<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 22:38:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 22:38:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی سائنسدانوں کا تین افراد کے 8 مشترکہ صحت مند بچوں کی پیدائش کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264434/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تین افراد کے 8 ایسے مشترکہ بچے کرنے کی آزمائش مکمل کرلی جو کہ بالکل صحت مند ہیں، ان میں خصوصی طور پر ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی بیماری  نہیں پائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/07/16/health/britain-three-person-dna-birth"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; برطانوی اور آسٹریلوی سائنس دانوں کی مذکورہ انقلابی تکنیک کا مقصد ماؤں سے بچوں میں منتقل ہونے والی مہلک و موروثی ’مائٹو کونڈیا‘  بیماریوں سے بچاؤ ہے، جو عضلاتی کمزوری، ذہنی پسماندگی، اعضا کی ناکامی اور موت کا سبب بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ طریقہ کار کو ’تھری پرسن آئی وی ایف‘ (Three-Person IVF) کہا جاتا ہے، جس میں ایک مرد والد اور دو خواتین کے ڈی این اے شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض ماؤں کے ڈی این اے ’مائٹو کونڈریا‘ کا خراب وائرس موجود ہوتا ہے، جو ماں سے منتقل ہونے پر بچے میں مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202736"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ طریقہ کار کے تحت نئی تکنیک میں ماں کے انڈے یا ایمبریو سے مرکزی جینیاتی مواد نکال کر ایک عطیہ کردہ انڈے یا ایمبریو میں منتقل کیا جاتا ہے، جس کے ’مائٹو کونڈریا‘ صحت مند ہوتے ہیں اوراس کا اپنا مرکزی ڈی این اے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یوں پیدا ہونے والے بچے میں تین افراد — ماں، باپ، اور خاتون ڈونر کا ڈی این اے شامل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اور آسٹریلوی ماہرین نے مشترکہ طور پر 8 ایسے بچوں کی پیدائش کا دعویٰ کیا ہے جو کہ مہلک اور موروثی بیماریوں سے پاک ہیں، تاہم ماہرین نے تسلیم کیا کہ ایک بچے میں ’مائٹو کونڈریا‘ کی خرابی کا تھوڑا اثر موجود ہے، تاہم وہ اتنا زیادہ اثر نہیں کہ وہ کسی مہلک بیماری میں تبدیل ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں 2016 میں قانون میں تبدیلی کے بعد اس طریقۂ کار کی اجازت دی گئی تھی اور اب تک 35 جوڑوں کو اس تکنیک کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ طریقہ آسٹریلیا میں بھی جائز ہے، تاہم امریکا سمیت کئی ممالک میں اب بھی اس پر پابندی ہے اور کئی ممالک اسے غیر اخلاقی اور غیر انسانی قرار دیتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ اس طرح کسی بھی انسان کا ڈی این اے تبدیل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طریقہ کار کے تحت برطانیہ میں پہلے تین افراد کے بچے کی پیدائش مئی 2023 میں ہوئی تھی اور اب سائنس دانوں نے مزید آٹھ صحت مند بچوں کی پیدائش کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی انتہائی چھوٹی جھلیاں انسانی جسم کے ہر خلیے میں پائی جاتی ہیں جو کہ غذا کو توانائی یا خون سمیت دیگر چیزوں میں تبدیل کرکے انسانی جسم کی نشو و نما میں کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1016361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کا کام انسانی جسم میں شامل ہونے والی ہر غذا کو صحت مند خون یا توانائی میں تبدیل کرکے جسم کو صحت مند رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر بعض ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) خراب ہوں تو وہ جسم میں شامل ہونے والی غذا کو خراب کرکے اندر بیماریاں یا پیچیدگیاں پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر خراب ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) دل کے ناکارہ ہونے سمیت دماغ کے ناکارہ ہونے، اعصابی کمزوری اور بینائی کا سبب بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کے خراب ہونے کی وجہ سے ان میں ماں کے پیٹ میں ہی بیماریاں ہوجاتی ہیں یا پھر وہ پیدائش کے کچھ گھنٹوں یا دنوں بعد مرجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تین افراد کے 8 ایسے مشترکہ بچے کرنے کی آزمائش مکمل کرلی جو کہ بالکل صحت مند ہیں، ان میں خصوصی طور پر ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی بیماری  نہیں پائی گئی۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/07/16/health/britain-three-person-dna-birth"><strong>مطابق</strong></a> برطانوی اور آسٹریلوی سائنس دانوں کی مذکورہ انقلابی تکنیک کا مقصد ماؤں سے بچوں میں منتقل ہونے والی مہلک و موروثی ’مائٹو کونڈیا‘  بیماریوں سے بچاؤ ہے، جو عضلاتی کمزوری، ذہنی پسماندگی، اعضا کی ناکامی اور موت کا سبب بن سکتی ہیں۔</p>
<p>مذکورہ طریقہ کار کو ’تھری پرسن آئی وی ایف‘ (Three-Person IVF) کہا جاتا ہے، جس میں ایک مرد والد اور دو خواتین کے ڈی این اے شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض ماؤں کے ڈی این اے ’مائٹو کونڈریا‘ کا خراب وائرس موجود ہوتا ہے، جو ماں سے منتقل ہونے پر بچے میں مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202736"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ طریقہ کار کے تحت نئی تکنیک میں ماں کے انڈے یا ایمبریو سے مرکزی جینیاتی مواد نکال کر ایک عطیہ کردہ انڈے یا ایمبریو میں منتقل کیا جاتا ہے، جس کے ’مائٹو کونڈریا‘ صحت مند ہوتے ہیں اوراس کا اپنا مرکزی ڈی این اے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یوں پیدا ہونے والے بچے میں تین افراد — ماں، باپ، اور خاتون ڈونر کا ڈی این اے شامل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>برطانوی اور آسٹریلوی ماہرین نے مشترکہ طور پر 8 ایسے بچوں کی پیدائش کا دعویٰ کیا ہے جو کہ مہلک اور موروثی بیماریوں سے پاک ہیں، تاہم ماہرین نے تسلیم کیا کہ ایک بچے میں ’مائٹو کونڈریا‘ کی خرابی کا تھوڑا اثر موجود ہے، تاہم وہ اتنا زیادہ اثر نہیں کہ وہ کسی مہلک بیماری میں تبدیل ہوسکے۔</p>
<p>برطانیہ میں 2016 میں قانون میں تبدیلی کے بعد اس طریقۂ کار کی اجازت دی گئی تھی اور اب تک 35 جوڑوں کو اس تکنیک کے ذریعے بچے پیدا کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔</p>
<p>مذکورہ طریقہ آسٹریلیا میں بھی جائز ہے، تاہم امریکا سمیت کئی ممالک میں اب بھی اس پر پابندی ہے اور کئی ممالک اسے غیر اخلاقی اور غیر انسانی قرار دیتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ اس طرح کسی بھی انسان کا ڈی این اے تبدیل ہوجائے گا۔</p>
<p>اسی طریقہ کار کے تحت برطانیہ میں پہلے تین افراد کے بچے کی پیدائش مئی 2023 میں ہوئی تھی اور اب سائنس دانوں نے مزید آٹھ صحت مند بچوں کی پیدائش کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) نامی انتہائی چھوٹی جھلیاں انسانی جسم کے ہر خلیے میں پائی جاتی ہیں جو کہ غذا کو توانائی یا خون سمیت دیگر چیزوں میں تبدیل کرکے انسانی جسم کی نشو و نما میں کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1016361"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کا کام انسانی جسم میں شامل ہونے والی ہر غذا کو صحت مند خون یا توانائی میں تبدیل کرکے جسم کو صحت مند رکھنا ہے۔</p>
<p>تاہم اگر بعض ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) خراب ہوں تو وہ جسم میں شامل ہونے والی غذا کو خراب کرکے اندر بیماریاں یا پیچیدگیاں پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔</p>
<p>عام طور پر خراب ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) دل کے ناکارہ ہونے سمیت دماغ کے ناکارہ ہونے، اعصابی کمزوری اور بینائی کا سبب بنتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض بچوں میں ’مائٹوکونڈریا‘ (Mitochondria) کے خراب ہونے کی وجہ سے ان میں ماں کے پیٹ میں ہی بیماریاں ہوجاتی ہیں یا پھر وہ پیدائش کے کچھ گھنٹوں یا دنوں بعد مرجاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264434</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Jul 2025 19:00:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/19183224141cf3c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/19183224141cf3c.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
