<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 21:45:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 21:45:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی گجرات میں موسلا دھار بارشیں، حادثات میں 18 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262004/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست گجرات میں  مون سون کی موسلادھار بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں  کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ریاستی حکام کے حوالے سے  رپورٹ  کیا  کہ گجرات کے کچھ حصوں میں پیر کے روز سے موسلا دھار بارشیں ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کے جنوبی علاقوں میں  لوگوں کی مدد کے لیے ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جہاں مزید شدید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گجرات حکومت  کی جانب سے منگل  کی شب جاری بیان میں کہا گیا کہ’ بارش سے متعلقہ واقعات میں 18 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ درجنوں افراد کو نشیبی علاقوں سے ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیموں نے بچالیا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پالیتانہ اور جیسار کے قصبے شامل ہیں، جہاں منگل کے روز گزشتہ 24 گھنٹوں میں 867 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ریلیف کمشنر الوک کمار پانڈے نے بتایا کہ یہ 18 ہلاکتیں طوفان، آسمانی بجلی گرنے اور خراب موسم کی وجہ سے عمارتوں کے گرنے کے باعث ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الوک کمار پانڈے  نے کہا کہ ’  ریاستی حکومت مکمل طور پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، اور فوری امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے بین المحکمانہ رابطے کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچائے جانے والوں میں 18 زرعی مزدور شامل تھے جو گدھادا کے علاقے میں آم کے باغات میں پھنس گئے تھے، اور 22 افراد  کو سورندرنگر ضلع میں ریسکیو کیا گیا جہاں دریائی پانی کے گھروں میں داخل ہونے سے لوگ محصور ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست گجرات میں  مون سون کی موسلادھار بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں  کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ریاستی حکام کے حوالے سے  رپورٹ  کیا  کہ گجرات کے کچھ حصوں میں پیر کے روز سے موسلا دھار بارشیں ہو رہی ہیں۔</p>
<p>ریاست کے جنوبی علاقوں میں  لوگوں کی مدد کے لیے ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جہاں مزید شدید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>گجرات حکومت  کی جانب سے منگل  کی شب جاری بیان میں کہا گیا کہ’ بارش سے متعلقہ واقعات میں 18 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ درجنوں افراد کو نشیبی علاقوں سے ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیموں نے بچالیا۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پالیتانہ اور جیسار کے قصبے شامل ہیں، جہاں منگل کے روز گزشتہ 24 گھنٹوں میں 867 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ریاستی ریلیف کمشنر الوک کمار پانڈے نے بتایا کہ یہ 18 ہلاکتیں طوفان، آسمانی بجلی گرنے اور خراب موسم کی وجہ سے عمارتوں کے گرنے کے باعث ہوئیں۔</p>
<p>الوک کمار پانڈے  نے کہا کہ ’  ریاستی حکومت مکمل طور پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، اور فوری امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے بین المحکمانہ رابطے کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔’</p>
<p>بچائے جانے والوں میں 18 زرعی مزدور شامل تھے جو گدھادا کے علاقے میں آم کے باغات میں پھنس گئے تھے، اور 22 افراد  کو سورندرنگر ضلع میں ریسکیو کیا گیا جہاں دریائی پانی کے گھروں میں داخل ہونے سے لوگ محصور ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262004</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jun 2025 18:41:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/18180128e0103e5.jpg?r=184107" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/18180128e0103e5.jpg?r=184107"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
