<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business - Economy</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 17:54:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 17:54:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے 50 ہزار ٹن چینی خریدنے کے عالمی ٹینڈر کے جواب میں کوئی پیشکش نہ مل سکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264679/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی تاجروں کے ابتدائی اندازوں کے مطابق پاکستان سے 50 ہزار ٹن چینی خریدنے کے لیے جاری کیے گئے بین الاقوامی ٹینڈر کی آخری تاریخ منگل کو ختم ہو گئی، لیکن کسی بھی تجارتی کمپنی کی جانب سے قیمت کی پیشکش موصول ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1925968/no-bids-in-sugar-tender"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تاجروں کا کہنا ہے کہ شپمنٹ اور آمد کی مدت کو بہت مختصر سمجھا گیا، جس کی وجہ سے حقیقت پسندانہ پیشکشیں دینا ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی جانب سے جاری کردہ اس ٹینڈر میں یکم سے 15 اگست کے دوران لوڈنگ کا مطالبہ کیا گیا تھا، جب کہ پوری خریدی گئی مقدار 30 اگست تک پاکستان پہنچانے کی شرط رکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263161"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت چینی درآمد سے متعلق اجلاس میں 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم کی سربراہی میں اسٹئیرنگ کمیٹی کے فالو اپ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ چینی کی درآمد اور ٹی سی پی اور نجی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی درآمد کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وزیر برائے قومی و غذائی تحفظ اور تینوں صوبوں کے چیف سیکریٹریز سمیت وفاقی و صوبائی سیکریٹریز بھی شریک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہےکہ موجودہ حکومت نےجون سے لے کر اکتوبر 2024 کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، اور آخری بار اکتوبر میں 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی تاجروں کے ابتدائی اندازوں کے مطابق پاکستان سے 50 ہزار ٹن چینی خریدنے کے لیے جاری کیے گئے بین الاقوامی ٹینڈر کی آخری تاریخ منگل کو ختم ہو گئی، لیکن کسی بھی تجارتی کمپنی کی جانب سے قیمت کی پیشکش موصول ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1925968/no-bids-in-sugar-tender"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تاجروں کا کہنا ہے کہ شپمنٹ اور آمد کی مدت کو بہت مختصر سمجھا گیا، جس کی وجہ سے حقیقت پسندانہ پیشکشیں دینا ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>سرکاری ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی جانب سے جاری کردہ اس ٹینڈر میں یکم سے 15 اگست کے دوران لوڈنگ کا مطالبہ کیا گیا تھا، جب کہ پوری خریدی گئی مقدار 30 اگست تک پاکستان پہنچانے کی شرط رکھی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263161"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت چینی درآمد سے متعلق اجلاس میں 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔</p>
<p>نائب وزیراعظم کی سربراہی میں اسٹئیرنگ کمیٹی کے فالو اپ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ چینی کی درآمد اور ٹی سی پی اور نجی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔</p>
<p>چینی درآمد کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وزیر برائے قومی و غذائی تحفظ اور تینوں صوبوں کے چیف سیکریٹریز سمیت وفاقی و صوبائی سیکریٹریز بھی شریک ہوئے تھے۔</p>
<p>واضح رہےکہ موجودہ حکومت نےجون سے لے کر اکتوبر 2024 کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، اور آخری بار اکتوبر میں 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264679</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 12:22:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/23095122187656d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/23095122187656d.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
