<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:26:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:26:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کا تجارتی معاہدے کیلئے امریکا سے اے آئی چپس کی برآمد پر پابندیاں کم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266394/</link>
      <description>&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز  نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین چاہتا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے لیے اہم چپس کی برآمد کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی کرے اور یہ مطالبہ ایک ممکنہ تجارتی معاہدے کا حصہ ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی مجوزہ ملاقات سے قبل طے پا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چینی حکام نے واشنگٹن میں ماہرین کو بتایا ہے کہ بیجنگ ٹرمپ انتظامیہ سے ہائی بینڈ وِڈتھ میموری (ایچ بی ایم) چپس پر برآمدی پابندیاں نرم کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خبر پر وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور چین کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا سے بھرپور اے آئی امور تیزی سے انجام دینے میں مددگار ایچ بی ایم چپس سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ یہ خاص طور پر نویڈیا کے گرافک پروسیسرز کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز کے مطابق چین کو تشویش ہے کہ ایچ بی ایم پر امریکی  پابندیاں ہواوے جیسی چینی کمپنیوں کی اپنی اے آئی چپس تیار کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومتیں مسلسل جدید چپس کی چین کو برآمدات محدود کرتی آئی ہیں تاکہ بیجنگ کی اے آئی اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس پالیسی نے امریکی کمپنیوں کی چین، جو دنیا کی سب سے بڑی سیمی کنڈکٹر مارکیٹوں میں سے ایک ہے، میں تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، تاہم چین اب بھی امریکی چپ ساز اداروں کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فنانشل ٹائمز  نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین چاہتا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے لیے اہم چپس کی برآمد کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی کرے اور یہ مطالبہ ایک ممکنہ تجارتی معاہدے کا حصہ ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی مجوزہ ملاقات سے قبل طے پا سکتا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چینی حکام نے واشنگٹن میں ماہرین کو بتایا ہے کہ بیجنگ ٹرمپ انتظامیہ سے ہائی بینڈ وِڈتھ میموری (ایچ بی ایم) چپس پر برآمدی پابندیاں نرم کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>اس خبر پر وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور چین کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>ڈیٹا سے بھرپور اے آئی امور تیزی سے انجام دینے میں مددگار ایچ بی ایم چپس سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ یہ خاص طور پر نویڈیا کے گرافک پروسیسرز کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فنانشل ٹائمز کے مطابق چین کو تشویش ہے کہ ایچ بی ایم پر امریکی  پابندیاں ہواوے جیسی چینی کمپنیوں کی اپنی اے آئی چپس تیار کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔</p>
<p>امریکی حکومتیں مسلسل جدید چپس کی چین کو برآمدات محدود کرتی آئی ہیں تاکہ بیجنگ کی اے آئی اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی کو روکا جا سکے۔</p>
<p>اگرچہ اس پالیسی نے امریکی کمپنیوں کی چین، جو دنیا کی سب سے بڑی سیمی کنڈکٹر مارکیٹوں میں سے ایک ہے، میں تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، تاہم چین اب بھی امریکی چپ ساز اداروں کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266394</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Aug 2025 15:24:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/10151355bf3b289.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/10151355bf3b289.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
