<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 19:39:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 05 Aug 2026 19:39:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بعد ممبئی کی مساجد ایپ استعمال کرنے پر مجبور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263349/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کے بعد وہاں کی مساجد اذان کے لیے موبائل ایپلی کیشن استعمال کرنے لگ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.thehindu.com/news/cities/mumbai/sound-of-innovation-mumbai-mosques-go-digital-with-azan-app-to-overcome-loudspeaker-curbs/article69750884.ece"&gt;&lt;strong&gt;’دی ہندو‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پولیس نے مساجد کو روکا تھا، جس کے بعد مساجد منتظمین کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبئی بھر کی نصف درجن مساجد نے اذان آن لائن نامی ایپلی کیشن کا استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ نمازیوں کو ریئل ٹائم اذان سنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1060613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ایپلی کیشن ریاست تامل ناڈو کے مسلمان انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہرین نے تیار کی ہے جو کہ نمازیوں کو اذان ہونے کے وقت ریئل ٹائم میں اذان سنننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ایپلی کیشن کے ذریعے مساجد کو رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، جس کے بعد مذکورہ مساجد کے ارد گرد کے نمازی مسجد کے اذان کے وقت اپنے موبائل پر ریئل ٹائم میں اذان سن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپلی کیشن فیچرز کے تحت نمازیوں کو بھی ایپلی کیشن میں رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، انہیں اپنے علاقے اور مسجد کا نام بھی مینشن کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر موبائل میں اذان سننے کو ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن کیرت سومیا نے مہم شروع کی تھی اور انہوں نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو صوتی آلودگی سے جوڑا تھا، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم کے بعد مساجد سے 1500 سے لاؤڈ اسپیکرز اتارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/05/62780d9650a33.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی مہم کے خلاف مسلم علما نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا اور عدالت نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ایک حد تک استعمال صوتی آلودگی میں شمار نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق مساجد میں دن کے وقت لاؤڈ اسپیکرز کی اسپیڈ 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل تک ہو تو پھر وہ صوتی آلودگی کا سبب نہیں بنتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے بعد ممبئی پولیس نے مساجد منتظمین کو بلیک میل کرنا شروع کیا اور ان پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو ترک کرنے کا دباؤ بھی ڈالتی رہی، جس کے بعد مساجد منتظمین نے ایپلی کیشن کے استعمال کو بہتر آپشن سمجھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کے بعد وہاں کی مساجد اذان کے لیے موبائل ایپلی کیشن استعمال کرنے لگ گئیں۔</p>
<p>بھارتی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.thehindu.com/news/cities/mumbai/sound-of-innovation-mumbai-mosques-go-digital-with-azan-app-to-overcome-loudspeaker-curbs/article69750884.ece"><strong>’دی ہندو‘</strong></a> کے مطابق ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پولیس نے مساجد کو روکا تھا، جس کے بعد مساجد منتظمین کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔</p>
<p>ممبئی بھر کی نصف درجن مساجد نے اذان آن لائن نامی ایپلی کیشن کا استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ نمازیوں کو ریئل ٹائم اذان سنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1060613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ ایپلی کیشن ریاست تامل ناڈو کے مسلمان انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہرین نے تیار کی ہے جو کہ نمازیوں کو اذان ہونے کے وقت ریئل ٹائم میں اذان سنننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>مذکورہ ایپلی کیشن کے ذریعے مساجد کو رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، جس کے بعد مذکورہ مساجد کے ارد گرد کے نمازی مسجد کے اذان کے وقت اپنے موبائل پر ریئل ٹائم میں اذان سن سکتے ہیں۔</p>
<p>ایپلی کیشن فیچرز کے تحت نمازیوں کو بھی ایپلی کیشن میں رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، انہیں اپنے علاقے اور مسجد کا نام بھی مینشن کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر موبائل میں اذان سننے کو ملتی ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن کیرت سومیا نے مہم شروع کی تھی اور انہوں نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو صوتی آلودگی سے جوڑا تھا، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم کے بعد مساجد سے 1500 سے لاؤڈ اسپیکرز اتارے جا چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/05/62780d9650a33.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کی مہم کے خلاف مسلم علما نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا اور عدالت نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ایک حد تک استعمال صوتی آلودگی میں شمار نہیں ہوتا۔</p>
<p>عدالت کے مطابق مساجد میں دن کے وقت لاؤڈ اسپیکرز کی اسپیڈ 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل تک ہو تو پھر وہ صوتی آلودگی کا سبب نہیں بنتے۔</p>
<p>عدالتی فیصلے کے بعد ممبئی پولیس نے مساجد منتظمین کو بلیک میل کرنا شروع کیا اور ان پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو ترک کرنے کا دباؤ بھی ڈالتی رہی، جس کے بعد مساجد منتظمین نے ایپلی کیشن کے استعمال کو بہتر آپشن سمجھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263349</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Jul 2025 16:46:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/04161555bf76582.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/04161555bf76582.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: دی ہندو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
