<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 14:09:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 14:09:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل ڈی آئی کمپنیوں کے ذمے 80 ارب کے بقایا جات کی وصولی پر بریک تھرو نہ ہوسکا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264150/</link>
      <description>&lt;p&gt;لانگ ڈسٹینس اینڈ انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کمپنیوں سے 80 ارب بقایاجات کی وصولی اور لائسنس کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہ ہوسکا،نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز بند کرنے سے متعلق فیصلہ اگست میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ڈی آئی کمپنیوں سے 80 ارب روپے کے بقایاجات کی وصولی اور لائسنس کی تجدید کے معاملے پر بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز بند کیے جائیں گے یا نہیں، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ بقایا جات کی ادائیگی اور لائسنسوں کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہیں ہوسکا، بقایاجات اور لائسنسوں کی تجدید سے متعلق پی ٹی اے کا فیصلہ اگست میں متوقع ہے، پی ٹی اے  نے ایل ڈی آئی کمپنیوں کا موقف  سن لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کی دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے اپریل سے مئی تک 8 ایل ڈی آئی کمپنیوں کا موقف سنا، کمپنیوں کے ذمے 24 ارب روپے کی بنیادی رقم اور 56 ارب روپے کے لیٹ پیمنٹ سرچارج واجب الاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9  میں سے 5 ایل ڈی آئی کمپنیاں مکمل بنیادی رقم اقساط میں ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، رقم اقساط میں ادا کرنے کی رضامند پانچ کمپنیوں کے ذمے 8.2 ارب  روپے بنیادی رقم ہے، چار ایل ڈی آئی کمپنیاں بنیادی رقم اقساط میں ادا کرنے کیلئے بھی تیار نہیں،  ان کمپنیوں کے ذمے 15.96 ارب روپے کی بنیادی رقم واجب  الادا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل 13 ایل ڈی آئی کمپنیوں میں سے 4 کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید 2024 میں کی گئی  تھی، سات ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی میعاد 2024 میں ختم ہوگئی، دو ایل ڈی آئی کمپنوں کے لائسنس کی معیاد 2025 اور 2026 میں  ختم  ہونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ڈی آئی کمپنیوں کے ذمے یونیورسل سروس فنڈ کے اے پی سی چارجز گزشتہ کئی سالوں سے واجب الادا ہیں،ایل ڈی آئی کمپنیوں نے واجبات کی ادائیگی سے متعلق عدالت سے اسٹے آرڈر لے رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت آئی ٹی نے مذاکرات کے ذریعے ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کی کوشش کی تھی، وفاقی وزیر آئی ٹی نے ایل ڈی آئی کمپنیوں کو مئی 2025 میں بلا کر ان کا موقف سنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے دستاویز کے مطابق وزارت آئی ٹی میں ایل ڈی آئی کمپنیوں  کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے منٹس فراہم نہیں کیے گئے، پی ٹی اے نے وزارت آئی ٹی کے خط اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کمپنیوں کا موقف سنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لانگ ڈسٹینس اینڈ انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کمپنیوں سے 80 ارب بقایاجات کی وصولی اور لائسنس کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہ ہوسکا،نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز بند کرنے سے متعلق فیصلہ اگست میں متوقع ہے۔</p>
<p>ایل ڈی آئی کمپنیوں سے 80 ارب روپے کے بقایاجات کی وصولی اور لائسنس کی تجدید کے معاملے پر بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز بند کیے جائیں گے یا نہیں، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ بقایا جات کی ادائیگی اور لائسنسوں کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہیں ہوسکا، بقایاجات اور لائسنسوں کی تجدید سے متعلق پی ٹی اے کا فیصلہ اگست میں متوقع ہے، پی ٹی اے  نے ایل ڈی آئی کمپنیوں کا موقف  سن لیا ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے کی دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے اپریل سے مئی تک 8 ایل ڈی آئی کمپنیوں کا موقف سنا، کمپنیوں کے ذمے 24 ارب روپے کی بنیادی رقم اور 56 ارب روپے کے لیٹ پیمنٹ سرچارج واجب الاد ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>9  میں سے 5 ایل ڈی آئی کمپنیاں مکمل بنیادی رقم اقساط میں ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، رقم اقساط میں ادا کرنے کی رضامند پانچ کمپنیوں کے ذمے 8.2 ارب  روپے بنیادی رقم ہے، چار ایل ڈی آئی کمپنیاں بنیادی رقم اقساط میں ادا کرنے کیلئے بھی تیار نہیں،  ان کمپنیوں کے ذمے 15.96 ارب روپے کی بنیادی رقم واجب  الادا ہے۔</p>
<p>کل 13 ایل ڈی آئی کمپنیوں میں سے 4 کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید 2024 میں کی گئی  تھی، سات ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی میعاد 2024 میں ختم ہوگئی، دو ایل ڈی آئی کمپنوں کے لائسنس کی معیاد 2025 اور 2026 میں  ختم  ہونی ہے۔</p>
<p>ایل ڈی آئی کمپنیوں کے ذمے یونیورسل سروس فنڈ کے اے پی سی چارجز گزشتہ کئی سالوں سے واجب الادا ہیں،ایل ڈی آئی کمپنیوں نے واجبات کی ادائیگی سے متعلق عدالت سے اسٹے آرڈر لے رکھے ہیں۔</p>
<p>وزارت آئی ٹی نے مذاکرات کے ذریعے ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کی کوشش کی تھی، وفاقی وزیر آئی ٹی نے ایل ڈی آئی کمپنیوں کو مئی 2025 میں بلا کر ان کا موقف سنا ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے دستاویز کے مطابق وزارت آئی ٹی میں ایل ڈی آئی کمپنیوں  کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے منٹس فراہم نہیں کیے گئے، پی ٹی اے نے وزارت آئی ٹی کے خط اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کمپنیوں کا موقف سنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264150</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Jul 2025 17:29:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/15172857bacb5ff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/15172857bacb5ff.jpg"/>
        <media:title>فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
