<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 23:32:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 23:32:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دلائی لاما کی جانشینی کا معاملہ: بھارت اور چین کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264002/</link>
      <description>&lt;p&gt;تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کا جانشینی کے معاملے پر بھارت اور چین کے درمیان سفارتی تناؤ ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز کے مطابق بھارت کے وزیر خارجہ سرحدی جھڑپوں کے بعد پہلی بار چین کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں، ایسے میں بھارت اور چین کے درمیان دلائی لاما کے جانشینی کے معاملے پر تعلقات کشیدہ دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ، دلائی لاما کی 90ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر بھارت کے سینئر وزرا  نے بھی شرکت کی، اس دوران تبتی بدھ مت کے سربراہ نے یہ کہہ کر کہ ’دلائی لاما کی جانشینی میں چین کا کوئی کردار نہیں‘، ایک بار پھر چین کو ناراض کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تبتی عقیدے کے مطابق کسی بھی سینئر بدھ راہب کی روح اُس کی موت کے بعد دوبارہ جنم لیتی ہے، لیکن چین کا کہنا ہے کہ دلائی لاما کی جانشینی کی منظوری ان کے رہنما بھی دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلائی لاما 1959 میں تبت میں چینی حکمرانی کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ChinaSpox_India/status/1944286658956079150"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خارجہ تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی نئی دہلی کو چین کے خلاف ایک سفارتی دباؤ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سفارت خانے کی ترجمان یو جِنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بھارت کی اسٹریٹجک اور علمی برادری کے کچھ افراد نے دلائی لاما کی دوبارہ جنم لینے کی جانشینی کے معاملے پر ’نامناسب تبصرے‘ کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو جِنگ نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن حالیہ دنوں میں بھارتی اسٹریٹجک امور کے ماہرین اور ایک حکومتی وزیر نے دلائی لاما کے جانشینی سے متعلق بیان کی حمایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ بطور خارجہ امور کے پیشہ ور، اُنہیں شی زانگ (تبت) سے متعلق معاملات کی حساسیت سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ’دلائی لاما کی دوبارہ جنم لینے کی جانشینی چین کا داخلی معاملہ ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی پارلیمانی و اقلیتی امور کے وزیر کیرن ریجیجو  نے کہا کہ بطور عملی بدھ مت پیروکار، وہ مانتے ہیں کہ صرف دلائی لاما اور ان کا دفتر ہی اُن کی دوبارہ جنم کی جانشینی کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارت خارجہ نے 4 جولائی کو، دلائی لاما کی سالگرہ سے دو روز قبل کہا تھا کہ نئی دہلی عقیدے اور مذہب سے متعلق معاملات پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کرتی اور نہ ہی بات کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر 15 جولائی کو شمالی چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے تحت ایک علاقائی سیکیورٹی اجلاس میں شرکت کریں گے اور موقع پر دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کا جانشینی کے معاملے پر بھارت اور چین کے درمیان سفارتی تناؤ ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز کے مطابق بھارت کے وزیر خارجہ سرحدی جھڑپوں کے بعد پہلی بار چین کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں، ایسے میں بھارت اور چین کے درمیان دلائی لاما کے جانشینی کے معاملے پر تعلقات کشیدہ دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>رواں ماہ، دلائی لاما کی 90ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر بھارت کے سینئر وزرا  نے بھی شرکت کی، اس دوران تبتی بدھ مت کے سربراہ نے یہ کہہ کر کہ ’دلائی لاما کی جانشینی میں چین کا کوئی کردار نہیں‘، ایک بار پھر چین کو ناراض کر دیا۔</p>
<p>تبتی عقیدے کے مطابق کسی بھی سینئر بدھ راہب کی روح اُس کی موت کے بعد دوبارہ جنم لیتی ہے، لیکن چین کا کہنا ہے کہ دلائی لاما کی جانشینی کی منظوری ان کے رہنما بھی دیں گے۔</p>
<p>دلائی لاما 1959 میں تبت میں چینی حکمرانی کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ChinaSpox_India/status/1944286658956079150"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی خارجہ تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی نئی دہلی کو چین کے خلاف ایک سفارتی دباؤ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>چینی سفارت خانے کی ترجمان یو جِنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بھارت کی اسٹریٹجک اور علمی برادری کے کچھ افراد نے دلائی لاما کی دوبارہ جنم لینے کی جانشینی کے معاملے پر ’نامناسب تبصرے‘ کیے ہیں۔</p>
<p>یو جِنگ نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن حالیہ دنوں میں بھارتی اسٹریٹجک امور کے ماہرین اور ایک حکومتی وزیر نے دلائی لاما کے جانشینی سے متعلق بیان کی حمایت کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اپنی پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ بطور خارجہ امور کے پیشہ ور، اُنہیں شی زانگ (تبت) سے متعلق معاملات کی حساسیت سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ’دلائی لاما کی دوبارہ جنم لینے کی جانشینی چین کا داخلی معاملہ ہے‘۔</p>
<p>بھارتی پارلیمانی و اقلیتی امور کے وزیر کیرن ریجیجو  نے کہا کہ بطور عملی بدھ مت پیروکار، وہ مانتے ہیں کہ صرف دلائی لاما اور ان کا دفتر ہی اُن کی دوبارہ جنم کی جانشینی کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارت خارجہ نے 4 جولائی کو، دلائی لاما کی سالگرہ سے دو روز قبل کہا تھا کہ نئی دہلی عقیدے اور مذہب سے متعلق معاملات پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کرتی اور نہ ہی بات کرتی ہے۔</p>
<p>بھارتی وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر 15 جولائی کو شمالی چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے تحت ایک علاقائی سیکیورٹی اجلاس میں شرکت کریں گے اور موقع پر دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264002</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Jul 2025 20:53:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/131841075b0536c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1079" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/131841075b0536c.jpg"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
