<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:12:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:12:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’لہجے میں تلخی آگئی تھی‘، ندا یاسر والدہ کے جنازے میں کیوں شریک نہ ہو سکیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263575/</link>
      <description>&lt;p&gt;اداکارہ و ٹی وی میزبان ندا یاسر نے انکشاف کیا ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد وہ اس قدر ٹوٹ گئی تھیں کہ ان کے لہجے میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے بھی تلخی آگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ندا یاسر نے اپنے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں اپنی والدہ کے انتقال کے حوالے سے جذباتی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندا یاسر نے بتایا کہ جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ پاکستان میں موجود نہیں تھیں، اس لیے جنازے میں شرکت نہیں کی اور جب وہ واپس آئیں تو انہیں صبر نہیں آرہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزبان کے مطابق وہ اس قدر غمزدہ تھیں کہ کئی دنوں تک اپنی والدہ کے واٹس ایپ وائس پیغامات سنتی رہیں اور ان کی آواز سے خود کو تسلی دیتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا غم کم نہیں ہو رہا تھا اور جب بھی وہ ان کی آواز سنتی تھیں، تو آنکھوں میں آنسو آجاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندا یاسر کا کہنا تھا کہ والدہ کی موت کا اتنا گہرا صدمہ تھا کہ ان کے لہجے میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی تلخی آگئی تھی اور انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس صدمے سے کیسے باہر نکلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بعد ازاں انہوں نے خود سے بات کی اور یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ اپنے اردگرد کے افراد کے ساتھ ناانصافی کرتی رہیں گی، اس لیے انہوں نے طے کیا کہ اب وہ اپنی والدہ کے وائس پیغامات نہیں سنیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندا یاسر نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ کے وہ پیغامات آج بھی ان کے پاس محفوظ ہیں، لیکن ان میں انہیں دوبارہ سننے کی ہمت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/8jXVFLqr3RY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اداکارہ و ٹی وی میزبان ندا یاسر نے انکشاف کیا ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد وہ اس قدر ٹوٹ گئی تھیں کہ ان کے لہجے میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے بھی تلخی آگئی تھی۔</p>
<p>حال ہی میں ندا یاسر نے اپنے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں اپنی والدہ کے انتقال کے حوالے سے جذباتی گفتگو کی۔</p>
<p>ندا یاسر نے بتایا کہ جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ پاکستان میں موجود نہیں تھیں، اس لیے جنازے میں شرکت نہیں کی اور جب وہ واپس آئیں تو انہیں صبر نہیں آرہا تھا۔</p>
<p>میزبان کے مطابق وہ اس قدر غمزدہ تھیں کہ کئی دنوں تک اپنی والدہ کے واٹس ایپ وائس پیغامات سنتی رہیں اور ان کی آواز سے خود کو تسلی دیتی رہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا غم کم نہیں ہو رہا تھا اور جب بھی وہ ان کی آواز سنتی تھیں، تو آنکھوں میں آنسو آجاتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ندا یاسر کا کہنا تھا کہ والدہ کی موت کا اتنا گہرا صدمہ تھا کہ ان کے لہجے میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی تلخی آگئی تھی اور انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس صدمے سے کیسے باہر نکلیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بعد ازاں انہوں نے خود سے بات کی اور یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ اپنے اردگرد کے افراد کے ساتھ ناانصافی کرتی رہیں گی، اس لیے انہوں نے طے کیا کہ اب وہ اپنی والدہ کے وائس پیغامات نہیں سنیں گی۔</p>
<p>ندا یاسر نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ کے وہ پیغامات آج بھی ان کے پاس محفوظ ہیں، لیکن ان میں انہیں دوبارہ سننے کی ہمت نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/8jXVFLqr3RY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263575</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 13:59:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/0811334105b818c.jpg?r=135940" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/0811334105b818c.jpg?r=135940"/>
        <media:title>— اسکرین گریب (یوٹیوب)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
