<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 05:03:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 05:03:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت، سرحدی امن پر زور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267038/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے نئی دہلی میں چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیشرفت تب ہی ممکن ہے جب ان کی سرحد پر امن قائم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں اداروں ’رائٹرز اور اے ایف پی‘ کے مطابق وانگ یی دو روزہ دورے پر بھارتی دارالحکومت پہنچے، جس دوران وہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ سرحدی امور پر بات چیت کریں گے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے ابتدائی بیان میں وانگ یی کو بتایا کہ سرحدی مسائل پر بات کرنا بہت اہم ہے کیونکہ تعلقات میں کسی بھی مثبت پیشرفت کی بنیاد سرحدی علاقوں میں امن اور سکون کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ 2020 میں سرحدی تصادم کے بعد مغربی ہمالیہ کے علاقے میں تعینات کی گئی اپنی فوجوں کو واپس بلائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DrSJaishankar/status/1957425657358512639"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بھارت اور چین کے خصوصی نمائندوں کے درمیان اگلے دو روز میں اہم ملاقاتیں اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی جائے گی‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/1957414509485666387"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چین کا دورہ کرنے والے ہیں، جو 7 سالوں میں ان کا پہلا دورہ ہو گا، وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے، یہ ایک علاقائی سیاسی اور سیکیورٹی گروپ ہے جس میں روس بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی دونوں بڑی طاقتوں کے تعلقات اکتوبر میں اُس وقت نرم ہوئے تھے، جب نئی دہلی اور بیجنگ نے اپنے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے تھے، یہ معاہدہ چینی صدر شی جن پنگ اور مودی کے درمیان روس میں ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے دو سب سے زیادہ آباد ممالک جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کے لیے سخت حریف ہیں اور 2020 میں ان کے درمیان ایک خونریز سرحدی تصادم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی وجہ سے عالمی تجارتی اور جیوپولیٹیکل بحران کے شکار ہونے کے بعد دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے نئی دہلی میں چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیشرفت تب ہی ممکن ہے جب ان کی سرحد پر امن قائم ہو۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں اداروں ’رائٹرز اور اے ایف پی‘ کے مطابق وانگ یی دو روزہ دورے پر بھارتی دارالحکومت پہنچے، جس دوران وہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ سرحدی امور پر بات چیت کریں گے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔</p>
<p>بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے ابتدائی بیان میں وانگ یی کو بتایا کہ سرحدی مسائل پر بات کرنا بہت اہم ہے کیونکہ تعلقات میں کسی بھی مثبت پیشرفت کی بنیاد سرحدی علاقوں میں امن اور سکون کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ 2020 میں سرحدی تصادم کے بعد مغربی ہمالیہ کے علاقے میں تعینات کی گئی اپنی فوجوں کو واپس بلائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DrSJaishankar/status/1957425657358512639"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارت کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بھارت اور چین کے خصوصی نمائندوں کے درمیان اگلے دو روز میں اہم ملاقاتیں اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی جائے گی‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/1957414509485666387"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چین کا دورہ کرنے والے ہیں، جو 7 سالوں میں ان کا پہلا دورہ ہو گا، وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے، یہ ایک علاقائی سیاسی اور سیکیورٹی گروپ ہے جس میں روس بھی شامل ہے۔</p>
<p>ایشیا کی دونوں بڑی طاقتوں کے تعلقات اکتوبر میں اُس وقت نرم ہوئے تھے، جب نئی دہلی اور بیجنگ نے اپنے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے تھے، یہ معاہدہ چینی صدر شی جن پنگ اور مودی کے درمیان روس میں ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔</p>
<p>دنیا کے دو سب سے زیادہ آباد ممالک جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کے لیے سخت حریف ہیں اور 2020 میں ان کے درمیان ایک خونریز سرحدی تصادم ہوا تھا۔</p>
<p>لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی وجہ سے عالمی تجارتی اور جیوپولیٹیکل بحران کے شکار ہونے کے بعد دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267038</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Aug 2025 22:21:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/18213136452cafa.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/18213136452cafa.png"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
