<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:25:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:25:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی کا ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262869/</link>
      <description>&lt;p&gt;جرمن چانسلر  فریڈرک میرٹس  نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2025/6/27/live-israel-kills-over-70-in-gaza-as-549-killed-seeking-aid-in-past-month?update=3803383"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس نے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برلن میں آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فریڈرک میرٹس نے کہا کہ تہران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں نے ’ کافی نقصان پہنچایا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر جاری تنازع کو مزید نہیں بڑھانا چاہیے، ہم خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262775"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریا کے رہنما اسٹاکر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ’ ایک اہم پہلا قدم’  ہے جس کے بعد سفارتکاری کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آی اے ای اے ) کے ساتھ تعاون جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ نگرانی کا نظام غیر فعال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا غیر یقینی صورتحال کی طرف ایک اور قدم ہوگا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسرائیل سے جنگ کے دوران امریکا کی جانب  سے فردو  نیوکلیئر سائٹ کو نشانہ بنائے جانے اور بعدازاں جنگ بندی کے بعد ایران کی پارلیمان نے اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے ساتھ  تعاون معطل کرنے  کی منظوری  دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمان کی منظوری کے ایک روز بعد یعنی گذشتہ روز  نگہبان شوریٰ نے بھی اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کے قانون کی توثیق کردی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جرمن چانسلر  فریڈرک میرٹس  نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2025/6/27/live-israel-kills-over-70-in-gaza-as-549-killed-seeking-aid-in-past-month?update=3803383">رپورٹ</a></strong> کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس نے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔</p>
<p>برلن میں آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فریڈرک میرٹس نے کہا کہ تہران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں نے ’ کافی نقصان پہنچایا ہے۔’</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر جاری تنازع کو مزید نہیں بڑھانا چاہیے، ہم خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262775"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آسٹریا کے رہنما اسٹاکر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ’ ایک اہم پہلا قدم’  ہے جس کے بعد سفارتکاری کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آی اے ای اے ) کے ساتھ تعاون جاری رکھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ نگرانی کا نظام غیر فعال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا غیر یقینی صورتحال کی طرف ایک اور قدم ہوگا۔’</p>
<p>واضح رہے کہ اسرائیل سے جنگ کے دوران امریکا کی جانب  سے فردو  نیوکلیئر سائٹ کو نشانہ بنائے جانے اور بعدازاں جنگ بندی کے بعد ایران کی پارلیمان نے اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے ساتھ  تعاون معطل کرنے  کی منظوری  دی تھی۔</p>
<p>ایرانی پارلیمان کی منظوری کے ایک روز بعد یعنی گذشتہ روز  نگہبان شوریٰ نے بھی اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کے قانون کی توثیق کردی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262869</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 18:52:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/27185107cfca2bb.jpg?r=185228" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/27185107cfca2bb.jpg?r=185228"/>
        <media:title>فوٹو :  اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
