<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:09:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:09:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی فوج نے غزہ میں امدادی مراکز پر بچوں پر فائرنگ کو کھیل بنالیا، برطانوی سرجن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264471/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی نے امدادی مراکز پر بچوں پر فائرنگ کو کھیل بنالیا، ہفتے کے مختلف دنوں میں جسم کے مختلف اعضا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خان یونس کے نصر اسپتال میں گیسٹرو انٹیسٹنل سرجن کے طور پر خدمات انجام دینے والے پروفیسر نک مینارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی ڈاکٹروں کو زخمی بچوں میں چوٹوں کے ’واضح پیٹرن‘ نظر آ رہے ہیں، جیسا کہ مخصوص دنوں میں سر، ٹانگوں یا جنسی اعضا پر گولیاں ماری گئی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر نک مینارڈ نے کہا کہ ’کسی دن تمام زخمیوں کو پیٹ میں گولی لگی ہوتی ہے، اگلے دن سب کے سر یا گردن میں گولی لگی ہوتی ہے، اور کسی اور دن بازو یا ٹانگ پر گولی کا زخم ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہو، جیسے آج سر کو نشانہ بنایا جائے، کل گردن کو، اور پرسوں جنسی اعضا کو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264441"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر نک مینارڈ کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر نوجوان لڑکے ہوتے ہیں جو غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (جی ایف ایف) کے امدادی مراکز پر موجود ہوتے ہیں، انہوں نے ان مراکز کو ’موت کے پھندے‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ ’یہ مراکز دراصل عسکری نوعیت کے تقسیم کے مقامات بن چکے ہیں، جہاں بھوکے شہری خوراک لینے آتے ہیں، لیکن پھر انہیں اسرائیلی فوجیوں یا ڈرونز (کواڈ کاپٹرز) کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک 12 سالہ لڑکے کا ذکر کیا جس کا وہ آپریشن کر رہے تھے، جو سینے میں گولی لگنے کے باعث آپریٹنگ ٹیبل پر ہی دم توڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایچ ایف مراکز، جنہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، پرائیویٹ کانٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجی چلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے مطابق، مئی سے اب تک ان مراکز پر خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں کم از کم 875 فلسطینی زندہ گولیوں سے شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نک مینارڈ نے مزید کہا کہ ’غذائی قلت کی وجہ سے زخمی بچے صحتیاب نہیں ہو پا رہے، ہم جن زخموں کا علاج کرتے ہیں وہ دوبارہ خراب ہو جاتے ہیں، مریضوں میں شدید انفیکشن ہو جاتے ہیں، اور وہ مر جاتے ہیں، میں نے کبھی اتنے مریض صرف اس لیے مرتے نہیں دیکھے کیونکہ انہیں صحتیابی کے لیے مناسب خوراک نہیں ملتی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق، وسطی اور جنوبی غزہ میں کام کرنے والے دیگر طبی ماہرین نے بھی جی ایچ ایف مراکز پر گولیوں سے زخمی ہونے والوں میں اسی نوعیت کے پیٹرن کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی نے امدادی مراکز پر بچوں پر فائرنگ کو کھیل بنالیا، ہفتے کے مختلف دنوں میں جسم کے مختلف اعضا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>خان یونس کے نصر اسپتال میں گیسٹرو انٹیسٹنل سرجن کے طور پر خدمات انجام دینے والے پروفیسر نک مینارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی ڈاکٹروں کو زخمی بچوں میں چوٹوں کے ’واضح پیٹرن‘ نظر آ رہے ہیں، جیسا کہ مخصوص دنوں میں سر، ٹانگوں یا جنسی اعضا پر گولیاں ماری گئی ہوں۔</p>
<p>بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر نک مینارڈ نے کہا کہ ’کسی دن تمام زخمیوں کو پیٹ میں گولی لگی ہوتی ہے، اگلے دن سب کے سر یا گردن میں گولی لگی ہوتی ہے، اور کسی اور دن بازو یا ٹانگ پر گولی کا زخم ہوتا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہو، جیسے آج سر کو نشانہ بنایا جائے، کل گردن کو، اور پرسوں جنسی اعضا کو‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264441"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پروفیسر نک مینارڈ کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر نوجوان لڑکے ہوتے ہیں جو غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (جی ایف ایف) کے امدادی مراکز پر موجود ہوتے ہیں، انہوں نے ان مراکز کو ’موت کے پھندے‘ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ ’یہ مراکز دراصل عسکری نوعیت کے تقسیم کے مقامات بن چکے ہیں، جہاں بھوکے شہری خوراک لینے آتے ہیں، لیکن پھر انہیں اسرائیلی فوجیوں یا ڈرونز (کواڈ کاپٹرز) کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے ایک 12 سالہ لڑکے کا ذکر کیا جس کا وہ آپریشن کر رہے تھے، جو سینے میں گولی لگنے کے باعث آپریٹنگ ٹیبل پر ہی دم توڑ گیا۔</p>
<p>جی ایچ ایف مراکز، جنہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، پرائیویٹ کانٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجی چلاتے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے مطابق، مئی سے اب تک ان مراکز پر خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں کم از کم 875 فلسطینی زندہ گولیوں سے شہید ہو چکے ہیں۔</p>
<p>نک مینارڈ نے مزید کہا کہ ’غذائی قلت کی وجہ سے زخمی بچے صحتیاب نہیں ہو پا رہے، ہم جن زخموں کا علاج کرتے ہیں وہ دوبارہ خراب ہو جاتے ہیں، مریضوں میں شدید انفیکشن ہو جاتے ہیں، اور وہ مر جاتے ہیں، میں نے کبھی اتنے مریض صرف اس لیے مرتے نہیں دیکھے کیونکہ انہیں صحتیابی کے لیے مناسب خوراک نہیں ملتی‘۔</p>
<p>بی بی سی کے مطابق، وسطی اور جنوبی غزہ میں کام کرنے والے دیگر طبی ماہرین نے بھی جی ایچ ایف مراکز پر گولیوں سے زخمی ہونے والوں میں اسی نوعیت کے پیٹرن کی تصدیق کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264471</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Jul 2025 11:56:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/20115400d4a07ee.jpg?r=115617" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/20115400d4a07ee.jpg?r=115617"/>
        <media:title>برطانوی سرجن پروفیسر نک مینارڈ صہیونی جارحیت کے اغاز کے بعد تیسری مرتبہ غزہ آئے ہیں— فائل فوٹو: میپ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
