<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 09:54:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 09:54:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر امریکا کے حملے میں شمولیت غیر قانونی ہو سکتی ہے، برطانوی اٹارنی جنرل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262099/</link>
      <description>&lt;p&gt;سر کیئر اسٹارمر کو برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ رچرڈ ہرمیر کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایران پر امریکا کے حملے میں برطانیہ کی شمولیت غیر قانونی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق اٹارنی جنرل سے منسوب مشورے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ برطانیہ کو اپنی شمولیت کو صرف اپنے اتحادیوں کے دفاع تک محدود رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کوبرا وزارتی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں امریکا کی قیادت میں حملے میں شمولیت کے اختیارات پر بات چیت کی گئی تھی، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ برطانیہ کی صلاحیتیں خلیج میں فضائی اور بحری لاجسٹک مدد فراہم کرنے سے لے کر اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کو مار گرانے یا آبدوزوں سے ایران پر میزائل داغنے تک پھیلی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال کے دوران برطانوی اٹارنی جنرل رچررڈ ہرمیر سے منسوب مشورے کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سر کیئر اسٹارمر کو برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ رچرڈ ہرمیر کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایران پر امریکا کے حملے میں برطانیہ کی شمولیت غیر قانونی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق اٹارنی جنرل سے منسوب مشورے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ برطانیہ کو اپنی شمولیت کو صرف اپنے اتحادیوں کے دفاع تک محدود رکھنا ہوگا۔</p>
<p>گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کوبرا وزارتی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں امریکا کی قیادت میں حملے میں شمولیت کے اختیارات پر بات چیت کی گئی تھی، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے والے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ برطانیہ کی صلاحیتیں خلیج میں فضائی اور بحری لاجسٹک مدد فراہم کرنے سے لے کر اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کو مار گرانے یا آبدوزوں سے ایران پر میزائل داغنے تک پھیلی ہوئی ہیں۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال کے دوران برطانوی اٹارنی جنرل رچررڈ ہرمیر سے منسوب مشورے کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262099</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 15:57:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/19155626764a28f.jpg?r=155753" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/19155626764a28f.jpg?r=155753"/>
        <media:title>مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے دوران برطانوی اٹارنی جنرل کے مشورے کو اہم قرار دیا جارہا ہے
—فائل فوٹو: اسکائی نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
