<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 01:21:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 01:21:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان: لاپتا سیاحوں کی تلاش کیلئے جاری آپریشن 14 دن بعد ختم، غائبانہ نماز جناہ ادا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265841/</link>
      <description>&lt;p&gt;گلگت بلتستان کے علاقے بابو سر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں لاپتا ہونے والے سیاحوں کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن 14 دن بعد ختم کر دیا گیا، جبکہ ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ جون سے شدید سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے، جو بادل پھٹنے، گلیشیئر جھیل کے سیلاب (گلوف) اور موسمی بارشوں کے نتیجے میں آئے ہیں، ان واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے، اور گلگت بلتستان کا خطہ ان متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;21 جولائی کو بابو سر کے علاقے میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں 7افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی تھی، لیکن 12 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جبکہ علاقے میں اموات کی تعداد 10 تک پہنچ چکی ہے لیکن اس میں لاپتا افراد شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ایک بیان میں گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا کہ ’بابو سر میں لاپتا افراد کی غائبانہ نماز جنازہ میں ادا کی گئی‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بابو سر ہائی وے پر 14 دنوں سے جاری سرچ آپریشن ختم ہو چکا ہے، لیکن ’تمام گاڑیاں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، مگر لاپتا افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لاپتا افراد کے سیلاب زدہ علاقے سے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان حکومت نے بابو سر ہائی وے پر سرچ تلاش مزید تیز کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آپریشن میں دیامر پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، پاکستان آرمی کے اہلکار، ریسکیو 1122 اور مقامی رضا کاروں نے حصہ لیا، جبکہ ڈرون کیمپس، جدید آلات، سنائفر کتے، تکنیکی میکانیزم، بھاری مشینری اور انسانی وسائل اس آپریشن میں استعمال کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غذر-میں-4-دن-بعد-5-افراد-کو-بچا-لیا-گیا" href="#غذر-میں-4-دن-بعد-5-افراد-کو-بچا-لیا-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غذر میں 4 دن بعد 5 افراد کو بچا لیا گیا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، غذر ضلع میں سیلاب کی وجہ سے 4 دن سے پھنسے ہوئے ایک خاندان کے پانچ افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذر ریسکیو 1122 کے میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق 31 جولائی کی شام ایک  سڑک سیلاب سے بہہ گئی تھی، جس کے نتیجے میں غذر کے گوپس خاتم گاؤں میں پانچ افراد کا خاندان دریا کے دوسری طرف پھنس گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/08/04114532c7d468e.png?r=114715'  alt=' &amp;mdash; فوٹو: ریسکیو 1122 ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فوٹو: ریسکیو 1122&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’آج ریسکیو ٹیم نے تمام افراد کو بچا کر کشتی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا‘، مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران دیگر متاثرہ خاندانوں کو خوراک بھی فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے غذر کی عشکومن اور گوپس وادیوں میں 62 گھروں، پانی کی فراہمی اور بجلی کے نظاموں، ساتھ ہی صحت اور تعلیم کے مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سیاسی رہنما ظفر محمد شادمخیل کے مطابق آسمانی بجلی ایک ساتھ 11 مقامات پر گری، جس سے گھروں، عمارتوں، اسکولوں، سڑکوں اور پاور پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا، انہوں نے کہا کہ 600 افراد پینے کے پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گلگت بلتستان کے علاقے بابو سر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں لاپتا ہونے والے سیاحوں کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن 14 دن بعد ختم کر دیا گیا، جبکہ ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ جون سے شدید سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے، جو بادل پھٹنے، گلیشیئر جھیل کے سیلاب (گلوف) اور موسمی بارشوں کے نتیجے میں آئے ہیں، ان واقعات کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے، اور گلگت بلتستان کا خطہ ان متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔</p>
<p>21 جولائی کو بابو سر کے علاقے میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں 7افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی تھی، لیکن 12 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جبکہ علاقے میں اموات کی تعداد 10 تک پہنچ چکی ہے لیکن اس میں لاپتا افراد شامل نہیں ہیں۔</p>
<p>آج ایک بیان میں گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا کہ ’بابو سر میں لاپتا افراد کی غائبانہ نماز جنازہ میں ادا کی گئی‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بابو سر ہائی وے پر 14 دنوں سے جاری سرچ آپریشن ختم ہو چکا ہے، لیکن ’تمام گاڑیاں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، مگر لاپتا افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔‘</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لاپتا افراد کے سیلاب زدہ علاقے سے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔‘</p>
<p>گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان حکومت نے بابو سر ہائی وے پر سرچ تلاش مزید تیز کر دیا تھا۔</p>
<p>اس آپریشن میں دیامر پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، پاکستان آرمی کے اہلکار، ریسکیو 1122 اور مقامی رضا کاروں نے حصہ لیا، جبکہ ڈرون کیمپس، جدید آلات، سنائفر کتے، تکنیکی میکانیزم، بھاری مشینری اور انسانی وسائل اس آپریشن میں استعمال کیے گئے۔</p>
<h1><a id="غذر-میں-4-دن-بعد-5-افراد-کو-بچا-لیا-گیا" href="#غذر-میں-4-دن-بعد-5-افراد-کو-بچا-لیا-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غذر میں 4 دن بعد 5 افراد کو بچا لیا گیا</h1>
<p>دوسری جانب، غذر ضلع میں سیلاب کی وجہ سے 4 دن سے پھنسے ہوئے ایک خاندان کے پانچ افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>غذر ریسکیو 1122 کے میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق 31 جولائی کی شام ایک  سڑک سیلاب سے بہہ گئی تھی، جس کے نتیجے میں غذر کے گوپس خاتم گاؤں میں پانچ افراد کا خاندان دریا کے دوسری طرف پھنس گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/08/04114532c7d468e.png?r=114715'  alt=' &mdash; فوٹو: ریسکیو 1122 ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فوٹو: ریسکیو 1122</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’آج ریسکیو ٹیم نے تمام افراد کو بچا کر کشتی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا‘، مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران دیگر متاثرہ خاندانوں کو خوراک بھی فراہم کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے غذر کی عشکومن اور گوپس وادیوں میں 62 گھروں، پانی کی فراہمی اور بجلی کے نظاموں، ساتھ ہی صحت اور تعلیم کے مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔</p>
<p>مقامی سیاسی رہنما ظفر محمد شادمخیل کے مطابق آسمانی بجلی ایک ساتھ 11 مقامات پر گری، جس سے گھروں، عمارتوں، اسکولوں، سڑکوں اور پاور پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا، انہوں نے کہا کہ 600 افراد پینے کے پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265841</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 18:55:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز تاججمیل نگری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/04184820b676d0a.png?r=184833" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/04184820b676d0a.png?r=184833"/>
        <media:title>— فوٹو: امتیاز تاج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
