<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:31:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:31:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اطالوی سپر مارکیٹ چین نے اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262745/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک اطالوی سپر مارکیٹ چین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں جنگ اور بھوک سے متاثرہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1920173/italian-supermarket-chain-stops-selling-israeli-products"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ کسی بڑے اطالوی فوڈ ریٹیلر کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ’کوپ الیانزا 3.0‘ نامی چین اب اپنی شیلفز سے اسرائیلی مونگ پھلی، تہینی ساس اور سوڈا اسٹیم کمپنی کی مصنوعات ہٹا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ کے عوام کے ساتھ مزید یکجہتی کے طور پر اب ان سپر مارکیٹس میں فلسطین نواز ’غزہ کولا‘ مشروب بھی فروخت کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262684"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوپ الیانزا 3.0، کوپ اٹالیا نیٹ ورک میں سب سے بڑی کمپنی ہے، جو شمالی فریولی-وینیزیا جولیا سے لے کر جنوبی پولیا تک اٹلی کے 8 علاقوں میں تقریباً 350 اسٹورز پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ہم غزہ کی پٹی میں جاری تشدد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اور ہم فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے متحد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلورنس اور وسطی اٹلی کے علاقے توسکانی، لازیو اور امبریا میں واقع کوپ سپر مارکیٹ چینز نے بھی اب اسرائیلی مصنوعات ذخیرہ کرنا بند کر دی ہیں تاہم، ترجمانوں نے  وضاحت کی کہ یہ اقدام اسرائیلی مصنوعات پر باضابطہ بائیکاٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر بعض ریٹیلرز اور صارفین کی جانب سے احتجاج سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز برطانیہ کی فوڈ ریٹیل کمپنی کو-اوپ گروپ جو اٹلی کے ’کوپ‘ سے الگ ادارہ ہے، نے بھی اعلان کیا کہ وہ اب اسرائیل سمیت ان 16 ممالک سے مصنوعات نہیں خریدے گی جہاں انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک اطالوی سپر مارکیٹ چین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں جنگ اور بھوک سے متاثرہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کر دی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1920173/italian-supermarket-chain-stops-selling-israeli-products"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ کسی بڑے اطالوی فوڈ ریٹیلر کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق ’کوپ الیانزا 3.0‘ نامی چین اب اپنی شیلفز سے اسرائیلی مونگ پھلی، تہینی ساس اور سوڈا اسٹیم کمپنی کی مصنوعات ہٹا دے گی۔</p>
<p>بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ کے عوام کے ساتھ مزید یکجہتی کے طور پر اب ان سپر مارکیٹس میں فلسطین نواز ’غزہ کولا‘ مشروب بھی فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262684"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کوپ الیانزا 3.0، کوپ اٹالیا نیٹ ورک میں سب سے بڑی کمپنی ہے، جو شمالی فریولی-وینیزیا جولیا سے لے کر جنوبی پولیا تک اٹلی کے 8 علاقوں میں تقریباً 350 اسٹورز پر مشتمل ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق ہم غزہ کی پٹی میں جاری تشدد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اور ہم فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے متحد ہیں۔</p>
<p>فلورنس اور وسطی اٹلی کے علاقے توسکانی، لازیو اور امبریا میں واقع کوپ سپر مارکیٹ چینز نے بھی اب اسرائیلی مصنوعات ذخیرہ کرنا بند کر دی ہیں تاہم، ترجمانوں نے  وضاحت کی کہ یہ اقدام اسرائیلی مصنوعات پر باضابطہ بائیکاٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔</p>
<p>غزہ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر بعض ریٹیلرز اور صارفین کی جانب سے احتجاج سامنے آیا ہے۔</p>
<p>اسی روز برطانیہ کی فوڈ ریٹیل کمپنی کو-اوپ گروپ جو اٹلی کے ’کوپ‘ سے الگ ادارہ ہے، نے بھی اعلان کیا کہ وہ اب اسرائیل سمیت ان 16 ممالک سے مصنوعات نہیں خریدے گی جہاں انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262745</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 13:43:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/2611170732cbe3c.jpg?r=111845" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/2611170732cbe3c.jpg?r=111845"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: یورپین فوڈ ایجنسی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
