<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 14:41:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 14:41:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر فلسطینیوں کا قتل عام جاری، مزید 41 شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262684/</link>
      <description>&lt;p&gt;غزہ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے، آج مزید 41 فلسطینی اسرائیلی درندگی کا نشانہ بن گئے جن میں کم ازکم 14 افراد کو امدادی مراکز کے قریب شہید کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ کے اسپتالوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو صبح سے اب تک اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں کم از کم 41 افراد کو شہید کر دیا ہے، جن میں 14 افراد امدادی مراکز کے قریب جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کے مطابق یہ غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے زیرِ انتظام امدادی مراکز  اسرائیلی افواج کے قریب قائم کیے گئے ہیں، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور اسنائپرز تعینات ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بڑی تعداد میں لوگ امداد کے حصول کے لیے ان مراکز پر جمع ہوتے ہیں تو وہ اسرائیلی فائرنگ کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262649"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک طور پر ان امدادی مراکز پر لوگوں کو امداد کے حصول کے لیے صرف 20 منٹ دیے جاتے ہیں اور جیسے ہی یہ مختصر وقت ختم ہوتا ہے، اکثر فائرنگ شروع ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ شہید ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرے کے باوجود لوگ وہاں جانے پر مجبور ہیں، کیونکہ اگر وہ نہ جائیں تو ان کے بچوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="امداد-کے-حصول-کے-دوران-کم-ازکم-410-فلسطینی-شہید-ہوچکے" href="#امداد-کے-حصول-کے-دوران-کم-ازکم-410-فلسطینی-شہید-ہوچکے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امداد کے حصول کے دوران کم ازکم 410 فلسطینی شہید ہوچکے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کے روز بتایا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں متنازع نجی امدادی مراکز کے قریب امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 410 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ دفتر کے مطابق یہ اموات ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے ان امدادی مراکز کو تنازع کی زد میں آنے والے مقامات قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کو اس طرح کے خطرناک حالات میں امداد کے لیے مجبور کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>غزہ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے، آج مزید 41 فلسطینی اسرائیلی درندگی کا نشانہ بن گئے جن میں کم ازکم 14 افراد کو امدادی مراکز کے قریب شہید کیا گیا۔</p>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ کے اسپتالوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو صبح سے اب تک اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں کم از کم 41 افراد کو شہید کر دیا ہے، جن میں 14 افراد امدادی مراکز کے قریب جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>الجزیرہ کے مطابق یہ غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے زیرِ انتظام امدادی مراکز  اسرائیلی افواج کے قریب قائم کیے گئے ہیں، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور اسنائپرز تعینات ہوتے ہیں۔</p>
<p>جب بڑی تعداد میں لوگ امداد کے حصول کے لیے ان مراکز پر جمع ہوتے ہیں تو وہ اسرائیلی فائرنگ کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262649"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تشویشناک طور پر ان امدادی مراکز پر لوگوں کو امداد کے حصول کے لیے صرف 20 منٹ دیے جاتے ہیں اور جیسے ہی یہ مختصر وقت ختم ہوتا ہے، اکثر فائرنگ شروع ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ شہید ہو رہے ہیں۔</p>
<p>خطرے کے باوجود لوگ وہاں جانے پر مجبور ہیں، کیونکہ اگر وہ نہ جائیں تو ان کے بچوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔</p>
<h1><a id="امداد-کے-حصول-کے-دوران-کم-ازکم-410-فلسطینی-شہید-ہوچکے" href="#امداد-کے-حصول-کے-دوران-کم-ازکم-410-فلسطینی-شہید-ہوچکے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امداد کے حصول کے دوران کم ازکم 410 فلسطینی شہید ہوچکے</h1>
<p>اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کے روز بتایا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں متنازع نجی امدادی مراکز کے قریب امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 410 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ دفتر کے مطابق یہ اموات ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے ان امدادی مراکز کو تنازع کی زد میں آنے والے مقامات قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کو اس طرح کے خطرناک حالات میں امداد کے لیے مجبور کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262684</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 16:36:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/25163337154e4ae.jpg?r=163627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/25163337154e4ae.jpg?r=163627"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/2516333725e5456.jpg?r=163627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/2516333725e5456.jpg?r=163627"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/251633372bb6d02.jpg?r=163627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/251633372bb6d02.jpg?r=163627"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/25163337030b20d.jpg?r=163627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/25163337030b20d.jpg?r=163627"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
