<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ میں چینی طالبعلم کو خواتین کو نشہ دیکر زیادتی کے جرم میں عمرقید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262136/</link>
      <description>&lt;p&gt;لندن کی عدالت نے چین کے  پوسٹ گریجویٹ طالبعلم  کو برطانیہ اور چین میں 10 خواتین کو نشہ دے کر  ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنےکے جرم میں عمرقید کی سزا سنادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ  ژینہوا ژو کے بارے میں شبہ ہے کہ  اس نے کہیں زیادہ خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے، لندن پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ژینہوا ژو نے ممکنہ طور پر 50 سے زائد دیگر خواتین کو بھی نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژینہوا ژو جسے عدالت میں ’  شکاری صفت مجرم’  قرار دیا گیا، نوجوان چینی خواتین کو نشانہ بناتا تھا جنہیں وہ لندن میں واقع اپنے فلیٹ پر  مے نوشی  یا پڑھائی کے لیے بلاتا، اور پھر انہیں نشہ دے کر زیادتی کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژینہوا ژو  نے نو زیادتیوں کی خفیہ یا ہاتھ سے پکڑی گئی کیمروں سے ویڈیوز بنائیں، مگر صرف دو متاثرہ خواتین کی شناخت ہو سکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انر لندن کراؤن کورٹ میں سزا سناتے ہوئے جج روزینا کاٹیج نے کہا کہ ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زیادتی کی ایک مہم چلائی، جس کے متاثرین پر تباہ کن اور طویل المدتی اثرات مرتب ہوئے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژینہوا ژو  جو عدالت میں سماعت کے دوران سیاہ سوٹ اور عینک پہنے ہوئے تھا، مترجم کی مدد سے سزا خاموشی سے سنتا رہا،  اسے کم از کم 22 سال جیل میں گزارنے ہوں گے، اس میں پہلے سے حراست میں گزارا گیا وقت  بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کالج لندن  کے سابق انجینئرنگ کے طالبعلم کو مارچ میں 28 الزامات میں قصوروار پایا گیا، جن میں 11 زیادتی (جن میں دو ایک ہی خاتون سے متعلق تھے)، 3 معاملات میں خفیہ طور پر ویڈیو بنانا، اور ایک قید میں رکھنے کا الزام شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 2019 سے 2023 کے درمیان لندن میں تین اور چین میں سات خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے کا مجرم پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254909"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خواتین نے عدالت کو اپنے بیانات میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے نفسیاتی صدمے کا سامنا کیا، جن میں ڈراؤنے خواب، خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان اور گہری مایوسی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سزا سنائے جانے کے بعد کراؤن پراسیکیوشن سروس کی سائرہ پائیک نے کہا کہ ژو ایک سیریل ریپسٹ ہے اور خواتین کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیوز اور ویب چیٹس کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جرائم کی منصوبہ بندی بہت باریک بینی سے کی گئی تھی اور ان کی انجام دہی نہایت خوفناک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژو کی سزا کے بعد، برطانیہ کی پولیس کی بین الاقوامی اپیل پر 20 سے زائد خواتین سامنے آئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس کی زیادتی کا شکار ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹ پولیس نے کہا ہے کہ ژو کی سزا کے بعد اب ایک نئی فائل شواہد کی تیاری کی جا رہی ہے، جو جلد ہی پراسیکیوٹرز کو پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لندن کی عدالت نے چین کے  پوسٹ گریجویٹ طالبعلم  کو برطانیہ اور چین میں 10 خواتین کو نشہ دے کر  ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنےکے جرم میں عمرقید کی سزا سنادی۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ  ژینہوا ژو کے بارے میں شبہ ہے کہ  اس نے کہیں زیادہ خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے، لندن پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ژینہوا ژو نے ممکنہ طور پر 50 سے زائد دیگر خواتین کو بھی نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>ژینہوا ژو جسے عدالت میں ’  شکاری صفت مجرم’  قرار دیا گیا، نوجوان چینی خواتین کو نشانہ بناتا تھا جنہیں وہ لندن میں واقع اپنے فلیٹ پر  مے نوشی  یا پڑھائی کے لیے بلاتا، اور پھر انہیں نشہ دے کر زیادتی کرتا۔</p>
<p>ژینہوا ژو  نے نو زیادتیوں کی خفیہ یا ہاتھ سے پکڑی گئی کیمروں سے ویڈیوز بنائیں، مگر صرف دو متاثرہ خواتین کی شناخت ہو سکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انر لندن کراؤن کورٹ میں سزا سناتے ہوئے جج روزینا کاٹیج نے کہا کہ ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زیادتی کی ایک مہم چلائی، جس کے متاثرین پر تباہ کن اور طویل المدتی اثرات مرتب ہوئے۔’</p>
<p>ژینہوا ژو  جو عدالت میں سماعت کے دوران سیاہ سوٹ اور عینک پہنے ہوئے تھا، مترجم کی مدد سے سزا خاموشی سے سنتا رہا،  اسے کم از کم 22 سال جیل میں گزارنے ہوں گے، اس میں پہلے سے حراست میں گزارا گیا وقت  بھی شامل ہے۔</p>
<p>یونیورسٹی کالج لندن  کے سابق انجینئرنگ کے طالبعلم کو مارچ میں 28 الزامات میں قصوروار پایا گیا، جن میں 11 زیادتی (جن میں دو ایک ہی خاتون سے متعلق تھے)، 3 معاملات میں خفیہ طور پر ویڈیو بنانا، اور ایک قید میں رکھنے کا الزام شامل تھا۔</p>
<p>وہ 2019 سے 2023 کے درمیان لندن میں تین اور چین میں سات خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے کا مجرم پایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254909"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>متاثرہ خواتین نے عدالت کو اپنے بیانات میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے نفسیاتی صدمے کا سامنا کیا، جن میں ڈراؤنے خواب، خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان اور گہری مایوسی شامل تھی۔</p>
<p>سزا سنائے جانے کے بعد کراؤن پراسیکیوشن سروس کی سائرہ پائیک نے کہا کہ ژو ایک سیریل ریپسٹ ہے اور خواتین کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیوز اور ویب چیٹس کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جرائم کی منصوبہ بندی بہت باریک بینی سے کی گئی تھی اور ان کی انجام دہی نہایت خوفناک تھی۔</p>
<p>ژو کی سزا کے بعد، برطانیہ کی پولیس کی بین الاقوامی اپیل پر 20 سے زائد خواتین سامنے آئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس کی زیادتی کا شکار ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>میٹ پولیس نے کہا ہے کہ ژو کی سزا کے بعد اب ایک نئی فائل شواہد کی تیاری کی جا رہی ہے، جو جلد ہی پراسیکیوٹرز کو پیش کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262136</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 20:59:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/19205709cd011fb.jpg?r=205952" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/19205709cd011fb.jpg?r=205952"/>
        <media:title>فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
