<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:40:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 12:40:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے ٹو سر کرکے واپسی پر پتھروں کی زد میں آکر ہلاک چینی کوہ پیما کی لاش اسکردو منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266926/</link>
      <description>&lt;p&gt;12 اگست کو کے ٹو کی چوٹی سے اُترتے وقت گرنے والے پتھروں کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والی چینی کوہ پیما گوان جِنگ کی لاش برآمد کر کے اسکردو کے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1931367/body-of-chinese-mountaineer-recovered-brought-to-skardu"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ حادثہ ابزوری اسپر روٹ پر پیش آیا تھا، جو کیمپ ون اور ایڈوانس بیس کیمپ کے درمیان کا حصہ ہے، جہاں اکثر پتھروں کے گرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، گوان نے 11 اگست کو کوہ پیماؤں کے ایک گروپ کے ساتھ کامیابی سے کے ٹو سر کیا تھا اور اُس کے بعد واپسی کا سفر شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
الپائن کلب آف پاکستان کے سینئر نائب صدر، کرار حیدری کے مطابق چینی کوہ پیما کے سر پر گرنے والے پتھروں کی وجہ سے جاں بحق ہوئیں، پاک فوج کے ایوی ایشن وِنگ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کُنکورڈیا سے لاش کو منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر پرواز نہ کرسکے تو کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے پیدل لاش کو برآمد کرنے کی کوشش کی تھی، گوان جِنگ 12 اگست کو، کے ٹو سر کرنے کے ایک دن بعد گلگت بلتستان میں جاں بحق ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی لاش ایڈوانس بیس کیمپ سے تقریباً 100 سے 150 میٹر اوپر، لگ بھگ 5 ہزار 400 میٹر بلندی سے ملی، 8 ہزار 611 میٹر بلند کے ٹو دنیا کے سب سے خطرناک اور تکنیکی طور پر مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس کی شرحِ اموات ماؤنٹ ایورسٹ سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرار حیدری نے گوان جِنگ کے اہلِ خانہ، دوستوں اور بین الاقوامی کوہ پیمائی برادری سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کا نقصان انتہائی افسوس ناک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>12 اگست کو کے ٹو کی چوٹی سے اُترتے وقت گرنے والے پتھروں کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والی چینی کوہ پیما گوان جِنگ کی لاش برآمد کر کے اسکردو کے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1931367/body-of-chinese-mountaineer-recovered-brought-to-skardu"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ حادثہ ابزوری اسپر روٹ پر پیش آیا تھا، جو کیمپ ون اور ایڈوانس بیس کیمپ کے درمیان کا حصہ ہے، جہاں اکثر پتھروں کے گرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، گوان نے 11 اگست کو کوہ پیماؤں کے ایک گروپ کے ساتھ کامیابی سے کے ٹو سر کیا تھا اور اُس کے بعد واپسی کا سفر شروع کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
الپائن کلب آف پاکستان کے سینئر نائب صدر، کرار حیدری کے مطابق چینی کوہ پیما کے سر پر گرنے والے پتھروں کی وجہ سے جاں بحق ہوئیں، پاک فوج کے ایوی ایشن وِنگ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کُنکورڈیا سے لاش کو منتقل کیا۔</p>
<p>اس سے قبل، خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر پرواز نہ کرسکے تو کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے پیدل لاش کو برآمد کرنے کی کوشش کی تھی، گوان جِنگ 12 اگست کو، کے ٹو سر کرنے کے ایک دن بعد گلگت بلتستان میں جاں بحق ہوگئی تھیں۔</p>
<p>ان کی لاش ایڈوانس بیس کیمپ سے تقریباً 100 سے 150 میٹر اوپر، لگ بھگ 5 ہزار 400 میٹر بلندی سے ملی، 8 ہزار 611 میٹر بلند کے ٹو دنیا کے سب سے خطرناک اور تکنیکی طور پر مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس کی شرحِ اموات ماؤنٹ ایورسٹ سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>کرار حیدری نے گوان جِنگ کے اہلِ خانہ، دوستوں اور بین الاقوامی کوہ پیمائی برادری سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کا نقصان انتہائی افسوس ناک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266926</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Aug 2025 10:29:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمیل نگری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/17102554c869b45.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/17102554c869b45.jpg"/>
        <media:title>گوان جِنگ 12 اگست کو کے ٹو سر کرنے کے ایک دن بعد گلگت بلتستان میں جاں بحق ہوگئی تھیں۔
—فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
