<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:05:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:05:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ’بنکر بسٹر‘ جی بی یو-57 بموں کی پہلی جنگی کارروائی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262449/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے سب سے طاقت ور بنکر بسٹر بموں کو تاریخ میں پہلی بار  ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1919235/us-bunker-busters-make-their-combat-debut"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسرائیل گزشتہ ایک ہفتے سے ایران پر حملے کر رہا ہے لیکن اس کے پاس نہ تو ’جی بی یو-57‘ بنکر بسٹر بم ہیں جو کہ 13 ہزار 600 کلو گرام وزنی ہے اور جو انتہائی گہرائی میں موجود اہداف کو  نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور نہ ہی ان بموں کو لے جانے والے بمبار طیارہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے سینیئر افسر جنرل ڈین کین نے صحافیوں کو  بتایا کہ اتوار (22 جون) کو امریکی افواج نے بڑے آپریشن میں 14 انتہائی طاقتور بموں کے ذریعے ایرانی کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی غرض سے نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صلاحیتیں" href="#صلاحیتیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صلاحیتیں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکی ملٹری حکام کے مطابق جی بی یو-57 جسے (میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر) بھی کہا جاتا ہے، خصوصی طور ہر 200 فٹ (60 میٹر) کی گہرائی میں موجود ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی بی یو-57 بم عام میزائل اور بموں سے جو کہ ہدف پر ٹکرانے سے قبل یا پھر ہدف کے ساتھ ٹکراتے ہی پھٹ جاتے ہیں ان سے کافی مختلف ہے، یہ خطرناک ہتھیار  گہرائی میں جا کر مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/06/231044402d727df.jpg'  alt=' &amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کے تحقیقی مرکز سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹیڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مساؤ ڈہلگرین نے بتایا کہ اس طرح کے انتہائی گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اس بم (جی بی یو 57) کو خصوصی طور پر بنایا گیا ہے جس کی انتہائی موٹی اور مضبوط اسٹیل کی باڈی ہوتی ہے، تاکہ یہ ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے مضبوط چٹانوں کو توڑ کر اپنا راستہ بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مساؤ ڈہلگرین نے مزید بتایا کہ 6.6 میٹر لمبے جی بی یو-57 بم میں ایک خصوصی فیوز ہوتا ہے کیونکہ آپ کو ایک ایسے بم کی ضرورت ہے جو ہدف سے قبل سامنے آنے والے دباؤ اور پریشر کے باعث فوری طور پر نہ پھٹ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینئر ملٹری افسر جنرل ڈین کین نے مزید بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کیا کچھ بچا ہوا ہے اس پر فوری طور پر رائے قائم نہیں کر سکتا، لیکن ابتدائی تخمینے اور نقصانات کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران کی تینوں جوہری سائٹس کو شدید تباہی اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تعیناتی" href="#تعیناتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تعیناتی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جی بی یو-57 بم کو استعمال کرنے کے قابل واحد بمبار طیارہ بی-2 اسپرٹ ہے، جو کہ اسٹیلتھ بمبار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مساؤ ڈہلگرین نے بتایا کہ طویل رینج تک ہدف کو ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بی ٹو بمبار طیاروں نے امریکا سے اپنی اڑان بھری اور یہ سیدھے بم گرانے کے لیے مشرق وسطیٰ پہنچے اور یہ اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ملٹری حکام نے بتایا کہ ایران پر حملوں کے لیے 7 بی ٹو بمبار طیاروں کو استعمال کیا گیا ہے، یہ بمبار طیارے ہدف کو ہٹ کرنے کے لیے 9 ہزار 600 کلو میٹر کا سفر بغیر کسی ری فیولنگ کے کر سکتے ہیں اور انہیں دشمن کے جدید دفاعی نظام کو توڑنے، قیمتی اور مضبوط دفاع کے حامل اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262436"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ کہ یہ امریکا کی تاریخ میں بی ٹو کا سب سے بڑا آپریشنل حملہ تھا اور اب تک کا دوسرا طویل ترین بی ٹو مشن بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل ڈین کین کے مطابق کچھ بی ٹو بمبار طیارے مغرب کی جانب بحرالکاہل کے اوپر سے بھیجے گئے جبکہ جن طیاروں نے حملہ کرنا تھا انہیں مشرق کی جانب سے بھیجا گیا، یہ اقدام مکمل طور پر دشمن کو دھوکا دینا کی ایک کوشش تھی اور اس بارے میں صرف چند منصوبہ سازوں اور اہم رہنماؤں کو علم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="امیجری" href="#امیجری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امیجری&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;میکینزے انٹیلی جنس سروسز کے سینیئر امیجری تجزیہ نگار اسٹو رے  نے ’بی بی سی ویریفائی‘ کو بتایا کہ ’حملے کے بعد آپ جوہری تنصیب کے داخلے راستے پر زیادہ تباہی کے آثار نہیں دیکھ سکتے لیکن چونکہ اس بم کو گہرائی میں ٹارگٹ کرنے کے لیے بنایا گیا تو ممکن ہے اس نے گہرائی میں اپنے ہدف کو نشانہ بنایا ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تین مختلف اقسام کے بموں کو 2 علیحدہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پھینکا گیا ہے، زمین پر بم دھماکوں کے نتیجے میں کنکریٹ کے سرمئی رنگ کے ملبے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے سب سے طاقت ور بنکر بسٹر بموں کو تاریخ میں پہلی بار  ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1919235/us-bunker-busters-make-their-combat-debut"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسرائیل گزشتہ ایک ہفتے سے ایران پر حملے کر رہا ہے لیکن اس کے پاس نہ تو ’جی بی یو-57‘ بنکر بسٹر بم ہیں جو کہ 13 ہزار 600 کلو گرام وزنی ہے اور جو انتہائی گہرائی میں موجود اہداف کو  نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور نہ ہی ان بموں کو لے جانے والے بمبار طیارہ۔</p>
<p>امریکی فوج کے سینیئر افسر جنرل ڈین کین نے صحافیوں کو  بتایا کہ اتوار (22 جون) کو امریکی افواج نے بڑے آپریشن میں 14 انتہائی طاقتور بموں کے ذریعے ایرانی کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی غرض سے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="صلاحیتیں" href="#صلاحیتیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صلاحیتیں</h1>
<p>امریکی ملٹری حکام کے مطابق جی بی یو-57 جسے (میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر) بھی کہا جاتا ہے، خصوصی طور ہر 200 فٹ (60 میٹر) کی گہرائی میں موجود ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>جی بی یو-57 بم عام میزائل اور بموں سے جو کہ ہدف پر ٹکرانے سے قبل یا پھر ہدف کے ساتھ ٹکراتے ہی پھٹ جاتے ہیں ان سے کافی مختلف ہے، یہ خطرناک ہتھیار  گہرائی میں جا کر مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/06/231044402d727df.jpg'  alt=' &mdash; فوٹو: اے ایف پی ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>واشنگٹن کے تحقیقی مرکز سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹیڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مساؤ ڈہلگرین نے بتایا کہ اس طرح کے انتہائی گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اس بم (جی بی یو 57) کو خصوصی طور پر بنایا گیا ہے جس کی انتہائی موٹی اور مضبوط اسٹیل کی باڈی ہوتی ہے، تاکہ یہ ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے مضبوط چٹانوں کو توڑ کر اپنا راستہ بنا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مساؤ ڈہلگرین نے مزید بتایا کہ 6.6 میٹر لمبے جی بی یو-57 بم میں ایک خصوصی فیوز ہوتا ہے کیونکہ آپ کو ایک ایسے بم کی ضرورت ہے جو ہدف سے قبل سامنے آنے والے دباؤ اور پریشر کے باعث فوری طور پر نہ پھٹ سکے۔</p>
<p>امریکی سینئر ملٹری افسر جنرل ڈین کین نے مزید بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کیا کچھ بچا ہوا ہے اس پر فوری طور پر رائے قائم نہیں کر سکتا، لیکن ابتدائی تخمینے اور نقصانات کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران کی تینوں جوہری سائٹس کو شدید تباہی اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<h1><a id="تعیناتی" href="#تعیناتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تعیناتی</h1>
<p>جی بی یو-57 بم کو استعمال کرنے کے قابل واحد بمبار طیارہ بی-2 اسپرٹ ہے، جو کہ اسٹیلتھ بمبار ہیں۔</p>
<p>مساؤ ڈہلگرین نے بتایا کہ طویل رینج تک ہدف کو ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بی ٹو بمبار طیاروں نے امریکا سے اپنی اڑان بھری اور یہ سیدھے بم گرانے کے لیے مشرق وسطیٰ پہنچے اور یہ اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔</p>
<p>امریکی ملٹری حکام نے بتایا کہ ایران پر حملوں کے لیے 7 بی ٹو بمبار طیاروں کو استعمال کیا گیا ہے، یہ بمبار طیارے ہدف کو ہٹ کرنے کے لیے 9 ہزار 600 کلو میٹر کا سفر بغیر کسی ری فیولنگ کے کر سکتے ہیں اور انہیں دشمن کے جدید دفاعی نظام کو توڑنے، قیمتی اور مضبوط دفاع کے حامل اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بنایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262436"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ کہ یہ امریکا کی تاریخ میں بی ٹو کا سب سے بڑا آپریشنل حملہ تھا اور اب تک کا دوسرا طویل ترین بی ٹو مشن بھی۔</p>
<p>جنرل ڈین کین کے مطابق کچھ بی ٹو بمبار طیارے مغرب کی جانب بحرالکاہل کے اوپر سے بھیجے گئے جبکہ جن طیاروں نے حملہ کرنا تھا انہیں مشرق کی جانب سے بھیجا گیا، یہ اقدام مکمل طور پر دشمن کو دھوکا دینا کی ایک کوشش تھی اور اس بارے میں صرف چند منصوبہ سازوں اور اہم رہنماؤں کو علم تھا۔</p>
<h1><a id="امیجری" href="#امیجری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امیجری</h1>
<p>میکینزے انٹیلی جنس سروسز کے سینیئر امیجری تجزیہ نگار اسٹو رے  نے ’بی بی سی ویریفائی‘ کو بتایا کہ ’حملے کے بعد آپ جوہری تنصیب کے داخلے راستے پر زیادہ تباہی کے آثار نہیں دیکھ سکتے لیکن چونکہ اس بم کو گہرائی میں ٹارگٹ کرنے کے لیے بنایا گیا تو ممکن ہے اس نے گہرائی میں اپنے ہدف کو نشانہ بنایا ہو‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تین مختلف اقسام کے بموں کو 2 علیحدہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پھینکا گیا ہے، زمین پر بم دھماکوں کے نتیجے میں کنکریٹ کے سرمئی رنگ کے ملبے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262449</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 11:23:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/2310444918352cb.jpg?r=111427" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/2310444918352cb.jpg?r=111427"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: امریکی ایئرفورس/اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
