<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 18:11:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 18:11:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں، درآمد و برآمد پر غلط تاثر پیدا کیا جاتا ہے، رانا تنویر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265348/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ چینی کی برآمد اور درآمد کے معاملے پر غلط تاثرپیدا کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ نے کہا کہ چینی کوئی پہلی بار درآمد نہیں کی جارہی، ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک میں چینی کی سپلائی اور قیمتوں کا بھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے، چینی کا سرپلس ذخیرہ موجود تھا، جس کو مدنظر رکھ کر چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر غذائی تحفظ نے کہا  کہ گزشتہ سال جب چینی کی برآمد کی اجازت مانگی گئی تو اس وقت فی کلو قیمت 138 روپے تھی، تاہم جب ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی تو قیمتیں بڑھ گئیں، جب کہ حکومت نے چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو تک رکھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اسے 10 روپے زیادہ ہونا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا تنویر حسین نے کہا کہ شوگر ملز کا مؤقف تھا کہ اضافی چینی برآمد نہ کی گئی تو ان کے پاس بینکوں کے قرض ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے، جس کا اثر آئندہ سال کی گنے کی فصل پر بھی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 15 نومبر کو کرشنگ سیزن شروع ہوجاتا ہے، چینی ایکسپورٹ کے باوجود قیمتوں میں کمی ہوئی تھی، چینی کی برآمد کے بعد 5 لاکھ ٹن اضافی چینی کا ذخیرہ رکھا گیا تھا، تاہم شوگر ملز نے  کہا کہ اس چینی کو حکومت خرید کر رکھے، رمضان کے مہینے میں چینی 130 روپے کلو فروخت ہورہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 10 سال کی تاریخ دیکھ لیں، تو چینی ایکسپورٹ ہوتی رہی ہے، اس کا ایک خاص موسم ہوتا ہے، جس طرح برسات میں مینڈک باہر آتے ہیں، اسی طرح چینی کی برآمد کا خاص موسم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے نمائندے، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شامل ہوتے ہیں، گزشتہ سال ہمارے پاس اوپننگ اسٹاک 8 لاکھ ٹن تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ چینی کی برآمد اور درآمد کے معاملے پر غلط تاثرپیدا کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ نے کہا کہ چینی کوئی پہلی بار درآمد نہیں کی جارہی، ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک میں چینی کی سپلائی اور قیمتوں کا بھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے، چینی کا سرپلس ذخیرہ موجود تھا، جس کو مدنظر رکھ کر چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر غذائی تحفظ نے کہا  کہ گزشتہ سال جب چینی کی برآمد کی اجازت مانگی گئی تو اس وقت فی کلو قیمت 138 روپے تھی، تاہم جب ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی تو قیمتیں بڑھ گئیں، جب کہ حکومت نے چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو تک رکھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اسے 10 روپے زیادہ ہونا چاہیے تھا۔</p>
<p>رانا تنویر حسین نے کہا کہ شوگر ملز کا مؤقف تھا کہ اضافی چینی برآمد نہ کی گئی تو ان کے پاس بینکوں کے قرض ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے، جس کا اثر آئندہ سال کی گنے کی فصل پر بھی پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 15 نومبر کو کرشنگ سیزن شروع ہوجاتا ہے، چینی ایکسپورٹ کے باوجود قیمتوں میں کمی ہوئی تھی، چینی کی برآمد کے بعد 5 لاکھ ٹن اضافی چینی کا ذخیرہ رکھا گیا تھا، تاہم شوگر ملز نے  کہا کہ اس چینی کو حکومت خرید کر رکھے، رمضان کے مہینے میں چینی 130 روپے کلو فروخت ہورہی تھی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 10 سال کی تاریخ دیکھ لیں، تو چینی ایکسپورٹ ہوتی رہی ہے، اس کا ایک خاص موسم ہوتا ہے، جس طرح برسات میں مینڈک باہر آتے ہیں، اسی طرح چینی کی برآمد کا خاص موسم ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے نمائندے، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شامل ہوتے ہیں، گزشتہ سال ہمارے پاس اوپننگ اسٹاک 8 لاکھ ٹن تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265348</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 16:21:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/3115124417ee1bb.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/3115124417ee1bb.png"/>
        <media:title>وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 10 سال کی تاریخ دیکھ لیں، تو چینی ایکسپورٹ ہوتی رہی ہے —فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
