<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 14:50:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 14:50:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک خاندان کے 13 سیاح پانی میں بہہ گئے، خیبرپختونخوا حکومت سوتی رہ گئی، عظمیٰ بخاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262867/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی خاندان کے 13 افراد پانی میں ڈوب گئے اور صوبائی حکومت سوتی رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر اپنے رد عمل میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل، مشینری اور ریسکیو ٹیمیں صرف وفاق اور پنجاب پر چڑھائی کے لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پانی میں بہنے والے سیاح 2 گھنٹے امداد کے منتظر رہے لیکن صوبائی حکومت سیاحوں کی مدد کو نہیں پہنچی اور نہ ہی علی امین گنڈا پور کا ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر گیا جس کے نتیجے میں 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں اور 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا جب کہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ اور مردان سے تعلق رکھنے والی 3 فیملیز دریا کے کنارے بجری کے ایک ٹیلے پر ناشتہ کر رہی تھیں، جو غیر قانونی طور پر کھودا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہیند نے بتایا کہ اچانک دریا میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور وہ ٹیلہ چاروں طرف سے پانی میں گھِر گیا، وہ لوگ دریا کے کنارے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ درمیان میں گہرے گڑھے تھے اور پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی خاندان کے 13 افراد پانی میں ڈوب گئے اور صوبائی حکومت سوتی رہ گئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر اپنے رد عمل میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل، مشینری اور ریسکیو ٹیمیں صرف وفاق اور پنجاب پر چڑھائی کے لیے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پانی میں بہنے والے سیاح 2 گھنٹے امداد کے منتظر رہے لیکن صوبائی حکومت سیاحوں کی مدد کو نہیں پہنچی اور نہ ہی علی امین گنڈا پور کا ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچ سکا۔</p>
<p>واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر گیا جس کے نتیجے میں 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں، 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں اور 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا جب کہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ اور مردان سے تعلق رکھنے والی 3 فیملیز دریا کے کنارے بجری کے ایک ٹیلے پر ناشتہ کر رہی تھیں، جو غیر قانونی طور پر کھودا گیا تھا۔</p>
<p>عینی شاہیند نے بتایا کہ اچانک دریا میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور وہ ٹیلہ چاروں طرف سے پانی میں گھِر گیا، وہ لوگ دریا کے کنارے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ درمیان میں گہرے گڑھے تھے اور پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262867</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 18:24:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/2718235854a6b08.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/2718235854a6b08.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
