<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 17:14:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 17:14:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں دوپٹے اور برقعے کے ساتھ بھی کمال کی فلمیں بن رہی ہیں، سیفی حسن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267061/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہدایتکار سیفی حسن کا کہنا ہے کہ ایران میں قدغن اور سخت پابندیوں کے باوجود فلم انڈسٹری نے شاندار ترقی کی ہے، جہاں دوپٹے اور برقعے کے ساتھ بھی کمال کی فلمیں بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیفی حسن نے حال ہی میں ’سما ٹی وی‘ کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اداکاروں کی کاسٹنگ ہدایتکار سے زیادہ پروڈکشن ہاؤس کرتا ہے، خاص طور پر ڈرامے کے مرکزی کرداروں کا فیصلہ پروڈکشن ہاؤس ہی کرتا ہے کہ اہم کردار کون ادا کرے گا، البتہ وہ ہم سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر پروڈکشن ہاؤس ایسے کرداروں کا انتخاب کر رہا ہے جن کی مقبولیت زیادہ ہے چاہے وہ اس کردار کے لیے موزوں نہ ہوں تو ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ جب وہ ڈرامے کو بنانے میں اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں تو انہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں منافع کما کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیفی حسن نے یہ بھی کہا کہ ایسا بھی نہیں کہ ہم سے اس بارے میں رائے نہیں لی جاتی، ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ اداکار اس کردار کے لیے موزوں ہے، لیکن حتمی فیصلہ پروڈکشن ہاؤس ہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253441"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے پروجیکٹس پر کام نہیں کرتے جن میں پسماندہ سوچ دکھائی جاتی ہے، اس وجہ سے پروڈیوسرز انہیں طعنے بھی دیتے ہیں کہ تم اسکرپٹ سے انکار کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں معلوم ہے کہ ان کے پچھلے پروجیکٹ کی کتنی ریٹنگ آئی تھی؟ لیکن وہ معذرت کر دیتے ہیں کہ بھئی یہ پروجیکٹ نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایتکار کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں ایرانی میڈیا پر بہت قدغن ہے لیکن ایرانی سینما اسی قدغن میں بھی کمال کی ترقی کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوپٹہ بھی نہیں اتارا، جب کہ ہم ہمیشہ ضیاالحق کے دور میں رہتے ہیں کہ ہم نے دوپٹے پہن کر اداکاری کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی نہ صرف دوپٹہ بلکہ برقعہ پہن کر بھی اداکاری کر رہے ہیں، لیکن کیا کمال کی فلمیں بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیفی حسن کے مطابق پاکستان میں بھی اچھا کام ہوتا ہے لیکن چونکہ بہت زیادہ مواد بنتا ہے تو معیاری کام کہیں گم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں کہ پابندیاں صرف آج ہی لگائی جا رہی ہوں، یہ پابندیاں ہر دور میں رہی ہیں، اس لیے ان پر شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/aM2WvC0F6Rk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہدایتکار سیفی حسن کا کہنا ہے کہ ایران میں قدغن اور سخت پابندیوں کے باوجود فلم انڈسٹری نے شاندار ترقی کی ہے، جہاں دوپٹے اور برقعے کے ساتھ بھی کمال کی فلمیں بنا رہے ہیں۔</p>
<p>سیفی حسن نے حال ہی میں ’سما ٹی وی‘ کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اداکاروں کی کاسٹنگ ہدایتکار سے زیادہ پروڈکشن ہاؤس کرتا ہے، خاص طور پر ڈرامے کے مرکزی کرداروں کا فیصلہ پروڈکشن ہاؤس ہی کرتا ہے کہ اہم کردار کون ادا کرے گا، البتہ وہ ہم سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر پروڈکشن ہاؤس ایسے کرداروں کا انتخاب کر رہا ہے جن کی مقبولیت زیادہ ہے چاہے وہ اس کردار کے لیے موزوں نہ ہوں تو ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ جب وہ ڈرامے کو بنانے میں اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں تو انہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں منافع کما کر دیں۔</p>
<p>سیفی حسن نے یہ بھی کہا کہ ایسا بھی نہیں کہ ہم سے اس بارے میں رائے نہیں لی جاتی، ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ اداکار اس کردار کے لیے موزوں ہے، لیکن حتمی فیصلہ پروڈکشن ہاؤس ہی کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253441"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے پروجیکٹس پر کام نہیں کرتے جن میں پسماندہ سوچ دکھائی جاتی ہے، اس وجہ سے پروڈیوسرز انہیں طعنے بھی دیتے ہیں کہ تم اسکرپٹ سے انکار کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں معلوم ہے کہ ان کے پچھلے پروجیکٹ کی کتنی ریٹنگ آئی تھی؟ لیکن وہ معذرت کر دیتے ہیں کہ بھئی یہ پروجیکٹ نہیں کر سکتا۔</p>
<p>ہدایتکار کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں ایرانی میڈیا پر بہت قدغن ہے لیکن ایرانی سینما اسی قدغن میں بھی کمال کی ترقی کر گیا۔</p>
<p>انہوں نے دوپٹہ بھی نہیں اتارا، جب کہ ہم ہمیشہ ضیاالحق کے دور میں رہتے ہیں کہ ہم نے دوپٹے پہن کر اداکاری کی تھی۔</p>
<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی نہ صرف دوپٹہ بلکہ برقعہ پہن کر بھی اداکاری کر رہے ہیں، لیکن کیا کمال کی فلمیں بناتے ہیں۔</p>
<p>سیفی حسن کے مطابق پاکستان میں بھی اچھا کام ہوتا ہے لیکن چونکہ بہت زیادہ مواد بنتا ہے تو معیاری کام کہیں گم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں کہ پابندیاں صرف آج ہی لگائی جا رہی ہوں، یہ پابندیاں ہر دور میں رہی ہیں، اس لیے ان پر شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/aM2WvC0F6Rk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267061</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 11:14:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/1909455750e2abb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/1909455750e2abb.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
