<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 23:09:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 23:09:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ کا آئی جی پنجاب کو سی سی ڈی کے مقابلوں کا جائزہ لینے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264708/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مقابلوں کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک  دن میں جعلی مقابلوں کی 50 ,50 درخواستیں آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار فرحت بی بی کی پٹیشن پر سماعت کی، عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ سی سی ڈی کے آنے کے بعد ایک ہی طرز کے پولیس مقابلے ہورہے ہیں، درخواست گزار کا ایک بیٹا تو مارا گیا، دوسرے کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عالیہ نیلم  نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ریکوری کے بعد ملزم کو لے جاتے ہوئے گاڑی پنکچر ہوئی تو ساتھیوں نے حملہ کردیا، آئی جی کو اس لیے بلایا گیا کہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عدالت کو مطمئن نہیں کر سکا، اب جب پولیس کی رپورٹ آئی ہے تو سارا کیس مختلف نکلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فائرنگ اگر گاڑی پر ہورہی ہے تو فائر سیدھا ملزم کو لگتا ہے؟، گاڑی نہ کسی کانسٹیبل کو گولی لگتی ہے، اب آپ نے جو رپورٹ پیش کی ہے تو حقائق مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی، اور کہا کہ اس وقت سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کی جو لہر چل رہی ہے، اس کا جائزہ لیں، پولیس افسران کے ساتھ بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا جائے تاکہ آئندہ جعلی پولیس مقابلے سامنے نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے فرحت بی بی کی دائر کی گئی درخواست نمٹا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے باہر صحافی نے آئی جی پنجاب سے سوال کیا کہ کیا اب تک کی کاروائیوں کے بعد سی سی ڈی کا کوئی پولیس مقابلہ جعلی نکلا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی پنجاب نے کہا سی سی ڈی آئین اور قانون کے مطابق کام کررہی ہے، سی سی ڈی سے متعلق  چیف جسٹس کے احکامات پر عمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مقابلوں کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک  دن میں جعلی مقابلوں کی 50 ,50 درخواستیں آرہی ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار فرحت بی بی کی پٹیشن پر سماعت کی، عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پیش ہوئے۔</p>
<p>درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ سی سی ڈی کے آنے کے بعد ایک ہی طرز کے پولیس مقابلے ہورہے ہیں، درخواست گزار کا ایک بیٹا تو مارا گیا، دوسرے کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیف جسٹس عالیہ نیلم  نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی رپورٹ کے مطابق ریکوری کے بعد ملزم کو لے جاتے ہوئے گاڑی پنکچر ہوئی تو ساتھیوں نے حملہ کردیا، آئی جی کو اس لیے بلایا گیا کہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عدالت کو مطمئن نہیں کر سکا، اب جب پولیس کی رپورٹ آئی ہے تو سارا کیس مختلف نکلا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فائرنگ اگر گاڑی پر ہورہی ہے تو فائر سیدھا ملزم کو لگتا ہے؟، گاڑی نہ کسی کانسٹیبل کو گولی لگتی ہے، اب آپ نے جو رپورٹ پیش کی ہے تو حقائق مختلف ہیں۔</p>
<p>چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی، اور کہا کہ اس وقت سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کی جو لہر چل رہی ہے، اس کا جائزہ لیں، پولیس افسران کے ساتھ بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا جائے تاکہ آئندہ جعلی پولیس مقابلے سامنے نہ آئیں۔</p>
<p>بعد ازاں عدالت نے فرحت بی بی کی دائر کی گئی درخواست نمٹا دی۔</p>
<p>عدالت کے باہر صحافی نے آئی جی پنجاب سے سوال کیا کہ کیا اب تک کی کاروائیوں کے بعد سی سی ڈی کا کوئی پولیس مقابلہ جعلی نکلا ہے؟</p>
<p>آئی جی پنجاب نے کہا سی سی ڈی آئین اور قانون کے مطابق کام کررہی ہے، سی سی ڈی سے متعلق  چیف جسٹس کے احکامات پر عمل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264708</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 14:17:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/231431115a635df.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/231431115a635df.png"/>
        <media:title>آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی سی ڈی آئین اور قانون کے مطابق کام کررہی ہے۔
—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
