اسرائیل پر گزشتہ رات براہِ راست حملوں میں اب تک کم از کم 5 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویش ناک بات یہ ہے کہ آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب کے مشرق میں واقع پتاح تکوا کے رہائشی علاقے پر بیلسٹک میزائل گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 2 افراد اُس وقت ایک ’محفوظ جگہ‘ میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزائل کا وارہیڈ 2 مضبوط کمروں کے درمیان عین اُس مقام پر گرا جو کمزور تھا، اور وہ دھماکے کا سامنا نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل گزشتہ راتوں میں (جیسا کہ ماضی کے تنازعات میں بھی دیکھا گیا) یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ راکٹ حملوں کا شکار صرف وہی لوگ بنتے ہیں جو یا تو اپنی مرضی سے یا کسی مجبوری کے تحت سرکاری ہدایت پر عمل کرتے ہوئے محفوظ پناہ گاہ میں نہیں گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان محفوظ کمروں (جو لازماً زیرِ زمین نہیں ہوتے بلکہ بلند عمارتوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں) کی سلامتی پر عوام کا بھروسہ ہی اس بات کی بنیاد ہے کہ وہ جنگ کے ایام کو برداشت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سڑکوں پر ایران کے خلاف مہم کی حمایت خاصی مضبوط محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ اعتماد متزلزل ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تہران کے پاس ممکنہ طور پر اب بھی ایک ہزار سے زائد بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مسلسل میزائل حملوں سے اسرائیل کے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے بے پناہ اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔</p>
<p>ایران کی جانب سے تین راتوں کی مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی اب کسی شک و شبہ میں نہیں رہے کہ ان کی حکومت جو بات مسلسل کہتی آ رہی تھی وہ بالکل سچ تھی کہ ان کا مشہور میزائل دفاعی نظام ’ناقابلِ تسخیر‘ نہیں ہے۔</p>
<p>دی ٹیلیگراف کے مطابق ایران کے اسرائیل پر گزشتہ رات براہِ راست حملوں میں اب تک کم از کم 5 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تشویش ناک بات یہ ہے کہ آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب کے مشرق میں واقع پتاح تکوا کے رہائشی علاقے پر بیلسٹک میزائل گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 2 افراد اُس وقت ایک ’محفوظ جگہ‘ میں موجود تھے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزائل کا وارہیڈ 2 مضبوط کمروں کے درمیان عین اُس مقام پر گرا جو کمزور تھا، اور وہ دھماکے کا سامنا نہ کر سکے۔</p>
<p>اس سے قبل گزشتہ راتوں میں (جیسا کہ ماضی کے تنازعات میں بھی دیکھا گیا) یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ راکٹ حملوں کا شکار صرف وہی لوگ بنتے ہیں جو یا تو اپنی مرضی سے یا کسی مجبوری کے تحت سرکاری ہدایت پر عمل کرتے ہوئے محفوظ پناہ گاہ میں نہیں گئے تھے۔</p>
<p>ان محفوظ کمروں (جو لازماً زیرِ زمین نہیں ہوتے بلکہ بلند عمارتوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں) کی سلامتی پر عوام کا بھروسہ ہی اس بات کی بنیاد ہے کہ وہ جنگ کے ایام کو برداشت کر سکیں۔</p>
<p>اگرچہ سڑکوں پر ایران کے خلاف مہم کی حمایت خاصی مضبوط محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ اعتماد متزلزل ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تہران کے پاس ممکنہ طور پر اب بھی ایک ہزار سے زائد بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1261787</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Jun 2025 17:21:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/1617171605bec1a.jpg?r=172111" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/1617171605bec1a.jpg?r=172111"/>
        <media:title>یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ میزائل حملوں کا نشانہ وہی بنتے ہیں جو محفوظ پناہ گاہوں میں نہیں جاتے
—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
