<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 08:12:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 08:12:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصروف صارفین کیلئے خوشخبری، واٹس ایپ نے خلاصے کا فیچر متعارف کرادیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262780/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر آپ بھی ان صارفین میں شامل ہیں جو روزانہ درجنوں پیغامات کے باعث چیٹس پڑھنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے، تو واٹس ایپ نے آپ کے لیے بڑی آسانی متعارف کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کی زیرِ ملکیت معروف پیغام رسانی ایپ ’واٹس ایپ‘ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نیا فیچر متعارف کروا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/06/25/meta-is-adding-ai-powered-summaries-to-whatsapp/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین اب ایسے پیغامات کا خلاصہ حاصل کر سکیں گے جو انہوں نے ابھی تک نہیں پڑھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر میں میٹا اے آئی کے استعمال سے ذاتی اور گروپ چیٹس میں موجود اَن ریڈ پیغامات کا خلاصہ کم الفاظ میں پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سہولت کی بدولت صارفین کو طویل پیغامات پڑھنے یا بار بار اسکرول کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ فوری طور پر گفتگو کا مرکزی نکتہ جان سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے مطابق، یہ فیچر ’پرائیوٹ پروسیسنگ‘ نامی ٹیکنالوجی کے تحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد صارفین کے پیغامات اور ان کے خلاصوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نہ میٹا اور نہ ہی واٹس ایپ ان پیغامات یا تیار کردہ خلاصوں تک رسائی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ، اے آئی ماڈلز بھی ان خلاصوں کو محفوظ نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے کچھ سیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر صارفین کی مرضی پر منحصر ہوگا، یعنی اگر وہ چاہیں تو اسے فعال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین اسے خود ’ایڈوانس چیٹ پرائیویسی‘ سیٹنگز میں جا کر آن کر سکیں گے اور یہ بھی طے کر سکیں گے کہ کون سی چیٹس میں یہ خلاصہ سازی کی سہولت استعمال کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جو مصروف شیڈول کے باعث طویل چیٹس کو مکمل طور پر پڑھنے کا وقت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال یہ فیچر امریکا میں متعارف کرایا گیا ہے، تاہم سال کے آخر تک اسے دیگر زبانوں اور ممالک تک توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر آپ بھی ان صارفین میں شامل ہیں جو روزانہ درجنوں پیغامات کے باعث چیٹس پڑھنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے، تو واٹس ایپ نے آپ کے لیے بڑی آسانی متعارف کرا دی ہے۔</p>
<p>میٹا کی زیرِ ملکیت معروف پیغام رسانی ایپ ’واٹس ایپ‘ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نیا فیچر متعارف کروا دیا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://techcrunch.com/2025/06/25/meta-is-adding-ai-powered-summaries-to-whatsapp/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین اب ایسے پیغامات کا خلاصہ حاصل کر سکیں گے جو انہوں نے ابھی تک نہیں پڑھے۔</p>
<p>اس فیچر میں میٹا اے آئی کے استعمال سے ذاتی اور گروپ چیٹس میں موجود اَن ریڈ پیغامات کا خلاصہ کم الفاظ میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>اس سہولت کی بدولت صارفین کو طویل پیغامات پڑھنے یا بار بار اسکرول کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ فوری طور پر گفتگو کا مرکزی نکتہ جان سکیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میٹا کے مطابق، یہ فیچر ’پرائیوٹ پروسیسنگ‘ نامی ٹیکنالوجی کے تحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد صارفین کے پیغامات اور ان کے خلاصوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نہ میٹا اور نہ ہی واٹس ایپ ان پیغامات یا تیار کردہ خلاصوں تک رسائی رکھتے ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ، اے آئی ماڈلز بھی ان خلاصوں کو محفوظ نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے کچھ سیکھتے ہیں۔</p>
<p>یہ فیچر صارفین کی مرضی پر منحصر ہوگا، یعنی اگر وہ چاہیں تو اسے فعال کر سکتے ہیں۔</p>
<p>صارفین اسے خود ’ایڈوانس چیٹ پرائیویسی‘ سیٹنگز میں جا کر آن کر سکیں گے اور یہ بھی طے کر سکیں گے کہ کون سی چیٹس میں یہ خلاصہ سازی کی سہولت استعمال کی جائے۔</p>
<p>یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جو مصروف شیڈول کے باعث طویل چیٹس کو مکمل طور پر پڑھنے کا وقت نہیں رکھتے۔</p>
<p>فی الحال یہ فیچر امریکا میں متعارف کرایا گیا ہے، تاہم سال کے آخر تک اسے دیگر زبانوں اور ممالک تک توسیع دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262780</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 17:15:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/26170211d48033d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/26170211d48033d.jpg"/>
        <media:title>—میٹا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
