<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 13:08:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 13:08:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک گیر احتجاج کی کال، کراچی اور لاہور سے پی ٹی آئی کے کئی کارکنان زیر حراست</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265926/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کے باضابطہ آغاز کے بعد پارٹی رہنما ریحانہ ڈار کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں ریلیاں نکالنے اور سڑکوں کی بندش کیخلاف پولیس نے کارروائیاں کر کے 80 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عمران خان توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق کیس میں 5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، ان پر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت دیگر مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی، جو ان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر آج اپنے ’عروج‘ پر پہنچنا تھی، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ 5 اگست احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے، مگر اسے ’آخری کال‘ نہ سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریحانہ ڈار جیسی بزرگ خاتون کو پنجاب پولیس جس طرح گھسیٹ رہی ہے، وہ انتہائی شرمناک منظر ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/1952639505866928466"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ریحانہ ڈار کو دکھایا گیا، جو 2024 کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف امیدوار تھیں، اور پولیس اہلکار انہیں وین میں زبردستی بٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اخلاقیات اور شرافت کے تمام اصول روند چکے ہیں اور پستی کے نئے درجے تک گر گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کراچی-میں-احتجاج--50-سے-زائد-کارکنان-زیر-حراست" href="#کراچی-میں-احتجاج--50-سے-زائد-کارکنان-زیر-حراست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کراچی میں احتجاج ، 50 سے زائد کارکنان زیر حراست&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ادھر، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی میں بھی مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا، جہاں پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ پولیس نے مختلف علاقوں سے 50 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلع کیماڑی میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کا آمنا سامنا ہوا جہاں پولیس نے 25 کارکنوں کو حراست میں لے لیا، ضلع کورنگی سے 20 سے زائد کارکنوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا، حراست میں لیے جانے والوں میں رکنِ سندھ اسمبلی ساجد میر بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلع ملیر کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کی ریلی نکالنےکی کوشش کے دوران پولیس نے 10سے زائدکارکنوں کوحراست میں لے لیا ہے، کے 4 چورنگی کےقریب تحریک انصاف کی ریلی روکنے پر پولیس اور کارکنان  میں تصادم ہو گیا، اس دوران ڈنڈا لگنے سے ڈی ایس پی نیو کراچی ندیم زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے 3 افراد کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر یونیورسٹی روڈ پر بھی پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کا آمنا سامنا ہوا، پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان پر شدید شیلنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="لاہور-میں-30-سے-زائد-کارکنان-گرفتار" href="#لاہور-میں-30-سے-زائد-کارکنان-گرفتار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;لاہور میں 30 سے زائد کارکنان گرفتار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں بھی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، پولیس حکام کے مطابق لاہور میں 30 سے زائد کارکنوں کو ریلیاں نکالنے کی کوششوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران کے مطابق مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے سڑکوں کو بند کرنے کی کوشش کی، اس دوان کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے سیکڑوں کارکنان کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی بہاولپور کے اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں احتجاج کرنے والے اس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پارٹی کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر میں کارکنوں کو پولیس وین میں سوار ہوتے وقت فتح کا نشان بناتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ پولیس اہلکار لاٹھیوں سے لیس نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DawodShahkakar1/status/1952688398021345535"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی ملتان نے الزام لگایا کہ لاہور میں اس کے جلسے پر پولیس نے ’حملہ‘ کیا، جس میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، شیئر کی گئی تصاویر میں ایک گاڑی کی پچھلی کھڑکی کو ٹوٹا ہوا اور اس میں سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد قیصر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پنجاب اور کشمیر میں پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے، جبکہ پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ شیان بشیر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں مبینہ طور پر حلف نامے جمع کروانے کے بعد رہا کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="موٹر-وے-کی-بندش" href="#موٹر-وے-کی-بندش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;موٹر وے کی بندش&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کی احتجاج کے باعث مختلف جگہوں پر موٹرویز پر بھی ٹریفک کی آمدورفت میں خلل آیا ہے، پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی موٹر وے پر صوابی انٹرچینج کو شام 5 بجے سے دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ۱ ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹر وے پولیس کی جانب سے متعدد کوششوں کے باوجود کارکنان نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر ہری پور میں بھی تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنان نے ’جھاری کس‘ کے مقام پر موٹر وے کو بند کر دیا ہے، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر جاری ریلی میں ہزارہ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے قافلے بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کے باضابطہ آغاز کے بعد پارٹی رہنما ریحانہ ڈار کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں ریلیاں نکالنے اور سڑکوں کی بندش کیخلاف پولیس نے کارروائیاں کر کے 80 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ عمران خان توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق کیس میں 5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، ان پر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت دیگر مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔</p>
<p>عمران خان نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی، جو ان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر آج اپنے ’عروج‘ پر پہنچنا تھی، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ 5 اگست احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے، مگر اسے ’آخری کال‘ نہ سمجھا جائے۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریحانہ ڈار جیسی بزرگ خاتون کو پنجاب پولیس جس طرح گھسیٹ رہی ہے، وہ انتہائی شرمناک منظر ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/1952639505866928466"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پی ٹی آئی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ریحانہ ڈار کو دکھایا گیا، جو 2024 کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف امیدوار تھیں، اور پولیس اہلکار انہیں وین میں زبردستی بٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اخلاقیات اور شرافت کے تمام اصول روند چکے ہیں اور پستی کے نئے درجے تک گر گئے ہیں۔</p>
<h1><a id="کراچی-میں-احتجاج--50-سے-زائد-کارکنان-زیر-حراست" href="#کراچی-میں-احتجاج--50-سے-زائد-کارکنان-زیر-حراست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کراچی میں احتجاج ، 50 سے زائد کارکنان زیر حراست</h1>
<p>ادھر، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی میں بھی مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا، جہاں پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ پولیس نے مختلف علاقوں سے 50 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔</p>
<p>ضلع کیماڑی میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کا آمنا سامنا ہوا جہاں پولیس نے 25 کارکنوں کو حراست میں لے لیا، ضلع کورنگی سے 20 سے زائد کارکنوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا، حراست میں لیے جانے والوں میں رکنِ سندھ اسمبلی ساجد میر بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ضلع ملیر کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کی ریلی نکالنےکی کوشش کے دوران پولیس نے 10سے زائدکارکنوں کوحراست میں لے لیا ہے، کے 4 چورنگی کےقریب تحریک انصاف کی ریلی روکنے پر پولیس اور کارکنان  میں تصادم ہو گیا، اس دوران ڈنڈا لگنے سے ڈی ایس پی نیو کراچی ندیم زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے 3 افراد کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>اُدھر یونیورسٹی روڈ پر بھی پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کا آمنا سامنا ہوا، پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان پر شدید شیلنگ کی۔</p>
<h1><a id="لاہور-میں-30-سے-زائد-کارکنان-گرفتار" href="#لاہور-میں-30-سے-زائد-کارکنان-گرفتار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>لاہور میں 30 سے زائد کارکنان گرفتار</h1>
<p>لاہور میں بھی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، پولیس حکام کے مطابق لاہور میں 30 سے زائد کارکنوں کو ریلیاں نکالنے کی کوششوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران کے مطابق مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے سڑکوں کو بند کرنے کی کوشش کی، اس دوان کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے سیکڑوں کارکنان کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کی ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی بہاولپور کے اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں احتجاج کرنے والے اس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پارٹی کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر میں کارکنوں کو پولیس وین میں سوار ہوتے وقت فتح کا نشان بناتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ پولیس اہلکار لاٹھیوں سے لیس نظر آئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DawodShahkakar1/status/1952688398021345535"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پی ٹی آئی ملتان نے الزام لگایا کہ لاہور میں اس کے جلسے پر پولیس نے ’حملہ‘ کیا، جس میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، شیئر کی گئی تصاویر میں ایک گاڑی کی پچھلی کھڑکی کو ٹوٹا ہوا اور اس میں سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اسد قیصر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پنجاب اور کشمیر میں پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے، جبکہ پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ شیان بشیر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں مبینہ طور پر حلف نامے جمع کروانے کے بعد رہا کیا گیا۔</p>
<h1><a id="موٹر-وے-کی-بندش" href="#موٹر-وے-کی-بندش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>موٹر وے کی بندش</h1>
<p>تحریک انصاف کی احتجاج کے باعث مختلف جگہوں پر موٹرویز پر بھی ٹریفک کی آمدورفت میں خلل آیا ہے، پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی موٹر وے پر صوابی انٹرچینج کو شام 5 بجے سے دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ۱ ۔</p>
<p>موٹر وے پولیس کی جانب سے متعدد کوششوں کے باوجود کارکنان نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>اُدھر ہری پور میں بھی تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنان نے ’جھاری کس‘ کے مقام پر موٹر وے کو بند کر دیا ہے، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر جاری ریلی میں ہزارہ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے قافلے بھی موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265926</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 23:56:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/0515065167a87f9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/0515065167a87f9.jpg"/>
        <media:title>تحریک انصاف کی رہنما ریحانہ ڈار کو گرفتار کے بعد قیدیوں کی وین میں ڈالا جارہا ہے— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/05151149431f66e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/05151149431f66e.jpg"/>
        <media:title>پی ٹی آئی ملتان نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور میں اس کے جلسے پر پولیس نے حملہ کیا— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
