<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:59:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:59:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا وزیراعظم اسٹارمر کو خط، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264941/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 221 ارکان پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس کے دوران ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cx202zvygmlo"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب 25 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل یہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے اپنی حمایت ریکارڈ پر لا سکیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین پارلیمنٹ نے لکھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت دو ریاستی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد کا وقت اور طریقہ کار کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح کرے گی کہ وہ اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ ’اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ کے پاس ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کا واحد اختیار نہیں، لیکن برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا ایک مؤثر اقدام ہوگا، خاص طور پر ہماری تاریخی وابستگی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی وجہ سے، ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھایا جائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’فلسطین کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کرنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے بلفور ڈیکلریشن کا اجراء کیا تھا اور فلسطین میں سابقہ مینڈیٹری طاقت رہا ہے، 1980 سے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے آئے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے لکھے خط میں مزید کہا گیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا نہ صرف اس مؤقف کو عملی حیثیت دے گا بلکہ ان تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا جو اس مینڈیٹ کے تحت ہم پر عائد ہوتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کیئراسٹارمر کو لکھے خط میں کہا گیا کہ ’یہ ایک بین الجماعتی خط ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف سیاسی حلقے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں، دو ریاستی حل گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام پارٹیوں کا مشترکہ مؤقف رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید لکھا گیا کہ اکتوبر 2014 کو ایوانِ زیریں نے بھاری اکثریت سے درج ذیل قرارداد منظور کی تھی کہ ’یہ ایوان یقین رکھتا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست کو بھی تسلیم کرنا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی مؤقف آج بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں کا ہے، اور ہم آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کانفرنس میں فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، لندن میں ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں فلسطینیوں تک خوراک کی رسائی بحال کرنے کے لیے مظاہرے میں شرکت کی اور اسرائیل کی غزہ پٹی کو بھوک میں دھکیلنے کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، 24 جولائی کو فرانسیسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا اور وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں باضابطہ اعلان کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 221 ارکان پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس کے دوران ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرے۔</p>
<p>بی بی سی کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cx202zvygmlo"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب 25 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل یہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے اپنی حمایت ریکارڈ پر لا سکیں‘۔</p>
<p>اراکین پارلیمنٹ نے لکھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت دو ریاستی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد کا وقت اور طریقہ کار کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح کرے گی کہ وہ اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خط میں کہا گیا کہ ’اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ کے پاس ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کا واحد اختیار نہیں، لیکن برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا ایک مؤثر اقدام ہوگا، خاص طور پر ہماری تاریخی وابستگی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی وجہ سے، ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھایا جائے‘۔</p>
<p>’فلسطین کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کرنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے بلفور ڈیکلریشن کا اجراء کیا تھا اور فلسطین میں سابقہ مینڈیٹری طاقت رہا ہے، 1980 سے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے آئے ہیں‘۔</p>
<p>’سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے لکھے خط میں مزید کہا گیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا نہ صرف اس مؤقف کو عملی حیثیت دے گا بلکہ ان تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا جو اس مینڈیٹ کے تحت ہم پر عائد ہوتی ہیں‘۔</p>
<p>وزیراعظم کیئراسٹارمر کو لکھے خط میں کہا گیا کہ ’یہ ایک بین الجماعتی خط ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف سیاسی حلقے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں، دو ریاستی حل گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام پارٹیوں کا مشترکہ مؤقف رہا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خط میں مزید لکھا گیا کہ اکتوبر 2014 کو ایوانِ زیریں نے بھاری اکثریت سے درج ذیل قرارداد منظور کی تھی کہ ’یہ ایوان یقین رکھتا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست کو بھی تسلیم کرنا چاہیے‘۔</p>
<p>یہی مؤقف آج بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں کا ہے، اور ہم آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کانفرنس میں فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔</p>
<p>دریں اثنا، لندن میں ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں فلسطینیوں تک خوراک کی رسائی بحال کرنے کے لیے مظاہرے میں شرکت کی اور اسرائیل کی غزہ پٹی کو بھوک میں دھکیلنے کی مذمت کی۔</p>
<p>قبل ازیں، 24 جولائی کو فرانسیسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا اور وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں باضابطہ اعلان کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264941</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Jul 2025 17:40:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/261718506d5c668.jpg?r=172818" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/261718506d5c668.jpg?r=172818"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
