<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 19:08:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 19:08:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’گروک‘ پر ہٹلر کی تعریف اور اسلام کی توہین کرنے پر شدید تنقید، ایکس کی سی ای او مستعفی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263737/</link>
      <description>&lt;p&gt;ارب پتی ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو بدھ کے روز یہود مخالف تبصروں، ایڈولف ہٹلر کی تعریف اور اسلام کی توہین کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اسی دوران ایکس کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے بھی استعفیٰ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1923174/grok-under-fire-for-posts-praising-hitler-insulting-islam"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر گروک کی جانب سے کی گئی کچھ پوسٹس میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی گئی، جس پر ترکیہ کی ایک عدالت نے ان مخصوص پیغامات پر پابندی عائد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع گروک سے جڑے کئی حالیہ تنازعات میں سے ایک ہے، اس سے پہلے بھی گروک پر نسلی تعصب پر مبنی سازشی نظریات کو فروغ دینے کا الزام لگ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) لنڈا یاکارینو نے بدھ کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا، تاہم اس تازہ تنازع اور ان کے استعفے کے درمیان کوئی واضح تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس پر موجود اسکرین شاٹس میں گروک کی جانب سے کی گئی متعدد پوسٹس دکھائی گئیں جن میں نازی رہنما ہٹلر کی تعریف کی گئی، جو یہودی قوم کے خاتمے کا خواہاں تھا، اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہودی سفید فاموں سے نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چیٹ بوٹ ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے تیار کیا ہے، امریکی یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) نے گروک کی ان پوسٹس پر شدید تنقید کی جو اس نے صارفین کے سوالات کے جواب میں کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ میں ایک عدالت نے اعلان کیا کہ گروک کی کچھ ایسی پوسٹس کو بلاک کیا جا رہا ہے جن میں اردوان اور اسلامی اقدار کی توہین کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولینڈ نے بھی گروک کی جانب سے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک سمیت دیگر سیاستدانوں کے بارے میں توہین آمیز تبصروں کے بعد ایکس اے آئی کو یورپی کمیشن میں رپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولینڈ کے ڈیجیٹل امور کے وزیر کرسٹوف گاکوسکی نے بدھ کے روز ایف ایم آایم ایف ریڈیو کو بتایا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم نفرت انگیز تقریر کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جو الگورتھمز کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج اس سے چشم پوشی کریں یا اسے نظر انداز کریں، تو یہ ایک ایسی غلطی ہو سکتی ہے جس کی قیمت انسانیت کو مستقبل میں چکانی پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پوسٹس-حذف-کر-دی-گئیں" href="#پوسٹس-حذف-کر-دی-گئیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پوسٹس حذف کر دی گئیں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروک نے منگل کو نامناسب سوشل میڈیا پوسٹس کو شکایات کے بعد ہٹا دیا جن کی نشاندہی ایکس کے صارفین اور اے ڈی ایل نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس پر گروک کی جانب سے ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’ہم گروک کی حالیہ پوسٹس سے آگاہ ہیں اور ان نامناسب مواد کو ہٹانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ میں کہا گیا کہ ایکس اے آئی نے نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ گروک ایکس پر پوسٹ کرنے سے پہلے اس مواد کو فلٹر کرے، ایکس اے آئی صرف سچائی کی تلاش پر مبنی تربیت فراہم کر رہا ہے اور ایکس کے لاکھوں صارفین کی بدولت ہم ماڈل کی تربیت میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک نے بدھ کے روز پوسٹ کیا کہ یہ تنازع ایک ایسے صارف کی وجہ سے پیدا ہوا جس نے گروک سے جان بوجھ کر متنازع بیان لینے کی کوشش کی اور ظاہر ہے وہ اسے مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گروک ضرورت سے زیادہ خوش کرنے اور قابو میں آنے والا ثابت ہوا، اس مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ جمعے کو انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گروک چیٹ بوٹ میں نمایاں بہتری کی گئی ہے، جو کمپنی کے تازہ ترین اے آئی ماڈل Grok-4 کی ریلیز سے پہلے کی گئی اپ ڈیٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد گروک نے ایسی پوسٹس کیں جن میں سفید فاموں کے خلاف دقیانوسی تصورات اور ہالی ووڈ کے ایگزیکٹوز کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ’غیر متناسب طور پر یہودی‘ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ارب پتی ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو بدھ کے روز یہود مخالف تبصروں، ایڈولف ہٹلر کی تعریف اور اسلام کی توہین کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اسی دوران ایکس کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے بھی استعفیٰ دے دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی <a href="https://www.dawn.com/news/1923174/grok-under-fire-for-posts-praising-hitler-insulting-islam"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر گروک کی جانب سے کی گئی کچھ پوسٹس میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی گئی، جس پر ترکیہ کی ایک عدالت نے ان مخصوص پیغامات پر پابندی عائد کر دی۔</p>
<p>یہ تنازع گروک سے جڑے کئی حالیہ تنازعات میں سے ایک ہے، اس سے پہلے بھی گروک پر نسلی تعصب پر مبنی سازشی نظریات کو فروغ دینے کا الزام لگ چکا ہے۔</p>
<p>ایکس کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) لنڈا یاکارینو نے بدھ کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا، تاہم اس تازہ تنازع اور ان کے استعفے کے درمیان کوئی واضح تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایکس پر موجود اسکرین شاٹس میں گروک کی جانب سے کی گئی متعدد پوسٹس دکھائی گئیں جن میں نازی رہنما ہٹلر کی تعریف کی گئی، جو یہودی قوم کے خاتمے کا خواہاں تھا، اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہودی سفید فاموں سے نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔</p>
<p>یہ چیٹ بوٹ ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے تیار کیا ہے، امریکی یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) نے گروک کی ان پوسٹس پر شدید تنقید کی جو اس نے صارفین کے سوالات کے جواب میں کی تھیں۔</p>
<p>ترکیہ میں ایک عدالت نے اعلان کیا کہ گروک کی کچھ ایسی پوسٹس کو بلاک کیا جا رہا ہے جن میں اردوان اور اسلامی اقدار کی توہین کی گئی ہے۔</p>
<p>پولینڈ نے بھی گروک کی جانب سے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک سمیت دیگر سیاستدانوں کے بارے میں توہین آمیز تبصروں کے بعد ایکس اے آئی کو یورپی کمیشن میں رپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>پولینڈ کے ڈیجیٹل امور کے وزیر کرسٹوف گاکوسکی نے بدھ کے روز ایف ایم آایم ایف ریڈیو کو بتایا کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم نفرت انگیز تقریر کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جو الگورتھمز کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج اس سے چشم پوشی کریں یا اسے نظر انداز کریں، تو یہ ایک ایسی غلطی ہو سکتی ہے جس کی قیمت انسانیت کو مستقبل میں چکانی پڑے گی۔</p>
<h1><a id="پوسٹس-حذف-کر-دی-گئیں" href="#پوسٹس-حذف-کر-دی-گئیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پوسٹس حذف کر دی گئیں</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گروک نے منگل کو نامناسب سوشل میڈیا پوسٹس کو شکایات کے بعد ہٹا دیا جن کی نشاندہی ایکس کے صارفین اور اے ڈی ایل نے کی تھی۔</p>
<p>ایکس پر گروک کی جانب سے ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’ہم گروک کی حالیہ پوسٹس سے آگاہ ہیں اور ان نامناسب مواد کو ہٹانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں‘۔</p>
<p>پوسٹ میں کہا گیا کہ ایکس اے آئی نے نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ گروک ایکس پر پوسٹ کرنے سے پہلے اس مواد کو فلٹر کرے، ایکس اے آئی صرف سچائی کی تلاش پر مبنی تربیت فراہم کر رہا ہے اور ایکس کے لاکھوں صارفین کی بدولت ہم ماڈل کی تربیت میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ایلون مسک نے بدھ کے روز پوسٹ کیا کہ یہ تنازع ایک ایسے صارف کی وجہ سے پیدا ہوا جس نے گروک سے جان بوجھ کر متنازع بیان لینے کی کوشش کی اور ظاہر ہے وہ اسے مل گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گروک ضرورت سے زیادہ خوش کرنے اور قابو میں آنے والا ثابت ہوا، اس مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ جمعے کو انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گروک چیٹ بوٹ میں نمایاں بہتری کی گئی ہے، جو کمپنی کے تازہ ترین اے آئی ماڈل Grok-4 کی ریلیز سے پہلے کی گئی اپ ڈیٹ تھی۔</p>
<p>اس کے بعد گروک نے ایسی پوسٹس کیں جن میں سفید فاموں کے خلاف دقیانوسی تصورات اور ہالی ووڈ کے ایگزیکٹوز کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ’غیر متناسب طور پر یہودی‘ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263737</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 11:58:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/10092854f84d316.jpg?r=115828" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/10092854f84d316.jpg?r=115828"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: الگوا ایف ایم /فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
