<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 30 May 2026 23:12:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 30 May 2026 23:12:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ملازمت کرنیوالی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں 25 فیصد کم اجرت ملتی ہے، آئی ایل او</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264255/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیشنل لیبر فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو اجرتی روزگار میں مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم اجرت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1924668/women-in-pakistan-earn-significantly-less-than-men-ilo"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’پاکستان جینڈر پے گیپ رپورٹ 2025‘ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور مردوں کے درمیان تنخواہوں میں فرق تقریباً 25 فیصد ہے، جب کہ گھنٹوں کے حساب سے اجرتوں کی بنیاد پر یہ فرق ماہانہ 30 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی معیار کے لحاظ سے بھی پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق خاصا نمایاں ہے، اس کے برعکس، کم درمیانی آمدنی والے ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) میں ماہانہ اجرتوں کی بنیاد پر اوسط صنفی فرق 21 فیصد جب کہ گھنٹہ وار اجرتوں کی بنیاد پر 17 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے اجرا کے موقع پر، وزارت اوورسیز پاکستانی کے سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مساوی کام کے لیے مساوی اجرت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ اور اس کے ساتھ موجود عملی منصوبہ ان رکاوٹوں کی نشاندہی اور خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو خواتین کی معیشت میں شمولیت کو محدود کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کو ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مرحلہ وار پورا کرنے میں مدد ملے گی، جو اس نے آئی ایل او کے مساوی اجرت سے متعلق کنونشن اور امتیاز کے خلاف کنونشن کی توثیق کر کے قبول کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول نے کہا کہ ہمارے پاس اب شواہد، عزم اور شراکت داریاں موجود ہیں، جن کی مدد سے ہم وعدوں سے عمل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آئی ایل او پاکستان کو منصفانہ اور شفاف اجرتی نظام، غیر رسمی کام کو رسمی بنانے، اور تمام شعبوں میں خواتین کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں صرف صنفی اجرت کا فرق ہی نہیں بلکہ خواتین کی ملازمت کی شرح بھی خاصی کم ہے، 2021 میں خواتین کی ملازمت کی شرح تقریباً 23 فیصد تھی جب کہ مردوں کی شرح 79 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 56 فیصد پوائنٹس کا صنفی فرق ظاہر کرتا ہے، جو جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں تنخواہ دار ملازمت حاصل کرنا کافی مشکل ہے، اور جب وہ ملازمت میں آ بھی جائیں تو ان کی آمدنی مردوں سے نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 13.5 فیصد ملازمین خواتین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں شامل اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اجرتی روزگار میں موجود خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیمی قابلیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ تر سرکاری شعبے، رسمی ملازمتوں، مستقل کنٹریکٹ والی نوکریوں، پیشہ ورانہ شعبوں اور بڑی کمپنیوں میں کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیشنل لیبر فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو اجرتی روزگار میں مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم اجرت دی جاتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1924668/women-in-pakistan-earn-significantly-less-than-men-ilo"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ’پاکستان جینڈر پے گیپ رپورٹ 2025‘ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور مردوں کے درمیان تنخواہوں میں فرق تقریباً 25 فیصد ہے، جب کہ گھنٹوں کے حساب سے اجرتوں کی بنیاد پر یہ فرق ماہانہ 30 فیصد ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی معیار کے لحاظ سے بھی پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق خاصا نمایاں ہے، اس کے برعکس، کم درمیانی آمدنی والے ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) میں ماہانہ اجرتوں کی بنیاد پر اوسط صنفی فرق 21 فیصد جب کہ گھنٹہ وار اجرتوں کی بنیاد پر 17 فیصد ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے اجرا کے موقع پر، وزارت اوورسیز پاکستانی کے سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مساوی کام کے لیے مساوی اجرت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ اور اس کے ساتھ موجود عملی منصوبہ ان رکاوٹوں کی نشاندہی اور خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو خواتین کی معیشت میں شمولیت کو محدود کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کو ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مرحلہ وار پورا کرنے میں مدد ملے گی، جو اس نے آئی ایل او کے مساوی اجرت سے متعلق کنونشن اور امتیاز کے خلاف کنونشن کی توثیق کر کے قبول کی ہیں۔</p>
<p>آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول نے کہا کہ ہمارے پاس اب شواہد، عزم اور شراکت داریاں موجود ہیں، جن کی مدد سے ہم وعدوں سے عمل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آئی ایل او پاکستان کو منصفانہ اور شفاف اجرتی نظام، غیر رسمی کام کو رسمی بنانے، اور تمام شعبوں میں خواتین کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>پاکستان میں صرف صنفی اجرت کا فرق ہی نہیں بلکہ خواتین کی ملازمت کی شرح بھی خاصی کم ہے، 2021 میں خواتین کی ملازمت کی شرح تقریباً 23 فیصد تھی جب کہ مردوں کی شرح 79 فیصد تھی۔</p>
<p>یہ 56 فیصد پوائنٹس کا صنفی فرق ظاہر کرتا ہے، جو جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں تنخواہ دار ملازمت حاصل کرنا کافی مشکل ہے، اور جب وہ ملازمت میں آ بھی جائیں تو ان کی آمدنی مردوں سے نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 13.5 فیصد ملازمین خواتین ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں شامل اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اجرتی روزگار میں موجود خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیمی قابلیت رکھتی ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ تر سرکاری شعبے، رسمی ملازمتوں، مستقل کنٹریکٹ والی نوکریوں، پیشہ ورانہ شعبوں اور بڑی کمپنیوں میں کام کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264255</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Jul 2025 09:06:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/170903241486afa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="588" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/170903241486afa.jpg"/>
        <media:title>رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 13.5 فیصد ملازمین خواتین ہیں۔
—فائل فوٹو: آئی اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
