<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 03 May 2026 08:33:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 03 May 2026 08:33:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی وی چینلز میں ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کم ہوتی ہے، کومل میر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264933/</link>
      <description>&lt;p&gt;اداکارہ کومل میر نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کے ساتھ کبھی ہراسانی یا کاسٹنگ کاوٌچ (کام کے بدلے سیکس) جیسے معاملات نہیں ہوئے، تاہم یہ چیزیں انڈسٹری کا حصہ ہیں جب کہ پروڈکشن ہاؤسز کے مقابلے ٹی وی چینلز میں ہراسانی کم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومل میر نے حال ہی میں ’سم تھنگ ہاٹ‘ کو دیے گئے ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=P6baI6H1y1M&amp;amp;t=2526s"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کیریئر سمیت شوبز انڈسٹری کے دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ پاکستانی معاشرے میں اب بھی اداکاروں کی عزت نہیں کی جاتی، خواتین اداکاروں کو زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ہمارے مذہبی عقائد کی وجہ سے اداکاری کو برا اور غلط سمجھا جاتا ہے، جس وجہ سے اداکاروں کو بھی وہ عزت اور مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264741"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اداکاری کو کوئی پیشہ نہیں سمجھا جاتا، اسی وجہ سے بینک والے اداکار بتانے پر اکاؤنٹ تک نہیں کھولتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے سوال پر کومل میر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کبھی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، انہوں نے کبھی اس طرح کی کسی چیز کا سامنا نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومل میر کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کا سامنا نہیں کیا لیکن وہ ایسی چیزوں سے انکار نہیں کرتیں، ایسی چیزیں انڈسٹری میں ہوتی ہیں اور متعدد افراد نے انہیں ایسی کہانیوں کا بتایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کے مطابق اپنے ساتھ ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انڈسٹری میں ایسی چیزیں نہیں ہوتی ہوں گی، ایسی چیزیں دیگر شعبوں کی طرح شوبز انڈسٹری کا بھی حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد افراد نے اپنے ساتھ ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات بتائے ہیں لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کے مطابق ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے زیادہ تر واقعات انفرادی لوگ کرتے ہیں، انفرادی طور پر پروڈیوسر، ہدایت کار اور اسٹائلسٹ ایسا کرتے ہیں لیکن مشترکہ طور پر ایسی چیزیں نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں چھوٹے پروڈکشن ہاؤسز کے مقابلے ٹی وی چینلز اور بڑے پروڈکشن ہاؤسز میں ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات نسبتا کم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومل میر نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے مقابلے اب ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ جیسے واقعات باالترتیب کم ہوتے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا اور بدنام ہونے کے خوف کی وجہ سے اب لوگ ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اداکارہ کومل میر نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کے ساتھ کبھی ہراسانی یا کاسٹنگ کاوٌچ (کام کے بدلے سیکس) جیسے معاملات نہیں ہوئے، تاہم یہ چیزیں انڈسٹری کا حصہ ہیں جب کہ پروڈکشن ہاؤسز کے مقابلے ٹی وی چینلز میں ہراسانی کم ہوتی ہے۔</p>
<p>کومل میر نے حال ہی میں ’سم تھنگ ہاٹ‘ کو دیے گئے ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=P6baI6H1y1M&amp;t=2526s"><strong>انٹرویو</strong></a> میں کیریئر سمیت شوبز انڈسٹری کے دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔</p>
<p>پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ پاکستانی معاشرے میں اب بھی اداکاروں کی عزت نہیں کی جاتی، خواتین اداکاروں کو زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ہمارے مذہبی عقائد کی وجہ سے اداکاری کو برا اور غلط سمجھا جاتا ہے، جس وجہ سے اداکاروں کو بھی وہ عزت اور مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264741"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اداکاری کو کوئی پیشہ نہیں سمجھا جاتا، اسی وجہ سے بینک والے اداکار بتانے پر اکاؤنٹ تک نہیں کھولتے۔</p>
<p>ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے سوال پر کومل میر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کبھی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، انہوں نے کبھی اس طرح کی کسی چیز کا سامنا نہیں کیا۔</p>
<p>کومل میر کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کا سامنا نہیں کیا لیکن وہ ایسی چیزوں سے انکار نہیں کرتیں، ایسی چیزیں انڈسٹری میں ہوتی ہیں اور متعدد افراد نے انہیں ایسی کہانیوں کا بتایا ہے۔</p>
<p>اداکارہ کے مطابق اپنے ساتھ ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انڈسٹری میں ایسی چیزیں نہیں ہوتی ہوں گی، ایسی چیزیں دیگر شعبوں کی طرح شوبز انڈسٹری کا بھی حصہ ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد افراد نے اپنے ساتھ ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات بتائے ہیں لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں بتایا۔</p>
<p>اداکارہ کے مطابق ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے زیادہ تر واقعات انفرادی لوگ کرتے ہیں، انفرادی طور پر پروڈیوسر، ہدایت کار اور اسٹائلسٹ ایسا کرتے ہیں لیکن مشترکہ طور پر ایسی چیزیں نہیں ہوتیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں چھوٹے پروڈکشن ہاؤسز کے مقابلے ٹی وی چینلز اور بڑے پروڈکشن ہاؤسز میں ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ کے واقعات نسبتا کم ہوتے ہیں۔</p>
<p>کومل میر نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے مقابلے اب ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ جیسے واقعات باالترتیب کم ہوتے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا اور بدنام ہونے کے خوف کی وجہ سے اب لوگ ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264933</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Jul 2025 16:33:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/26152805b6c2191.jpg?r=163302" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/26152805b6c2191.jpg?r=163302"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
