<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 19:09:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 19:09:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر رسمی تعلیم کے مراکز اور اساتذہ کی تعداد میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263992/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن  کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نان فارمل ایجوکیشن میں طلبہ کے اندراج میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن  نے سال 2023-24 کی غیر رسمی تعلیم پر مبنی جامع رپورٹ جاری کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں غیر رسمی تعلیمی مراکز کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جہاں 12 لاکھ 90 ہزار سے زائد بچے اور نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نان فارمل ایجوکیشن میں طلبہ کے اندراج میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1086436"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ نان فارمل ایجوکیشن حاصل کرنے والوں میں 57 فیصد طالبات ہیں جب کہ 82 فیصد اساتذہ خواتین پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار خواتین کی تعلیم میں دلچسپی اور تعلیمی شعبے میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالغوں کے لیے قائم تعلیمی مراکز میں 80 ہزار سے زائد افراد خواندگی حاصل کر رہے ہیں، جب کہ 10 ہزار سے زائد افغان پناہ گزین بچوں کو بھی نان فارمل نظام تعلیم میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، بالخصوص دیہی بلوچستان میں جہاں صرف 31 فیصد خواتین خواندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ علاقائی تفاوت ختم کرنے اور ڈیٹا تجزیے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں غیر رسمی تعلیم کو ”دوسرا موقع تعلیم“ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن  کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نان فارمل ایجوکیشن میں طلبہ کے اندراج میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن  نے سال 2023-24 کی غیر رسمی تعلیم پر مبنی جامع رپورٹ جاری کر دی۔</p>
<p>ملک بھر میں غیر رسمی تعلیمی مراکز کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جہاں 12 لاکھ 90 ہزار سے زائد بچے اور نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نان فارمل ایجوکیشن میں طلبہ کے اندراج میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1086436"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ نان فارمل ایجوکیشن حاصل کرنے والوں میں 57 فیصد طالبات ہیں جب کہ 82 فیصد اساتذہ خواتین پر مشتمل ہیں۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار خواتین کی تعلیم میں دلچسپی اور تعلیمی شعبے میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>بالغوں کے لیے قائم تعلیمی مراکز میں 80 ہزار سے زائد افراد خواندگی حاصل کر رہے ہیں، جب کہ 10 ہزار سے زائد افغان پناہ گزین بچوں کو بھی نان فارمل نظام تعلیم میں شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، بالخصوص دیہی بلوچستان میں جہاں صرف 31 فیصد خواتین خواندہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ علاقائی تفاوت ختم کرنے اور ڈیٹا تجزیے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>رپورٹ میں غیر رسمی تعلیم کو ”دوسرا موقع تعلیم“ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263992</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Jul 2025 17:25:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رخسانہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/13171426e6024a8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/13171426e6024a8.jpg"/>
        <media:title>فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
