<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:36:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 13:36:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں جہاز پر مسلح افراد کا حملہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263469/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی فوج کے زیر نگرانی ایک گروپ کا کہنا ہے کہ یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں ایک جہاز پر مسلح افراد نے بندوقوں اور راکٹ لانچروں سے حملہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;العریبیہ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.alarabiya.net/News/gulf/2025/07/06/ukmto-says-received-report-of-an-incident-near-yemen-s-hodeidah"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں ہوا ہے، جہاں امریکا ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے  کیے تھے، فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ جہاز پر موجود مسلح سیکیورٹی ٹیم نے جوابی فائرنگ کی ہے ، بیان میں کہا گیا کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری ٹائم سیکیورٹی فرم ’ امبری ’ نے ایک انتباہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ایک تجارتی جہاز پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ بحیرہ احمر میں شمال کی طرف سفر کر رہا تھا،  فرم کے مطابق جہاز پر آٹھ کشتیوں (اسکفز) سے حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263454"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے حوثی باغی اس خطے میں کمرشل اور فوجی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے اسرائیل کے غزہ پر حملے ختم کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  نومبر 2023 سے جنوری 2025 تک حوثیوں نے 100 سے زیادہ تجارتی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، جن میں سے دو جہاز ڈوب گئے اور چار ملاح ہلاک ہوئے،  اس کے نتیجے میں بحیرہ احمر کے ذریعے تجارت کا  سلسلہ شدید متاثر ہوا، اس راستے سے ہر سال تقریباً ایک کھرب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے امریکا  کی جانب سے مارچ کے وسط میں  بڑےپیمانےپر ہونے والے حملوں کے بعد اپنی کارروائیاں ایک خود ساختہ جنگ بندی کے تحت روک دی تھیں، اس کے بعد یہ حملے چند ہفتوں میں ختم ہو گئے اور حوثیوں نے دوبارہ کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، تاہم اسرائیل پر میزائل حملے وقتاً فوقتاً جاری رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی فوج کے زیر نگرانی ایک گروپ کا کہنا ہے کہ یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں ایک جہاز پر مسلح افراد نے بندوقوں اور راکٹ لانچروں سے حملہ کیا ہے۔</p>
<p>العریبیہ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.alarabiya.net/News/gulf/2025/07/06/ukmto-says-received-report-of-an-incident-near-yemen-s-hodeidah">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں ہوا ہے، جہاں امریکا ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے  کیے تھے، فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔</p>
<p>یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ جہاز پر موجود مسلح سیکیورٹی ٹیم نے جوابی فائرنگ کی ہے ، بیان میں کہا گیا کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔</p>
<p>میری ٹائم سیکیورٹی فرم ’ امبری ’ نے ایک انتباہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ایک تجارتی جہاز پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ بحیرہ احمر میں شمال کی طرف سفر کر رہا تھا،  فرم کے مطابق جہاز پر آٹھ کشتیوں (اسکفز) سے حملہ کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263454"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یمن کے حوثی باغی اس خطے میں کمرشل اور فوجی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے اسرائیل کے غزہ پر حملے ختم کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ  نومبر 2023 سے جنوری 2025 تک حوثیوں نے 100 سے زیادہ تجارتی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، جن میں سے دو جہاز ڈوب گئے اور چار ملاح ہلاک ہوئے،  اس کے نتیجے میں بحیرہ احمر کے ذریعے تجارت کا  سلسلہ شدید متاثر ہوا، اس راستے سے ہر سال تقریباً ایک کھرب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے امریکا  کی جانب سے مارچ کے وسط میں  بڑےپیمانےپر ہونے والے حملوں کے بعد اپنی کارروائیاں ایک خود ساختہ جنگ بندی کے تحت روک دی تھیں، اس کے بعد یہ حملے چند ہفتوں میں ختم ہو گئے اور حوثیوں نے دوبارہ کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، تاہم اسرائیل پر میزائل حملے وقتاً فوقتاً جاری رکھے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263469</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Jul 2025 18:30:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/061829021a4cfff.jpg?r=183010" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/061829021a4cfff.jpg?r=183010"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
