<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 10:40:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 10:40:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں تباہ کن سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 358 ہوگئی، صوبے میں بحالی کے اقدامات جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267095/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں گزشتہ 3 روز کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث کم از کم 358 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ صوبہ تاحال ریکارڈ بارشوں سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں سے سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا کہ 15 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں نے خیبرپختونخوا بھر میں تباہی مچائی ہے، صوبائی حکومت نے بونیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ سمیت مختلف علاقوں میں آنے والے بدترین سیلاب اور بارشوں کے نہ رکنے والے سلسلے کے باعث گزشتہ ہفتے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 15 اگست کے بعد سے بارش اور سیلاب کے باعث 358 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سب سے زیادہ اموات بونیر میں ہوئیں جہاں 225 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جاں بحق ہونے والوں میں 287 مرد، 41 خواتین اور 30 بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266937"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب اور بارش سے بونیر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا جہاں اچانک آنے والے سیلاب اور عمارتیں گرنے سے 225 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 193 مرد، 23 خواتین اور 9 بچے شامل تھے، جبکہ 120 افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شانگلہ میں 36، مانسہرہ میں 22، باجوڑ میں 22 اور سوات میں 20 افراد جاں بحق ہوئے، صوابی میں بھی اچانک آنے والے سیلاب نے 17 افراد کی جان لے لی، لوئر دیر میں چھت گرنے کے مختلف واقعات میں 5 افراد جبکہ نوشہرہ میں 2 افراد جاں بحق ہوئے، ایبٹ آباد، تورغر اور جنوبی وزیرستان میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 780 مکانات سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے، جن میں سے 349 مکمل طور پر تباہ اور 431 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، بونیر میں سب سے زیادہ 162 مکانات تباہ ہوئے، سیلاب میں 427 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایم اے کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق موجودہ بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی انتظامیہ کو ریلیف سرگرمیوں کو تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ریلیف-سرگرمیاں" href="#ریلیف-سرگرمیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ریلیف سرگرمیاں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ریسکیو ٹیموں کا  آپریشن جاری ہے، جس کے لیے 3 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ تقریبا 6 ہزار اہلکار ریلیف آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں، اب تک 5 ہزار 210 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;176 ریسکیو مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ سیلاب سے متاثر ہونے والی 100 سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، 5 فوجی ہیلی کاپٹر اور ایک صوبائی ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو سرگرمیوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ 89 ٹرک امدادی سامان لے کر متاثرہ اضلاع پہنچائے گئے، ان میں 2 ہزار 800 خیمے، 6 ہزار ایک سو بستر، 2 ہزار 700 حفظان صحت کٹس، 3 ہزار ایک سو ترپالیں، 7 ہزار 400 مچھر دانیاں، 6 ہزار 800 کمبل  اور 500 گیس سلنڈر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;289 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں اب تک 822 انفیکشن کے مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ کابینہ کے وزرا نے 15 دن کی اور اسمبلی کے اراکین نے 7 دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے وقف کیں، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران نے 2 دن کی اور گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین نے ایک دن کی تنخواہ عطیہ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گلگت-بلتستان-میں-بحالی" href="#گلگت-بلتستان-میں-بحالی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گلگت بلتستان میں بحالی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سیلاب سے تباہ ہونے والی بلتستان ہائی وے کو پاک فوج اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی مشترکہ کوششوں سے بحال کردیا گیا ہے، ہائے وے کی 6 دن کی بندش کے باعث سیاحوں اور مقامی افراد کو خوارک اور ایندھن کی کمی سامنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بلوچستان-میں-22-اموات" href="#بلوچستان-میں-22-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بلوچستان میں 22 اموات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان پی ڈی ایم اے کے مطابق 28 جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب کے باعث 22 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267085"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پنجاب-میں-ہائی-الرٹ" href="#پنجاب-میں-ہائی-الرٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پنجاب میں ہائی الرٹ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید بارش ہوئی، پی ڈی ایم اے نے 23 اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، ندی نالوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پاک-فوج-کا-کردار" href="#پاک-فوج-کا-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاک فوج کا کردار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حکم پر متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے اضافی یونٹس تعینات کیے گئے ہیں، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں فوج کے 9 یونٹس، انجینئرنگ بریگیڈز، میڈیکل یونٹس اور ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اب تک 6,903 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور 6 ہزار 304 افراد کا طبی امداد فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ 585 ٹن راشن اور ہزاروں تیار کھانے پینے کی اشیا متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئیں، فوج اور سول سوسائٹی مل کر تباہ شدہ پلوں، سڑکوں اور ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک کی بحالی میں بھی کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا میں گزشتہ 3 روز کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث کم از کم 358 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ صوبہ تاحال ریکارڈ بارشوں سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں سے سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا کہ 15 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں نے خیبرپختونخوا بھر میں تباہی مچائی ہے، صوبائی حکومت نے بونیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ سمیت مختلف علاقوں میں آنے والے بدترین سیلاب اور بارشوں کے نہ رکنے والے سلسلے کے باعث گزشتہ ہفتے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔</p>
<p>پی ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 15 اگست کے بعد سے بارش اور سیلاب کے باعث 358 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سب سے زیادہ اموات بونیر میں ہوئیں جہاں 225 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جاں بحق ہونے والوں میں 287 مرد، 41 خواتین اور 30 بچے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266937"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سیلاب اور بارش سے بونیر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا جہاں اچانک آنے والے سیلاب اور عمارتیں گرنے سے 225 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 193 مرد، 23 خواتین اور 9 بچے شامل تھے، جبکہ 120 افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>شانگلہ میں 36، مانسہرہ میں 22، باجوڑ میں 22 اور سوات میں 20 افراد جاں بحق ہوئے، صوابی میں بھی اچانک آنے والے سیلاب نے 17 افراد کی جان لے لی، لوئر دیر میں چھت گرنے کے مختلف واقعات میں 5 افراد جبکہ نوشہرہ میں 2 افراد جاں بحق ہوئے، ایبٹ آباد، تورغر اور جنوبی وزیرستان میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔</p>
<p>صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 780 مکانات سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے، جن میں سے 349 مکمل طور پر تباہ اور 431 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، بونیر میں سب سے زیادہ 162 مکانات تباہ ہوئے، سیلاب میں 427 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔</p>
<p>پی ڈی ایم اے کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق موجودہ بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی انتظامیہ کو ریلیف سرگرمیوں کو تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔</p>
<h1><a id="ریلیف-سرگرمیاں" href="#ریلیف-سرگرمیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ریلیف سرگرمیاں</h1>
<p>وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ریسکیو ٹیموں کا  آپریشن جاری ہے، جس کے لیے 3 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ تقریبا 6 ہزار اہلکار ریلیف آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں، اب تک 5 ہزار 210 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔</p>
<p>176 ریسکیو مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ سیلاب سے متاثر ہونے والی 100 سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، 5 فوجی ہیلی کاپٹر اور ایک صوبائی ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو سرگرمیوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ 89 ٹرک امدادی سامان لے کر متاثرہ اضلاع پہنچائے گئے، ان میں 2 ہزار 800 خیمے، 6 ہزار ایک سو بستر، 2 ہزار 700 حفظان صحت کٹس، 3 ہزار ایک سو ترپالیں، 7 ہزار 400 مچھر دانیاں، 6 ہزار 800 کمبل  اور 500 گیس سلنڈر شامل ہیں۔</p>
<p>289 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں اب تک 822 انفیکشن کے مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ کابینہ کے وزرا نے 15 دن کی اور اسمبلی کے اراکین نے 7 دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے وقف کیں، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران نے 2 دن کی اور گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین نے ایک دن کی تنخواہ عطیہ کی۔</p>
<h1><a id="گلگت-بلتستان-میں-بحالی" href="#گلگت-بلتستان-میں-بحالی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گلگت بلتستان میں بحالی</h1>
<p>سیلاب سے تباہ ہونے والی بلتستان ہائی وے کو پاک فوج اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی مشترکہ کوششوں سے بحال کردیا گیا ہے، ہائے وے کی 6 دن کی بندش کے باعث سیاحوں اور مقامی افراد کو خوارک اور ایندھن کی کمی سامنا تھا۔</p>
<h1><a id="بلوچستان-میں-22-اموات" href="#بلوچستان-میں-22-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بلوچستان میں 22 اموات</h1>
<p>بلوچستان پی ڈی ایم اے کے مطابق 28 جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب کے باعث 22 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267085"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="پنجاب-میں-ہائی-الرٹ" href="#پنجاب-میں-ہائی-الرٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پنجاب میں ہائی الرٹ</h1>
<p>پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید بارش ہوئی، پی ڈی ایم اے نے 23 اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، ندی نالوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔</p>
<h1><a id="پاک-فوج-کا-کردار" href="#پاک-فوج-کا-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاک فوج کا کردار</h1>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حکم پر متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے اضافی یونٹس تعینات کیے گئے ہیں، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں فوج کے 9 یونٹس، انجینئرنگ بریگیڈز، میڈیکل یونٹس اور ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اب تک 6,903 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور 6 ہزار 304 افراد کا طبی امداد فراہم کی گئی۔</p>
<p>مزید بتایا کہ 585 ٹن راشن اور ہزاروں تیار کھانے پینے کی اشیا متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئیں، فوج اور سول سوسائٹی مل کر تباہ شدہ پلوں، سڑکوں اور ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک کی بحالی میں بھی کام کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267095</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 18:54:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد امدادعبداللہ زہریامتیاز علیعمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/1918193259227ee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/1918193259227ee.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
