<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:05:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:05:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھر کہانی ، تصویروں کی زبانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/126572/thar-kahani-sohail-sangi-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-1.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126573" alt="Thar-1" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-1.jpg" width="670" height="502" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;مون سون کی بارشیں ہوئیں تو پورے تھر کے ریگستان نے سبز چادر اوڑھ لی۔ ہزاروں لوگوں کو تھر کی طرف کھینچا اور وہ سیاحت کے لیے گروپوں کی شکل میں یہاں پہنچے۔ وہ لوگ جو بارش ہونے کے بعد ہریالی دیکھنے جاتے ہیں وہ تھر کے رہائشی کا دکھ نہیں سمجھ سکتے۔ شاداب علاقوں اور شہر کے لوگوں کو تھر تب یاد آتا ہے جب بارش ہوتی ہے۔ تب یہ لوگ قافلے بنا کر پہنچتے ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; &lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-2-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126574" alt="Thar-2-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-2-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;تھر لوک کہانیوں اور گیتوں کی ہی سرزمین نہیں آزمائشوں کا خطہ بھی ہے۔ یہاں ہر شخص کے پاس درد کہانی ہے۔ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع قحط، غربت، بدحالی کے شکار اس ریگستان کے لوگ تپتی دھوپ میں برسوں بارش کا انتظار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-8a-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126579" alt="Thar-8A-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-8a-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; دو تین سال کے بعد بارش ہوتی ہے تو تین چار ماہ سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ لیکن ایک بارش سے کام نہیں چلتا، بیس بیس دن کے وقفے سے کم از کم تین بارشیں چاہئیں تب جا کر فصلیں ہوتی ہیں۔ اس سے کم بارش پر ہریالی تو ہو جاتی ہے جو بہت سے لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; رواں سال بھی ایسا ہی ہوا۔ تھر میں بارشیں دیر سے ہوئیں اور وہ بھی پورے علاقے میں نہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-6-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126577" alt="Thar-6-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-6-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;بارش ہر قسم کے لوگوں کے لیے خوشی مہیا کرتی ہے۔ ہر ایک کے لیے روزگار اور مصروفیت نکل آتی ہے۔ میراثی گانا گاتے ہیں۔ جوگی بھی اپنی روزی کے لیے نکل پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-11-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126576" alt="Thar-11-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-11-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;کارونجھر کی پہاڑیوں میں، جہاں کے لیے مشہور ہے کہ وہاں سینکڑوں جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بعض مقامی لوگ کچھ جڑی بوٹیاں جمع کرکے بیچتے نظر آتے ہیں اور اپنے حساب سے بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں جڑی بوٹی فلاں بیماری کے لیے مفید ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-7-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126575" alt="Thar-7-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-7-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور علاقے سے ناواقفیت کی وجہ سے سیاحوں کو گائیڈ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ فریضہ چھوٹے چھوٹے بچے سرانجام دیتے ہیں۔ ایک بارہ سالہ بچے کشوری نے بتایا کہ وہ ایک روز میں تین سو روپے تک کما لیتا ہے۔ اور اس طرح کے ننھے منے دس گائیڈ ہیں۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; بارش ہوتی ہے تو انسان ہی نہیں مویشی بھی خوش ہوتے ہیں۔ انہیں پینے کا میٹھا پانی میسر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-3670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126578" alt="Thar-3670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-3670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; قیام پاکستان کے چھیاسٹھ سال بعد بھی تھر کے لوگ وہی پرانی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ پینے کے پانی کی سہولت نہ تعلیم، صحت اور روزگار کی۔ نتیجے میں بارشیں نہ ہونے کی صورت میں چالیس فیصد آبادی نقل مکانی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; &lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-14-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126580" alt="Thar-14-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-14-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;تھر میں درخت کاٹنا پاپ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ترقی کے نام پر ہزاروں درختوں کو تباہ کردیا ہے۔ تھر میں درخت اگانا یا اس کا بڑا ہونا مذاق نہیں اس میں بیس برس سے زیادہ کا عرصہ چاہئے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-17-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126581" alt="Thar-17-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-17-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; مٹھی اور اسلام کوٹ کے درمیان روڈ اور ایئر پورٹ کی تعمیر کے لیے ریت کے ٹیلوں کو الٹ دیا گیا ہے، اور ماحولیات کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-15-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126583" alt="Thar-15-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-15-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; ماحولیات پر کام کرنے والے بھارومل امرانی کا کہنا ہے کہ روڈ بنانے کے لیے ٹھیکیدار کو مٹی کے کام کے لیے الگ رقم ملتی ہے۔ اور اسکو یہ مٹی باہر سے لانی ہے مگر یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔ درخت کاٹنا بھی منع ہے، مگر روڈ بنانے کے لیے یہاں کے درخت کاٹ کر روڈ بنانے کا ایندھن بنایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-20-670.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-126584" alt="Thar-20-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-20-670.jpg" width="670" height="350" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt; یہ ہریالی اور سبزہ چند دن کی بات ہے۔ سماجی کارکن علی اکبر بتاتے ہیں کہ تیسری بارش نہ پڑنے کی وجہ سے یہ ہریالی اب سوکھنے لگی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر بارش نہیں ہوئی توفصلیں بھی ناکام ہو جائیں گی اور بمشکل ایک تہائی پیداوار ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;&#13;
&lt;p&gt;تصاویر اور تحریر: &lt;strong&gt;سہیل سانگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-1.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126573" alt="Thar-1" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-1.jpg" width="670" height="502" /></a></p>
<p>مون سون کی بارشیں ہوئیں تو پورے تھر کے ریگستان نے سبز چادر اوڑھ لی۔ ہزاروں لوگوں کو تھر کی طرف کھینچا اور وہ سیاحت کے لیے گروپوں کی شکل میں یہاں پہنچے۔ وہ لوگ جو بارش ہونے کے بعد ہریالی دیکھنے جاتے ہیں وہ تھر کے رہائشی کا دکھ نہیں سمجھ سکتے۔ شاداب علاقوں اور شہر کے لوگوں کو تھر تب یاد آتا ہے جب بارش ہوتی ہے۔ تب یہ لوگ قافلے بنا کر پہنچتے ہیں۔</p>
<p> <a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-2-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126574" alt="Thar-2-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-2-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p>تھر لوک کہانیوں اور گیتوں کی ہی سرزمین نہیں آزمائشوں کا خطہ بھی ہے۔ یہاں ہر شخص کے پاس درد کہانی ہے۔ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع قحط، غربت، بدحالی کے شکار اس ریگستان کے لوگ تپتی دھوپ میں برسوں بارش کا انتظار کرتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-8a-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126579" alt="Thar-8A-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-8a-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p> دو تین سال کے بعد بارش ہوتی ہے تو تین چار ماہ سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ لیکن ایک بارش سے کام نہیں چلتا، بیس بیس دن کے وقفے سے کم از کم تین بارشیں چاہئیں تب جا کر فصلیں ہوتی ہیں۔ اس سے کم بارش پر ہریالی تو ہو جاتی ہے جو بہت سے لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p> رواں سال بھی ایسا ہی ہوا۔ تھر میں بارشیں دیر سے ہوئیں اور وہ بھی پورے علاقے میں نہیں۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-6-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126577" alt="Thar-6-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-6-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p>بارش ہر قسم کے لوگوں کے لیے خوشی مہیا کرتی ہے۔ ہر ایک کے لیے روزگار اور مصروفیت نکل آتی ہے۔ میراثی گانا گاتے ہیں۔ جوگی بھی اپنی روزی کے لیے نکل پڑتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-11-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126576" alt="Thar-11-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-11-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p>کارونجھر کی پہاڑیوں میں، جہاں کے لیے مشہور ہے کہ وہاں سینکڑوں جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بعض مقامی لوگ کچھ جڑی بوٹیاں جمع کرکے بیچتے نظر آتے ہیں اور اپنے حساب سے بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں جڑی بوٹی فلاں بیماری کے لیے مفید ہے۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-7-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126575" alt="Thar-7-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-7-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p> سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور علاقے سے ناواقفیت کی وجہ سے سیاحوں کو گائیڈ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ فریضہ چھوٹے چھوٹے بچے سرانجام دیتے ہیں۔ ایک بارہ سالہ بچے کشوری نے بتایا کہ وہ ایک روز میں تین سو روپے تک کما لیتا ہے۔ اور اس طرح کے ننھے منے دس گائیڈ ہیں۔</p>
<p> بارش ہوتی ہے تو انسان ہی نہیں مویشی بھی خوش ہوتے ہیں۔ انہیں پینے کا میٹھا پانی میسر ہو جاتا ہے۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-3670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126578" alt="Thar-3670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-3670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p> قیام پاکستان کے چھیاسٹھ سال بعد بھی تھر کے لوگ وہی پرانی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ پینے کے پانی کی سہولت نہ تعلیم، صحت اور روزگار کی۔ نتیجے میں بارشیں نہ ہونے کی صورت میں چالیس فیصد آبادی نقل مکانی کرتی ہے۔</p>
<p> <a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-14-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126580" alt="Thar-14-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-14-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p>تھر میں درخت کاٹنا پاپ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ترقی کے نام پر ہزاروں درختوں کو تباہ کردیا ہے۔ تھر میں درخت اگانا یا اس کا بڑا ہونا مذاق نہیں اس میں بیس برس سے زیادہ کا عرصہ چاہئے۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-17-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126581" alt="Thar-17-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-17-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p> مٹھی اور اسلام کوٹ کے درمیان روڈ اور ایئر پورٹ کی تعمیر کے لیے ریت کے ٹیلوں کو الٹ دیا گیا ہے، اور ماحولیات کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-15-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126583" alt="Thar-15-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-15-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p> ماحولیات پر کام کرنے والے بھارومل امرانی کا کہنا ہے کہ روڈ بنانے کے لیے ٹھیکیدار کو مٹی کے کام کے لیے الگ رقم ملتی ہے۔ اور اسکو یہ مٹی باہر سے لانی ہے مگر یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔ درخت کاٹنا بھی منع ہے، مگر روڈ بنانے کے لیے یہاں کے درخت کاٹ کر روڈ بنانے کا ایندھن بنایا جارہا ہے۔</p>
<p><a href="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-20-670.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-126584" alt="Thar-20-670" src="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-20-670.jpg" width="670" height="350" /></a></p>
<p> یہ ہریالی اور سبزہ چند دن کی بات ہے۔ سماجی کارکن علی اکبر بتاتے ہیں کہ تیسری بارش نہ پڑنے کی وجہ سے یہ ہریالی اب سوکھنے لگی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر بارش نہیں ہوئی توفصلیں بھی ناکام ہو جائیں گی اور بمشکل ایک تہائی پیداوار ہوسکے گی۔</p>
<p>تصاویر اور تحریر: <strong>سہیل سانگی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/126572</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Oct 2013 09:00:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سانگی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="3456" width="4608">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/urdu/2013/09/thar-1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
