<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:09:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:09:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی سپریم کورٹ کا دہلی کی سڑکوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266498/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی سپریم کورٹ نے کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے کے بعد عوامی تحفظ کے بڑھتے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے دارالحکومت دہلی سے ہزاروں آوارہ کتوں کو ہٹانے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘  کے مطابق بھارت میں لاکھوں آوارہ کتے موجود ہیں، جبکہ کتوں کے خاص طور پر بچوں اور بزرگوں پر ہونے والے مہلک حملے مقامی میڈیا میں اکثر رپورٹ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دہلی کی سڑکوں پر کم از کم 60 ہزار کتے موجود ہیں،  کچھ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اب کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ شہر کے پارکوں اور رہائشی علاقوں میں بڑی تعداد میں کتے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بھارت عالمی سطح پر ریبیز کی اموات کا ایک تہائی حصہ بناتا ہے، یہ بحران اس لیے بڑھ گیا ہے کیونکہ وہاں نس بندی کے پروگراموں کی کمی اور کتے مارنے پر قانونی پابندیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے شہر کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ 8 ہفتوں کے اندر کتوں کی پناہ گاہ قائم کریں اور روزانہ کی بنیاد پر پکڑے گئے کتوں کا ریکارڈ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233282"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ جو چیز اہم ہے، اور جس کے بغیر پورا عمل بے فائدہ ہو جائے گا، وہ یہ ہے کہ کوئی بھی آوارہ کتا آزاد نہیں ہونا چاہیے، یہ حکم دہلی اور اس کے محلقہ علاقوں پر لاگو ہوگا، جہاں تقریباً 30 ملین لوگوں آباد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کو خبردار کیا کہ کتوں کو ہٹانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 24 گھنٹے ہیلپ لائن قائم کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ کتے کے کاٹنے کی شکایات درج کی جا سکیں اور حکام کو یہ اطلاع دینے کا حکم دیا کہ کہاں اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق 2024 میں 3.7 ملین سے زیادہ کتے کے کاٹنے کے کیسز اور ریبیز سے 54 انسانوں کی اموات رپورٹ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، اور دہلی میں ہی روزانہ تقریباً 2 ہزار کتے کے کاٹنے کے واقعات ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی کے متوسط طبقے کے محلوں میں کئی لوگ آوارہ کتوں سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ وہ ان کے مالک نہیں ہوتے، اور کچھ کتوں کو سردیوں میں گرم رکھنے کے لیے خاص جیکٹ پہنائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ کتوں کے لیے انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بھی بن گئے ہیں، کیونکہ بھارتی میڈیا میں مسلسل رپورٹ کی جاتی ہے کہ کتوں کے گروہ بچوں پر حملہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی سپریم کورٹ نے کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے کے بعد عوامی تحفظ کے بڑھتے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے دارالحکومت دہلی سے ہزاروں آوارہ کتوں کو ہٹانے کا حکم دیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘  کے مطابق بھارت میں لاکھوں آوارہ کتے موجود ہیں، جبکہ کتوں کے خاص طور پر بچوں اور بزرگوں پر ہونے والے مہلک حملے مقامی میڈیا میں اکثر رپورٹ ہوتے ہیں۔</p>
<p>دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دہلی کی سڑکوں پر کم از کم 60 ہزار کتے موجود ہیں،  کچھ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اب کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ شہر کے پارکوں اور رہائشی علاقوں میں بڑی تعداد میں کتے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بھارت عالمی سطح پر ریبیز کی اموات کا ایک تہائی حصہ بناتا ہے، یہ بحران اس لیے بڑھ گیا ہے کیونکہ وہاں نس بندی کے پروگراموں کی کمی اور کتے مارنے پر قانونی پابندیاں ہیں۔</p>
<p>عدالت نے شہر کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ 8 ہفتوں کے اندر کتوں کی پناہ گاہ قائم کریں اور روزانہ کی بنیاد پر پکڑے گئے کتوں کا ریکارڈ رکھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233282"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے کہا کہ جو چیز اہم ہے، اور جس کے بغیر پورا عمل بے فائدہ ہو جائے گا، وہ یہ ہے کہ کوئی بھی آوارہ کتا آزاد نہیں ہونا چاہیے، یہ حکم دہلی اور اس کے محلقہ علاقوں پر لاگو ہوگا، جہاں تقریباً 30 ملین لوگوں آباد ہیں۔</p>
<p>عدالت نے جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کو خبردار کیا کہ کتوں کو ہٹانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>عدالت نے 24 گھنٹے ہیلپ لائن قائم کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ کتے کے کاٹنے کی شکایات درج کی جا سکیں اور حکام کو یہ اطلاع دینے کا حکم دیا کہ کہاں اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب ہیں۔</p>
<p>بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق 2024 میں 3.7 ملین سے زیادہ کتے کے کاٹنے کے کیسز اور ریبیز سے 54 انسانوں کی اموات رپورٹ ہوئیں۔</p>
<p>دیگر اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، اور دہلی میں ہی روزانہ تقریباً 2 ہزار کتے کے کاٹنے کے واقعات ہو رہے ہیں۔</p>
<p>دہلی کے متوسط طبقے کے محلوں میں کئی لوگ آوارہ کتوں سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ وہ ان کے مالک نہیں ہوتے، اور کچھ کتوں کو سردیوں میں گرم رکھنے کے لیے خاص جیکٹ پہنائی جاتی ہے۔</p>
<p>لیکن یہ کتوں کے لیے انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بھی بن گئے ہیں، کیونکہ بھارتی میڈیا میں مسلسل رپورٹ کی جاتی ہے کہ کتوں کے گروہ بچوں پر حملہ کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266498</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 20:26:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/1120093894439ab.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/1120093894439ab.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
