<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 03:36:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 03:36:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کی جانب سے امریکا کے لیے علیحدہ ایپ بنائے جانے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263613/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی جانب سے امریکی صارفین کے لیے ایک علیحدہ ایپلی کیشن بنائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جسے امریکا میں اس وقت فعال کیا جائے گا جب وہاں ٹک ٹاک پر بندش عائد کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی بندش کے خلاف قانون بنا رکھا ہے، جس کے تحت اگر ٹک ٹاک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت نہیں کرتی تو ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ قانون کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کی فروخت اور پابندی سے متعلق معاملات طے پانے کی وجہ سے تین بار ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت بڑھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کو امریکا میں اپنی سروسز جنوری 2025 تک فروخت کردینی تھی، تاہم ایسا نہ ہوسکا اور ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ٹک ٹاک پر بندش کی مدت بڑھاتے آئے، اب ٹک ٹاک کو 17 ستمبر تک ہر حال میں امریکی آپریشنز کسی بھی امریکی ادارے یا شخص کو فروخت کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس بار بھی ٹک ٹاک اپنی سروسز فروخت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو امریکا میں ایپلی کیشن بند کردی جائے گی، تاہم ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اس کی بندش کی مدت بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کہ اگر ٹک ٹاک کسی سودے تک نہیں پہنچتا اور اس کی ایپلی کیشن امریکا میں بند ہوگی تو ٹک ٹاک نئی تیار کردہ ایپلی کیشن امریکا میں متعارف کرائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/tiktok-building-new-version-app-ahead-expected-us-sale-information-reports-2025-07-06/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے حالیہ ایپلی کیشن کے طرز کی ہی نئی ایپ تیار کے آخری مراحل میں ہے، جسے امریکا میں ہی متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے نے دوسرے نشریاتی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹک ٹاک امریکا میں اپنی پابندی سے قبل ہی صارفین کو آپشن فراہم کرے گا کہ وہ نئی ایپلی کیشن پر اکاؤنٹ بنا کر سروسز استعمال کرتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک ممکنہ طور پر ستمبر کے پہلے ہفتے میں امریکی صارفین کو نئی ایپلی کیشن جوائن کرنے کا آپشن فراہم کرے گا اور اگر ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہیں ہو پاتا اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس کی بندش کی مدت نہیں بڑھاتا تو ٹک ٹاک کے بند ہوجانے سے وہاں کے صارفین کو متبادل ایپلی کیشن استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی جانب سے امریکی صارفین کے لیے ایک علیحدہ ایپلی کیشن بنائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جسے امریکا میں اس وقت فعال کیا جائے گا جب وہاں ٹک ٹاک پر بندش عائد کی جائے گی۔</p>
<p>امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی بندش کے خلاف قانون بنا رکھا ہے، جس کے تحت اگر ٹک ٹاک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت نہیں کرتی تو ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>مذکورہ قانون کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کی فروخت اور پابندی سے متعلق معاملات طے پانے کی وجہ سے تین بار ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت بڑھا چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کو امریکا میں اپنی سروسز جنوری 2025 تک فروخت کردینی تھی، تاہم ایسا نہ ہوسکا اور ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ٹک ٹاک پر بندش کی مدت بڑھاتے آئے، اب ٹک ٹاک کو 17 ستمبر تک ہر حال میں امریکی آپریشنز کسی بھی امریکی ادارے یا شخص کو فروخت کرنے ہوں گے۔</p>
<p>اگر اس بار بھی ٹک ٹاک اپنی سروسز فروخت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو امریکا میں ایپلی کیشن بند کردی جائے گی، تاہم ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اس کی بندش کی مدت بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کہ اگر ٹک ٹاک کسی سودے تک نہیں پہنچتا اور اس کی ایپلی کیشن امریکا میں بند ہوگی تو ٹک ٹاک نئی تیار کردہ ایپلی کیشن امریکا میں متعارف کرائے گا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/tiktok-building-new-version-app-ahead-expected-us-sale-information-reports-2025-07-06/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے حالیہ ایپلی کیشن کے طرز کی ہی نئی ایپ تیار کے آخری مراحل میں ہے، جسے امریکا میں ہی متعارف کرایا جائے گا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے نے دوسرے نشریاتی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹک ٹاک امریکا میں اپنی پابندی سے قبل ہی صارفین کو آپشن فراہم کرے گا کہ وہ نئی ایپلی کیشن پر اکاؤنٹ بنا کر سروسز استعمال کرتے رہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک ممکنہ طور پر ستمبر کے پہلے ہفتے میں امریکی صارفین کو نئی ایپلی کیشن جوائن کرنے کا آپشن فراہم کرے گا اور اگر ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہیں ہو پاتا اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس کی بندش کی مدت نہیں بڑھاتا تو ٹک ٹاک کے بند ہوجانے سے وہاں کے صارفین کو متبادل ایپلی کیشن استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263613</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 20:36:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/081835522a93bac.jpg?r=183624" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/081835522a93bac.jpg?r=183624"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
