<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 29 May 2026 02:41:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 29 May 2026 02:41:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یمنی شہری کا بھارتی نرس کو جلد پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265871/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی نرس نمیشا پریا کے ہاتھوں قتل ہونے والے یمنی تاجر طلال عبدو مہدی کے بھائی عبد الفتاح مہدی نے ایک بار پھر حکومت سے پھر مطالبہ کیا ہے کہ قتل کی سزا یافتہ بھارتی نرس کی سزائے موت کے حکم پر فوری طور عمل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/world/asia/india/nimisha-priya-death-row-victims-family-demands-immediate-execution-of-indian-nurse-in-yemen-1.500222112"&gt;&lt;strong&gt;’گلف نیوز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 30 جولائی کو لکھے گئے خط میں عبد الفتاح مہدی نے یمن کے اٹارنی جنرل جسٹس عبد السلام الحوثی سے اپیل کی کہ وہ نمیشا پریا کی سزائے موت پر فوری طور پر عمل درآمد کروائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں لکھا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق نمیشا پریا کو 16 جولائی کو پھانسی دی جانی تھی لیکن اسے موخر کیا گیا، اب اس پر فوری عمل کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کے خاندان نے بھارت کی تمام مفاہمتی کوششوں اور ’خون بہا‘ یعنی (دیت) کے بدلے بھی معافی کو یکسر مسترد کر دیا ہے، وہ بدلے کے قانون پر قائم ہیں اور اس پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبد الفتاح نے بھارتی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر انہوں نے ’گمراہ کن رپورٹنگ‘ کا الزام بھی عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265201"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کہ کوئی ثالثی یا صلح ہو رہی ہے، غلط ہے، ان کے بھائی کا خون کسی سودے بازی کی منڈی میں بکنے والا مال نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی جانب سے خط لکھے جانے سے قبل انہوں نے 25 جولائی کو یمن کے حکام سے بھارتی نرس کو پھانسی دینے کی نئی تاریخ مقرر کرنے کی اپیل بھی کی تھی اور یہ واضح کیا تھا کہ بھارتی مذہبی شخصیات یا حکومتی نمائندوں کے ساتھ ان کی کوئی مفاہمت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ نریشما پریا کی پھانسی منسوخ نہیں بلکہ ملتوی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نمیشا پریا کی 13 سالہ بیٹی مشیل نے یمن سے ایک ویڈیو پیغام میں دنیا سے اپیل کی کہ انہیں اپنی ماں کی بہت یاد آتی ہے، براہ کرم انہیں واپس لانے میں ان کی مدد کی جائے، وہ کچھ دن قبل ہی اپنے والد اور سماجی کارکنان کے ہمراہ یمن پہنچی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ بھارت کے مفتی اعظم شیخ ابوبکر کی کوششوں سےہی بھارتی نرس کی سزائے موت موخر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے مفتی اعظم شیخ ابوبکر کی مداخلت کے بعد یمن میں بھارتی نرس کی سزائے موت پر عمل درآمد روکا گیا تھا، نمیشا پریا کو رواں ماہ 16 جولائی کو پھانسی دی جانی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمیشا پریا کو یمنی عدالت نے 2018 میں یمنی کاروباری شراکت دار طلال عبدو مہدی کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا، اس سے قبل 2017 سے ان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2020 میں یمنی عدالت نے بھارتی نرس کو سزائے موت سنائی تھی، دسمبر 2024 میں یمنی صدر نے انہیں پھانسی دینے کی منطوری دی تھی جب کہ 2025 کے آغاز میں حوثی باغی رہنماؤں نے بھی نمیشا پریا کو پھانسی دینے کی منظوری کی تصدیق کی تھی اور انہیں 16 جولائی کو سزائے موت دی جانی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمیشا روزگار کے سلسلے میں 2008 میں یمن گئی تھیں اور وہاں کے رہائشی کے ساتھ مشترکہ طور پر انہوں نے لیب اور ہسپتال کھولا تھا، جہاں بعد ازاں ان میں اختلافات پیدا ہوئے اور نرس نے 2017 میں پارٹنر کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کردیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمیشا پریا کا تعلق بھارتی ریاست کیرالہ سے ہے اور وہ مسیحیت کی پیروکار ہیں، انہوں نے بھارت میں شادی بھی کر رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی نرس نمیشا پریا کے ہاتھوں قتل ہونے والے یمنی تاجر طلال عبدو مہدی کے بھائی عبد الفتاح مہدی نے ایک بار پھر حکومت سے پھر مطالبہ کیا ہے کہ قتل کی سزا یافتہ بھارتی نرس کی سزائے موت کے حکم پر فوری طور عمل کیا جائے۔</p>
<p>عرب اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/world/asia/india/nimisha-priya-death-row-victims-family-demands-immediate-execution-of-indian-nurse-in-yemen-1.500222112"><strong>’گلف نیوز‘</strong></a> کے مطابق 30 جولائی کو لکھے گئے خط میں عبد الفتاح مہدی نے یمن کے اٹارنی جنرل جسٹس عبد السلام الحوثی سے اپیل کی کہ وہ نمیشا پریا کی سزائے موت پر فوری طور پر عمل درآمد کروائے۔</p>
<p>خط میں لکھا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق نمیشا پریا کو 16 جولائی کو پھانسی دی جانی تھی لیکن اسے موخر کیا گیا، اب اس پر فوری عمل کرایا جائے۔</p>
<p>خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کے خاندان نے بھارت کی تمام مفاہمتی کوششوں اور ’خون بہا‘ یعنی (دیت) کے بدلے بھی معافی کو یکسر مسترد کر دیا ہے، وہ بدلے کے قانون پر قائم ہیں اور اس پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔</p>
<p>عبد الفتاح نے بھارتی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر انہوں نے ’گمراہ کن رپورٹنگ‘ کا الزام بھی عائد کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265201"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کہ کوئی ثالثی یا صلح ہو رہی ہے، غلط ہے، ان کے بھائی کا خون کسی سودے بازی کی منڈی میں بکنے والا مال نہیں ہے۔</p>
<p>ان کی جانب سے خط لکھے جانے سے قبل انہوں نے 25 جولائی کو یمن کے حکام سے بھارتی نرس کو پھانسی دینے کی نئی تاریخ مقرر کرنے کی اپیل بھی کی تھی اور یہ واضح کیا تھا کہ بھارتی مذہبی شخصیات یا حکومتی نمائندوں کے ساتھ ان کی کوئی مفاہمت نہیں ہوئی۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ نریشما پریا کی پھانسی منسوخ نہیں بلکہ ملتوی ہوئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب نمیشا پریا کی 13 سالہ بیٹی مشیل نے یمن سے ایک ویڈیو پیغام میں دنیا سے اپیل کی کہ انہیں اپنی ماں کی بہت یاد آتی ہے، براہ کرم انہیں واپس لانے میں ان کی مدد کی جائے، وہ کچھ دن قبل ہی اپنے والد اور سماجی کارکنان کے ہمراہ یمن پہنچی تھیں۔</p>
<p>اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ بھارت کے مفتی اعظم شیخ ابوبکر کی کوششوں سےہی بھارتی نرس کی سزائے موت موخر ہوئی۔</p>
<p>بھارت کے مفتی اعظم شیخ ابوبکر کی مداخلت کے بعد یمن میں بھارتی نرس کی سزائے موت پر عمل درآمد روکا گیا تھا، نمیشا پریا کو رواں ماہ 16 جولائی کو پھانسی دی جانی تھی۔</p>
<p>نمیشا پریا کو یمنی عدالت نے 2018 میں یمنی کاروباری شراکت دار طلال عبدو مہدی کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا، اس سے قبل 2017 سے ان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری تھی۔</p>
<p>سال 2020 میں یمنی عدالت نے بھارتی نرس کو سزائے موت سنائی تھی، دسمبر 2024 میں یمنی صدر نے انہیں پھانسی دینے کی منطوری دی تھی جب کہ 2025 کے آغاز میں حوثی باغی رہنماؤں نے بھی نمیشا پریا کو پھانسی دینے کی منظوری کی تصدیق کی تھی اور انہیں 16 جولائی کو سزائے موت دی جانی تھی۔</p>
<p>نمیشا روزگار کے سلسلے میں 2008 میں یمن گئی تھیں اور وہاں کے رہائشی کے ساتھ مشترکہ طور پر انہوں نے لیب اور ہسپتال کھولا تھا، جہاں بعد ازاں ان میں اختلافات پیدا ہوئے اور نرس نے 2017 میں پارٹنر کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کردیے تھے۔</p>
<p>نمیشا پریا کا تعلق بھارتی ریاست کیرالہ سے ہے اور وہ مسیحیت کی پیروکار ہیں، انہوں نے بھارت میں شادی بھی کر رکھی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265871</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 22:58:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/04225025e3bc245.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/04225025e3bc245.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
