<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 18:55:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 18:55:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مظفرگڑھ: پولیس کا بوسان گینگ کیساتھ 12 روز تک مقابلہ، 100 چوری شدہ بھینسیں برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264410/</link>
      <description>&lt;p&gt;مظفرگڑھ پولیس نے کامیابی کے ساتھ بوسان گینگ کے ارکان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور 12 روزہ مقابلے کے بعد 100 چوری شدہ بھینسیں برآمد کر لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1925065/100-buffaloes-recovered-in-muzaffargarh-after-five-gangsters-surrender"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پولیس نے تحصیل علی پور کے دریائی علاقے لٹی کا محاصرہ کیا تھا، مظفرگڑھ، راجن پور اور رحیم یار خان پولیس نے کسی کو بھی دریا عبور کرنے کی اجازت نہیں دی، پولیس نے چیک پوسٹیں قائم کرنے کے بعد علاقے میں مسلسل گشت کیا اور اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور بوسان اور دیگر گینگز 12 روز قبل موضع لٹی سے 260 مویشی اسلحہ کے زور پر لے گئے تھے، جن کی مالیت 32 کروڑ 40 لاکھ روپے بتائی گئی تھی، کنڈائی پولیس نے محمد حسین کی شکایت پر 20 نامزد اور 10 نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 395 (ڈکیتی) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ شخص نے بتایا کہ 7 جولائی کو فیاض بوسان کی قیادت میں 30 مسلح افراد نے اس کے مویشی فارم پر حملہ کیا، اس کے بھائی حبیب اور فارم ورکرز کو یرغمال بنایا، انہیں باندھ دیا اور 144 بھینسیں، 30 بچھڑے اور 26 گائیں لے کر فرار ہو گئے، ڈاکو جاتے ہوئے موبائل فونز اور نقدی بھی ساتھ لے گئے تھے، مقامی افراد نے بعد میں یرغمالیوں کو بازیاب کروایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) ڈاکٹر رضوان احمد خان نے بتایا کہ بوسان گینگ کے 5 ارکان نے ہتھیار ڈال دیے اور 100 مویشی بھی واپس کر دیے، کچھ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی او نے بتایا کہ ملزمان کا دعویٰ ہے کہ وہ 130 مویشی لے کر گئے تھے، لیکن صرف 100 کو دریا پار کرا سکے، باقی مویشی دریا میں چھوڑ دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مقامی سیاستدانوں، خصوصاً رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) عامر طلال گوپانگ نے گینگ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی او نے بتایا کہ مویشی اصل مالکان کے حوالے کر دیے گئے اور گینگ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مظفرگڑھ پولیس نے کامیابی کے ساتھ بوسان گینگ کے ارکان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور 12 روزہ مقابلے کے بعد 100 چوری شدہ بھینسیں برآمد کر لیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1925065/100-buffaloes-recovered-in-muzaffargarh-after-five-gangsters-surrender"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پولیس نے تحصیل علی پور کے دریائی علاقے لٹی کا محاصرہ کیا تھا، مظفرگڑھ، راجن پور اور رحیم یار خان پولیس نے کسی کو بھی دریا عبور کرنے کی اجازت نہیں دی، پولیس نے چیک پوسٹیں قائم کرنے کے بعد علاقے میں مسلسل گشت کیا اور اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<p>مشہور بوسان اور دیگر گینگز 12 روز قبل موضع لٹی سے 260 مویشی اسلحہ کے زور پر لے گئے تھے، جن کی مالیت 32 کروڑ 40 لاکھ روپے بتائی گئی تھی، کنڈائی پولیس نے محمد حسین کی شکایت پر 20 نامزد اور 10 نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 395 (ڈکیتی) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263574"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>متاثرہ شخص نے بتایا کہ 7 جولائی کو فیاض بوسان کی قیادت میں 30 مسلح افراد نے اس کے مویشی فارم پر حملہ کیا، اس کے بھائی حبیب اور فارم ورکرز کو یرغمال بنایا، انہیں باندھ دیا اور 144 بھینسیں، 30 بچھڑے اور 26 گائیں لے کر فرار ہو گئے، ڈاکو جاتے ہوئے موبائل فونز اور نقدی بھی ساتھ لے گئے تھے، مقامی افراد نے بعد میں یرغمالیوں کو بازیاب کروایا۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) ڈاکٹر رضوان احمد خان نے بتایا کہ بوسان گینگ کے 5 ارکان نے ہتھیار ڈال دیے اور 100 مویشی بھی واپس کر دیے، کچھ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی پی او نے بتایا کہ ملزمان کا دعویٰ ہے کہ وہ 130 مویشی لے کر گئے تھے، لیکن صرف 100 کو دریا پار کرا سکے، باقی مویشی دریا میں چھوڑ دیے گئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مقامی سیاستدانوں، خصوصاً رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) عامر طلال گوپانگ نے گینگ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>ڈی پی او نے بتایا کہ مویشی اصل مالکان کے حوالے کر دیے گئے اور گینگ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264410</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Jul 2025 11:45:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/191051535ecfe03.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/191051535ecfe03.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
