<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 04:49:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 20 Jun 2026 04:49:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی جنگ میں شدت: ٹرمپ نے یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد ٹیرف عائد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263924/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا، جس کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا، جبکہ ان کے اہم اتحادیوں کے ساتھ کئی ہفتوں کی مذاکراتی کوششیں ایک جامع تجارتی معاہدے پر ختم نہ ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق نئے ٹیرف کا اعلان ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری علیحہ خطوط میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ممالک کے لیے نئے ٹیرف لگانے کے اعلانات کیے تھے، جن میں جاپان، جنوبی کوریا، کینیڈا اور برازیل شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تانبا پر 50 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کو امید تھی کہ وہ امریکا کے ساتھ 27 رکنی بلاک کے لیے ایک جامع تجارتی معاہدہ طے کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین ابتدا میں صنعتی مصنوعات پر زیرو ٹیرف سمیت ایک جامع معاہدہ کرنا چاہتی تھی، لیکن مہینوں کے مشکل مذاکرات کے بعد یہ احساس بڑھا کہ شاید اسے ایک عبوری معاہدے پر اکتفا کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 27 رکنی بلاک متضاد دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ طاقتور معیشت جرمنی نے اپنی صنعت کے تحفظ کے لیے فوری معاہدے پر زور دیا، جبکہ فرانس جیسے دوسرے یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ مذاکرات کاروں کو امریکا کی یکطرفہ شرائط پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ٹیرف کے پے در پے احکامات نے امریکی حکومت کے لیے ہر ماہ درجنوں ارب ڈالر کی نئی آمدنی پیدا کرنا شروع کر دی ہے، امریکی خزانے نے جمعہ کو بتایا تھا کہ وفاقی مالی سال میں امریکی کسٹمز ڈیوٹی کی آمدنی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا، جس کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا، جبکہ ان کے اہم اتحادیوں کے ساتھ کئی ہفتوں کی مذاکراتی کوششیں ایک جامع تجارتی معاہدے پر ختم نہ ہو سکیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق نئے ٹیرف کا اعلان ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری علیحہ خطوط میں کیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ممالک کے لیے نئے ٹیرف لگانے کے اعلانات کیے تھے، جن میں جاپان، جنوبی کوریا، کینیڈا اور برازیل شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تانبا پر 50 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p>یورپی یونین کو امید تھی کہ وہ امریکا کے ساتھ 27 رکنی بلاک کے لیے ایک جامع تجارتی معاہدہ طے کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یورپی یونین ابتدا میں صنعتی مصنوعات پر زیرو ٹیرف سمیت ایک جامع معاہدہ کرنا چاہتی تھی، لیکن مہینوں کے مشکل مذاکرات کے بعد یہ احساس بڑھا کہ شاید اسے ایک عبوری معاہدے پر اکتفا کرنا پڑے۔</p>
<p>یہ 27 رکنی بلاک متضاد دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ طاقتور معیشت جرمنی نے اپنی صنعت کے تحفظ کے لیے فوری معاہدے پر زور دیا، جبکہ فرانس جیسے دوسرے یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ مذاکرات کاروں کو امریکا کی یکطرفہ شرائط پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ٹیرف کے پے در پے احکامات نے امریکی حکومت کے لیے ہر ماہ درجنوں ارب ڈالر کی نئی آمدنی پیدا کرنا شروع کر دی ہے، امریکی خزانے نے جمعہ کو بتایا تھا کہ وفاقی مالی سال میں امریکی کسٹمز ڈیوٹی کی آمدنی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263924</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 18:48:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/12184612511f939.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/12184612511f939.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: سی این بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
