<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 19:03:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 19:03:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>28 سال بعد پہلی سندھی فیچر فلم ’انڈس ایکوز‘ کی ناپا میں نمائش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266988/</link>
      <description>&lt;p&gt;28 سال بعد پہلی سندھی فیچر فلم ’انڈس ایکوز‘ کی خصوصی نمائش ناپا میں ہوئی، جس میں دریائے سندھ کے اردگرد کے لوگوں اور ان کی کہانیوں کو فلم کے ذریعے پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) اور کلائمٹ ایکشن سینٹر (سی اے سی) نے اتوار کو ’امیجن لائف‘ پروجیکٹ کے تحت پہلی سندھی فیچر فلم ’انڈس ایکوز‘ کی نمائش کی، یہ پاکستان میں 28 سال بعد بننے والی پہلی سندھی فلم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم میں کسانوں، شاعروں، ماہی گیروں، عاشقوں اور دریائے سندھ کی کہانیاں پیش کی گئی ہیں اور اس میں انسان اور دریا کے درمیان تعلقات کی پیچیدگی کو دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’انڈس ایکوز‘ کے ہدایت کار اور لکھاری راہول اعجاز نے بتایا کہ فلم کی پوری کہانی سندھی میں تیار کی گئی اور بعد میں اس پر انگریزی کے سب ٹائٹلز لگائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی نمائش کے بعد ایک پینل ڈسکشن بھی ہوئی، جس میں صحافی اور ایکٹیوسٹ آفاق بھٹی نے کہا کہ دریائے سندھ پر بنے ڈیم اور بیراج دریا کے لیے زخم ہیں اور یہ فلم کوٹری بیراج کے قریب فلمائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ کی تہذیب صرف دریائے سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے دریا کے نظام سے جڑی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی اے سی کے ڈائریکٹر یاسر دریا نے کہا کہ فلم کا ٹریلر دیکھ کر انہیں فوراً محسوس ہوا کہ یہ پروجیکٹ بہت اہم ہے، اسی لیے اسے نمائش کے لیے منتخب کیا گیا، فلم ’انڈس ایکوز‘ کی قومی سطح پر ریلیز 12 ستمبر کو ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کا آغاز ڈاکٹر سعدیہ عباس (رٹگرز یونیورسٹی) اور نیلوفر فرخ کی پریزنٹیشنز سے ہوا، ڈاکٹر عباس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے میں ہر کسی کو شامل ہونا چاہیے اور اس میں نوآبادیاتی دور اور بعد کی صنعتی ترقی دونوں ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلوفر فرخ نے کہا کہ ہر چیلنج کا حل صرف تخیل اور تخلیقی سوچ سے ممکن ہے اور لوگ زمین کے پیغامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں ایک اور پینل ڈسکشن بھی ہوا، جس کا عنوان تھا ’کنکٹنگ ٹرانسفارمیٹو انرجیز‘، جس میں فلم، تخیل اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>28 سال بعد پہلی سندھی فیچر فلم ’انڈس ایکوز‘ کی خصوصی نمائش ناپا میں ہوئی، جس میں دریائے سندھ کے اردگرد کے لوگوں اور ان کی کہانیوں کو فلم کے ذریعے پیش کیا گیا۔</p>
<p>کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) اور کلائمٹ ایکشن سینٹر (سی اے سی) نے اتوار کو ’امیجن لائف‘ پروجیکٹ کے تحت پہلی سندھی فیچر فلم ’انڈس ایکوز‘ کی نمائش کی، یہ پاکستان میں 28 سال بعد بننے والی پہلی سندھی فلم ہے۔</p>
<p>فلم میں کسانوں، شاعروں، ماہی گیروں، عاشقوں اور دریائے سندھ کی کہانیاں پیش کی گئی ہیں اور اس میں انسان اور دریا کے درمیان تعلقات کی پیچیدگی کو دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>’انڈس ایکوز‘ کے ہدایت کار اور لکھاری راہول اعجاز نے بتایا کہ فلم کی پوری کہانی سندھی میں تیار کی گئی اور بعد میں اس پر انگریزی کے سب ٹائٹلز لگائے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فلم کی نمائش کے بعد ایک پینل ڈسکشن بھی ہوئی، جس میں صحافی اور ایکٹیوسٹ آفاق بھٹی نے کہا کہ دریائے سندھ پر بنے ڈیم اور بیراج دریا کے لیے زخم ہیں اور یہ فلم کوٹری بیراج کے قریب فلمائی گئی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ کی تہذیب صرف دریائے سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے دریا کے نظام سے جڑی ہوئی تھی۔</p>
<p>سی اے سی کے ڈائریکٹر یاسر دریا نے کہا کہ فلم کا ٹریلر دیکھ کر انہیں فوراً محسوس ہوا کہ یہ پروجیکٹ بہت اہم ہے، اسی لیے اسے نمائش کے لیے منتخب کیا گیا، فلم ’انڈس ایکوز‘ کی قومی سطح پر ریلیز 12 ستمبر کو ہوگی۔</p>
<p>تقریب کا آغاز ڈاکٹر سعدیہ عباس (رٹگرز یونیورسٹی) اور نیلوفر فرخ کی پریزنٹیشنز سے ہوا، ڈاکٹر عباس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے میں ہر کسی کو شامل ہونا چاہیے اور اس میں نوآبادیاتی دور اور بعد کی صنعتی ترقی دونوں ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>نیلوفر فرخ نے کہا کہ ہر چیلنج کا حل صرف تخیل اور تخلیقی سوچ سے ممکن ہے اور لوگ زمین کے پیغامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔</p>
<p>تقریب میں ایک اور پینل ڈسکشن بھی ہوا، جس کا عنوان تھا ’کنکٹنگ ٹرانسفارمیٹو انرجیز‘، جس میں فلم، تخیل اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266988</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Aug 2025 11:40:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/181133112589849.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/181133112589849.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
