<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:26:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:26:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب کی نئی مونیٹائزیشن پالیسی کا اعلان، اے آئی ویڈیوز سے کمائی بند</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264160/</link>
      <description>&lt;p&gt;ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنی نئی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://support.google.com/youtube/answer/1311392?hl=en"&gt;مونیٹائزیشن پالیسی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جاری کرتے ہوئے تخلیق کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ری ایکشن، کمنٹری اور کلپ ویڈیوز اب بھی مونیٹائزیشن کے لیے اہل ہیں بشرط یہ کہ ان میں تخلیقی اور اصل مواد شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی کا مقصد غیر معیاری، کم محنت سے تیار کردہ اور مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائے گئے مواد کی روک تھام ہے جو پلیٹ فارم پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی پالیسیز میں تبدیلی کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد متعدد تخلیق کاروں میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں ری ایکشن یا کلپ چینلز کو مونیٹائزیشن سے نہ ہٹا دیا جائے۔ تاہم اب یوٹیوب نے باضابطہ طور پر گائیڈ لائنز کو واضح کردیا، جن کے مطابق ری ایکشن ویڈیوز متاثر نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’ریپیٹیٹیو کنٹینٹ‘ کی جگہ ’ان آتھینٹک کنٹینٹ‘ کا لفظ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے ”Repetitious Content“ یعنی بار بار دہرائے جانے والے مواد کی اصطلاح کو اب ”Inauthentic Content“ یعنی غیر اصل مواد سے بدل دیا گیا ہے تاکہ یوٹیوب کے معیاری اور تخلیقی مواد کے عزم کو بہتر طریقے سے بیان کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے ہیلپ پیج پر جاری نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کا مواد پہلے ہی سے ہماری پالیسیز کے تحت مونیٹائزیشن کے لیے نااہل ہے،  ہم صرف اصل اور مستند مواد پر تخلیق کاروں کو انعام دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ری یوزڈ کنٹینٹ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، جس میں کمنٹری، کلپس، کمپائلیشنز اور ری ایکشن ویڈیوز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر اصلی (Inauthentic) مواد کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے اب واضح مثالیں دی ہیں کہ کون سا مواد ’غیر اصلی‘ تصور ہوگا اور مونیٹائزیشن کے قابل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ویب سائٹس یا نیوز فیڈز کا متن پڑھنے والی ویڈیوز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلائیڈ شوز یا سکرولنگ ٹیکسٹ جن میں کوئی اضافی کمنٹری، بیانیہ یا تعلیمی پہلو نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ویڈیوز جو مشینی انداز میں تیار کیے گئے ہوں اور جن میں تخلیق کار کی ذاتی شمولیت نظر نہ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اے آئی سے بنائے گئے ایسے مواد کو کم کرنے کے لیے ہیں جو انسانوں کے تیار کردہ ویڈیوز کی نقل کرتا ہے مگر اس میں اصل تخلیقی عنصر موجود نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے خبردار بھی کیا کہ ایسے مواد کو پوسٹ نہ کیا جائے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر شیئر ہو چکا ہو یا جو بغیر کسی تبدیلی کے دوبارہ اپلوڈ کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنی نئی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://support.google.com/youtube/answer/1311392?hl=en">مونیٹائزیشن پالیسی</a></strong> جاری کرتے ہوئے تخلیق کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ری ایکشن، کمنٹری اور کلپ ویڈیوز اب بھی مونیٹائزیشن کے لیے اہل ہیں بشرط یہ کہ ان میں تخلیقی اور اصل مواد شامل ہو۔</p>
<p>نئی پالیسی کا مقصد غیر معیاری، کم محنت سے تیار کردہ اور مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائے گئے مواد کی روک تھام ہے جو پلیٹ فارم پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔</p>
<p>یوٹیوب نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی پالیسیز میں تبدیلی کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد متعدد تخلیق کاروں میں یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں ری ایکشن یا کلپ چینلز کو مونیٹائزیشن سے نہ ہٹا دیا جائے۔ تاہم اب یوٹیوب نے باضابطہ طور پر گائیڈ لائنز کو واضح کردیا، جن کے مطابق ری ایکشن ویڈیوز متاثر نہیں ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>’ریپیٹیٹیو کنٹینٹ‘ کی جگہ ’ان آتھینٹک کنٹینٹ‘ کا لفظ</strong></p>
<p>پہلے ”Repetitious Content“ یعنی بار بار دہرائے جانے والے مواد کی اصطلاح کو اب ”Inauthentic Content“ یعنی غیر اصل مواد سے بدل دیا گیا ہے تاکہ یوٹیوب کے معیاری اور تخلیقی مواد کے عزم کو بہتر طریقے سے بیان کیا جا سکے۔</p>
<p>یوٹیوب کے ہیلپ پیج پر جاری نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کا مواد پہلے ہی سے ہماری پالیسیز کے تحت مونیٹائزیشن کے لیے نااہل ہے،  ہم صرف اصل اور مستند مواد پر تخلیق کاروں کو انعام دیتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ری یوزڈ کنٹینٹ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، جس میں کمنٹری، کلپس، کمپائلیشنز اور ری ایکشن ویڈیوز شامل ہیں۔</p>
<p><strong>غیر اصلی (Inauthentic) مواد کیا ہے؟</strong></p>
<p>یوٹیوب نے اب واضح مثالیں دی ہیں کہ کون سا مواد ’غیر اصلی‘ تصور ہوگا اور مونیٹائزیشن کے قابل نہیں ہوگا۔</p>
<p>صرف ویب سائٹس یا نیوز فیڈز کا متن پڑھنے والی ویڈیوز۔</p>
<p>سلائیڈ شوز یا سکرولنگ ٹیکسٹ جن میں کوئی اضافی کمنٹری، بیانیہ یا تعلیمی پہلو نہ ہو۔</p>
<p>ایسے ویڈیوز جو مشینی انداز میں تیار کیے گئے ہوں اور جن میں تخلیق کار کی ذاتی شمولیت نظر نہ آئے۔</p>
<p>یوٹیوب کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اے آئی سے بنائے گئے ایسے مواد کو کم کرنے کے لیے ہیں جو انسانوں کے تیار کردہ ویڈیوز کی نقل کرتا ہے مگر اس میں اصل تخلیقی عنصر موجود نہیں ہوتا۔</p>
<p>یوٹیوب نے خبردار بھی کیا کہ ایسے مواد کو پوسٹ نہ کیا جائے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر شیئر ہو چکا ہو یا جو بغیر کسی تبدیلی کے دوبارہ اپلوڈ کیا گیا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264160</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Jul 2025 20:16:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/15191935ae995db.jpg?r=191946" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/15191935ae995db.jpg?r=191946"/>
        <media:title>— رائٹرز فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
