<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 09:27:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 09:27:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بحیرہ روم میں کشتی الٹنے سے 18 تارکین وطن ہلاک، 50 لاپتا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265192/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقی لیبیا کے شہر طبرق کے قریب بحیرہ روم میں ایک کشتی کے الٹنے سے  کم از کم 18 تارکین وطن ہلاک  اور  50  لاپتا ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم ) نے  کہا کہ  اب تک 10 زندہ بچ جانے والے افراد کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنہ 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا ان تارکین وطن کے لیے ایک عبوری ملک بن چکا ہے جو جنگ اور غربت سے فرار ہو کر یورپ پہنچنے کے لیے صحرا اور بحیرہ روم عبور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت  کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ یہ تازہ ترین سانحہ اس بات کی کڑی یاد دہانی ہے کہ لوگ تحفظ اور بہتر مواقع کی تلاش میں کس قدر جان لیوا خطرات مول لیتے ہیں، لیبیا اب بھی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم عبوری مقام ہے، جہاں وہ استحصال، بدسلوکی  کا سامنا کرتے ہیں اور جان لیوا سفر پر نکل پڑتے ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ، لیبیا کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے حادثے کے بعد کم از کم 60 تارکین وطن کے  جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا،  پہلی کشتی 12 جون کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب ڈوبی تھی، جس میں 21 افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، لاپتا ہوئے تھے جبکہ صرف پانچ افراد کو زندہ بچایا جا سکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر میں لاپتا ہونے والوں میں اریٹریا، پاکستان، مصر اور سوڈان کے شہری شامل تھے، دوسرا حادثہ طبرق بندرگاہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور پیش آیا تھا، جس میں صرف ایک شخص بچ سکا تھا، جس نے بتایا تھا کہ 39 افراد سمندر میں ڈوب گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقی لیبیا کے شہر طبرق کے قریب بحیرہ روم میں ایک کشتی کے الٹنے سے  کم از کم 18 تارکین وطن ہلاک  اور  50  لاپتا ہوگئے۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم ) نے  کہا کہ  اب تک 10 زندہ بچ جانے والے افراد کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔</p>
<p>سنہ 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا ان تارکین وطن کے لیے ایک عبوری ملک بن چکا ہے جو جنگ اور غربت سے فرار ہو کر یورپ پہنچنے کے لیے صحرا اور بحیرہ روم عبور کرتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت  کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ یہ تازہ ترین سانحہ اس بات کی کڑی یاد دہانی ہے کہ لوگ تحفظ اور بہتر مواقع کی تلاش میں کس قدر جان لیوا خطرات مول لیتے ہیں، لیبیا اب بھی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم عبوری مقام ہے، جہاں وہ استحصال، بدسلوکی  کا سامنا کرتے ہیں اور جان لیوا سفر پر نکل پڑتے ہیں۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ ماہ، لیبیا کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے حادثے کے بعد کم از کم 60 تارکین وطن کے  جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا،  پہلی کشتی 12 جون کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب ڈوبی تھی، جس میں 21 افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، لاپتا ہوئے تھے جبکہ صرف پانچ افراد کو زندہ بچایا جا سکا تھا۔</p>
<p>سمندر میں لاپتا ہونے والوں میں اریٹریا، پاکستان، مصر اور سوڈان کے شہری شامل تھے، دوسرا حادثہ طبرق بندرگاہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور پیش آیا تھا، جس میں صرف ایک شخص بچ سکا تھا، جس نے بتایا تھا کہ 39 افراد سمندر میں ڈوب گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265192</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 20:34:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/2920021612fdda8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/2920021612fdda8.jpg"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
