<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:30:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:30:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں جنگ بندی تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کریں گے، سعودی عرب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265140/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں جنگ کے خاتمے تک وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aa.com.tr/en/middle-east/saudi-arabia-says-no-normalization-with-israel-without-establishing-palestinian-state/3644621"&gt;&lt;strong&gt;انادولو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے نیویارک میں فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کے ساتھ اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے منعقد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’مملکت کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265072"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سے پوچھا گیا کہ آیا سعودی عرب ابراہم معاہدوں کو فلسطین کے لیے تسلیم کیے جانے سے جوڑ کر دوبارہ آغاز کر سکتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ آج جو واضح اتفاق رائے سامنے آیا ہے اور جو کل بھی ظاہر ہو گا اور جو فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک مضبوط تحریک کی نشاندہی کرتا ہے، وہ اس بات چیت کا دروازہ کھول سکتا ہے جس کا تعلق تعلقات کی بحالی سے ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزادہ فیصل نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’بات چیت صرف اسی صورت میں شروع ہو سکتی ہے جب غزہ میں جاری تنازع ختم ہو اور وہاں کے عوام کی اذیتوں میں کمی آئے، کیونکہ ایسے حالات میں تعلقات کی بحالی پر بات کرنے کی نہ تو کوئی وجہ ہے، نہ ہی کوئی ساکھ‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہمیں فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں بات کرنی ہو گی اور جب یہ ہدف حاصل ہو جائے، تب ہی ہم تعلقات کو معمول پر لانے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں جنگ کے خاتمے تک وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔</p>
<p>ترک خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aa.com.tr/en/middle-east/saudi-arabia-says-no-normalization-with-israel-without-establishing-palestinian-state/3644621"><strong>انادولو</strong></a> کے مطابق یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے نیویارک میں فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کے ساتھ اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے منعقد کی گئی تھی۔</p>
<p>شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’مملکت کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265072"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان سے پوچھا گیا کہ آیا سعودی عرب ابراہم معاہدوں کو فلسطین کے لیے تسلیم کیے جانے سے جوڑ کر دوبارہ آغاز کر سکتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ آج جو واضح اتفاق رائے سامنے آیا ہے اور جو کل بھی ظاہر ہو گا اور جو فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک مضبوط تحریک کی نشاندہی کرتا ہے، وہ اس بات چیت کا دروازہ کھول سکتا ہے جس کا تعلق تعلقات کی بحالی سے ہے‘۔</p>
<p>شہزادہ فیصل نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’بات چیت صرف اسی صورت میں شروع ہو سکتی ہے جب غزہ میں جاری تنازع ختم ہو اور وہاں کے عوام کی اذیتوں میں کمی آئے، کیونکہ ایسے حالات میں تعلقات کی بحالی پر بات کرنے کی نہ تو کوئی وجہ ہے، نہ ہی کوئی ساکھ‘۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہمیں فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں بات کرنی ہو گی اور جب یہ ہدف حاصل ہو جائے، تب ہی ہم تعلقات کو معمول پر لانے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265140</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 15:00:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/2911443997c0e81.jpg?r=114637" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/2911443997c0e81.jpg?r=114637"/>
        <media:title>— فوٹو: انادولو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
