<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:53:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:53:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس سے تیل خرید کر بھارت یوکرین کیخلاف جنگ میں اس کی مالی معاونت کررہا ہے، ٹرمپ کے بااثر مشیر کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265783/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  مشیر اعلیٰ نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جنگ میں موثر طور پر اس کی مالی معاونت کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق  مشیراعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے نئی دہلی پر روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے لیے دباؤ  بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اور صدر ٹرمپ کے بااثر ترین مشیروں میں سے ایک، اسٹیفن ملر نے کہا کہ’ صدر ٹرمپ نے بالکل واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں ہے کہ بھارت روس سے تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جنگ میں اس کی مالی معاونت جاری رکھے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیفن ملر کی جانب سے یہ بیان امریکا کی طرف سے بھارت جیسے اہم انڈو-پیسیفک شراکت دار پر اب تک کی سب سے سخت تنقید میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265385"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں کہا کہ’ لوگ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ روسی تیل کی خریداری میں بھارت، چین کے برابر کھڑا ہے،  یہ ایک حیران کن حقیقت ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت کے ذرائع نے ہفتے کے روز رائٹرز کو بتایا تھا کہ نئی دہلی امریکا کی دھمکیوں کے باوجود ماسکو سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  روس سے دفاعی ساز و سامان اور توانائی کی خریداری کے باعث بھارت پر  امریکا کی جانب سے جمعے سے 25 فیصد درآمدی ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ان ممالک سے امریکا میں درآمدات پر 100 فیصد ٹیکس عائد کریں گے جو روس سے تیل خریدتے رہیں گے، جب تک کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ کوئی بڑا امن معاہدہ نہ کر لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیفن ملر نے اپنی تنقید کو کچھ نرم کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات ’ شاندار’  ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  مشیر اعلیٰ نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جنگ میں موثر طور پر اس کی مالی معاونت کررہا ہے۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق  مشیراعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے نئی دہلی پر روسی تیل کی خریداری بند کرنے کے لیے دباؤ  بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اور صدر ٹرمپ کے بااثر ترین مشیروں میں سے ایک، اسٹیفن ملر نے کہا کہ’ صدر ٹرمپ نے بالکل واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں ہے کہ بھارت روس سے تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جنگ میں اس کی مالی معاونت جاری رکھے۔’</p>
<p>اسٹیفن ملر کی جانب سے یہ بیان امریکا کی طرف سے بھارت جیسے اہم انڈو-پیسیفک شراکت دار پر اب تک کی سب سے سخت تنقید میں سے ایک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265385"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں کہا کہ’ لوگ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ روسی تیل کی خریداری میں بھارت، چین کے برابر کھڑا ہے،  یہ ایک حیران کن حقیقت ہے۔’</p>
<p>واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>بھارتی حکومت کے ذرائع نے ہفتے کے روز رائٹرز کو بتایا تھا کہ نئی دہلی امریکا کی دھمکیوں کے باوجود ماسکو سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ  روس سے دفاعی ساز و سامان اور توانائی کی خریداری کے باعث بھارت پر  امریکا کی جانب سے جمعے سے 25 فیصد درآمدی ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ان ممالک سے امریکا میں درآمدات پر 100 فیصد ٹیکس عائد کریں گے جو روس سے تیل خریدتے رہیں گے، جب تک کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ کوئی بڑا امن معاہدہ نہ کر لے۔</p>
<p>اسٹیفن ملر نے اپنی تنقید کو کچھ نرم کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات ’ شاندار’  ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265783</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Aug 2025 22:45:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/032208524513501.jpg?r=221201" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/032208524513501.jpg?r=221201"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
