<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 04:48:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 04:48:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی وزرائے خارجہ جمعہ کو ایران سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262057/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی وزرائے خارجہ جمعہ کو جنیوا میں ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعہ کو جنیوا میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں یورپی وزرائے خارجہ ایرانی ہم منصب سے سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے،  ایران سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ملاقات پر امریکا کا بھی اتفاق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعہ کے روز جنیوا میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، وزرائے خارجہ پہلے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس سے جنیوا میں جرمن قونصل خانے میں ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جس کے بعد وہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کریں گے، یہ منصوبہ امریکا کی مشاورت اور رضامندی سے طے پایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رافیل گروسی نے بتایا تھا ’ہم نے جو رپورٹ کیا، وہ یہ تھا کہ ہمارے پاس (ایران کی جانب سے) جوہری ہتھیار کی جانب منظم پیش رفت کے کوئی شواہد نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے ایک انٹریو کے دوران واضح کیا کہ ایران کو پُرامن جوہری تنصیبات رکھنے کا حق حاصل تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور یہ تنصیبات اب حملوں کی زد میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے، ان کا کہنا تھا کہ آج ایران بات کرنا چاہ رہا ہے، اس نے دو ہفتے پہلے کیوں بات نہیں کی، ایران سے متعلق اب بہت دیر ہو چکی ہے، اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی وزرائے خارجہ جمعہ کو جنیوا میں ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے۔</p>
<p>غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعہ کو جنیوا میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>تینوں یورپی وزرائے خارجہ ایرانی ہم منصب سے سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے،  ایران سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے ملاقات پر امریکا کا بھی اتفاق ہے۔</p>
<p>جرمن سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعہ کے روز جنیوا میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق، وزرائے خارجہ پہلے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس سے جنیوا میں جرمن قونصل خانے میں ملاقات کریں گے۔</p>
<p>ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جس کے بعد وہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کریں گے، یہ منصوبہ امریکا کی مشاورت اور رضامندی سے طے پایا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل، اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رافیل گروسی نے بتایا تھا ’ہم نے جو رپورٹ کیا، وہ یہ تھا کہ ہمارے پاس (ایران کی جانب سے) جوہری ہتھیار کی جانب منظم پیش رفت کے کوئی شواہد نہیں تھے۔</p>
<p>دوسری جانب، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے ایک انٹریو کے دوران واضح کیا کہ ایران کو پُرامن جوہری تنصیبات رکھنے کا حق حاصل تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور یہ تنصیبات اب حملوں کی زد میں ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے، ان کا کہنا تھا کہ آج ایران بات کرنا چاہ رہا ہے، اس نے دو ہفتے پہلے کیوں بات نہیں کی، ایران سے متعلق اب بہت دیر ہو چکی ہے، اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262057</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 01:50:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/190144462fe1e7e.jpg?r=014529" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/190144462fe1e7e.jpg?r=014529"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
