<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 22:26:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 22:26:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: عدالت نے مزید 5 یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263933/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جانب سے 27 معروف یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، مزید 5 یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق 6 یوٹیوبرز نے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے دلائل سننے کے بعد مخدوم شہاب الدین، اوریا مقبول جان، عبدالقادر، عزیر انور اور عمیر رفیق کی حد تک چینلز کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر صحافی حبیب اکرم کی عدم دستیابی کے باعث اپیل پر فیصلہ نہیں ہوسکا، عدالت نے حبیب اکرم کی حاضری اور دلائل کے لیے درخواست 14 جولائی تک ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے 8 جولائی کو ایف آئی اے کی درخواست پر صحافی مطیع اللہ جان ، اسد طور ، اوریا مقبول جان اور صدیق جان سمیت 27 معروف یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1263598/"&gt;&lt;strong&gt;حکم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ریاست مخالف مواد کے حوالے سے ایف آئی اے نے 2 جون کو انکوائری شروع کی، ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ شواہد سے عدالت مطمئن ہے، قانون کے مطابق کاروائی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ یوٹیوب کے انچارج افسر کو حکم دیا جاتا ہے ہے 27 یوٹیوب چینل بلاک کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 2 یوٹیوب چینلز کی حد تک بندش کا حکم معطل کرتے ہوئے نیشنل کرائم ایجنسی کو 21 جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ صحافی مطیع اللہ جان اور اسد طور نے درخواستوں میں موقف اپنایا کہ انہیں سنا نہیں گیا، درخواست گزاروں کے مطابق ان کو نوٹس بھی نہیں ہوا، شفاف ٹرائل کے حوالے سے آرٹیکل 10 اے کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا تھا کہ مجسٹریٹ نے اپیل کنندگان بغیر سنے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، بادی النظر میں اس کیس میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، مطیع اللہ جان اور اسد طور کی حد تک مجسٹریٹ کا حکم معطل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جانب سے 27 معروف یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، مزید 5 یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل کر دیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق 6 یوٹیوبرز نے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے درخواست پر سماعت کی۔</p>
<p>عدالت نے دلائل سننے کے بعد مخدوم شہاب الدین، اوریا مقبول جان، عبدالقادر، عزیر انور اور عمیر رفیق کی حد تک چینلز کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا۔</p>
<p>سینئر صحافی حبیب اکرم کی عدم دستیابی کے باعث اپیل پر فیصلہ نہیں ہوسکا، عدالت نے حبیب اکرم کی حاضری اور دلائل کے لیے درخواست 14 جولائی تک ملتوی کر دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے 8 جولائی کو ایف آئی اے کی درخواست پر صحافی مطیع اللہ جان ، اسد طور ، اوریا مقبول جان اور صدیق جان سمیت 27 معروف یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1263598/"><strong>حکم</strong></a> دیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ریاست مخالف مواد کے حوالے سے ایف آئی اے نے 2 جون کو انکوائری شروع کی، ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ شواہد سے عدالت مطمئن ہے، قانون کے مطابق کاروائی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ یوٹیوب کے انچارج افسر کو حکم دیا جاتا ہے ہے 27 یوٹیوب چینل بلاک کر دیا جائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 2 یوٹیوب چینلز کی حد تک بندش کا حکم معطل کرتے ہوئے نیشنل کرائم ایجنسی کو 21 جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیے تھے۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ صحافی مطیع اللہ جان اور اسد طور نے درخواستوں میں موقف اپنایا کہ انہیں سنا نہیں گیا، درخواست گزاروں کے مطابق ان کو نوٹس بھی نہیں ہوا، شفاف ٹرائل کے حوالے سے آرٹیکل 10 اے کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔</p>
<p>مزید کہا گیا تھا کہ مجسٹریٹ نے اپیل کنندگان بغیر سنے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، بادی النظر میں اس کیس میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، مطیع اللہ جان اور اسد طور کی حد تک مجسٹریٹ کا حکم معطل کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263933</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 21:13:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیرویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/12211352789e78e.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/12211352789e78e.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/12211331607386d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/12211331607386d.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
