<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 19:57:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 19:57:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نورا فتیحی جیسی نظر آنے کے مطالبے پر خاتون شوہر کے خلاف تھانے پہنچ گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267278/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست اترپردیش کی ایک خاتون نے شوہر اور سسرالیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرواتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شوہر نورا فتیحی جیسا پرکشش نظر آنے کے لیے ان پر سخت ورزش کا دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/india-news/up-man-wanted-wife-to-be-nora-fatehi-made-her-exercise-killed-her-foetus-9128252"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اترپردیش کے شہر غازی آباد کی رہائشی 26 سالہ خاتون نے شوہر اور سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ دائر کروادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے شوہر اور سسرالیوں پر تشدد، بلیک میلنگ اور جہیز کے بے جا مطالبات کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شانوی یا شانو نامی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ان کے والدین نے شادی پر مجموعی طور پر 76 لاکھ روپے کے اخراجات کیے اور ان کے شوہر کو 24 لاکھ روپے کی گاڑی دینے سمیت 10 لاکھ روپے نقد بھی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جہیز میں انہوں نے 16 لاکھ روپے کے زیورات بھی دیے لیکن اس باوجود سسرالی ان سے مزید جہیز کا مطالبہ کرتے رہے اور ان کے انکار پر انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر شیوم اجوال انہیں روزانہ تین گھنٹے سخت ورزش کرنے پر مجبور کرتے تاکہ وہ داکارہ نورا فتیحی کی طرح دلکش نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کے مطابق اگر وہ ورزش کرنے سے انکار کرتیں تو انہیں کئی دنوں تک کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر انٹرنیٹ پر عورتوں کے قابل اعتراض ویڈیوز دیکھتے رہتے اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ان کی ساس اور سسرالی گھر کی دوسری خواتین انہیں طعنے دیتیں کہ ان کے شوہر کو تو نورا فتیحی جیسی خوبصورت خاتون  بھی مل سکتی تھی اور وہ ایسی ہی خاتون سے شادی کے قابل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سسرالیوں پر اپنا حمل بھی ضائع کروانے کا الزام لگایا اور بتایا کہ انہیں اسقاط حمل کی گولی دی گئی، جس سے وہ بیمار بھی ہوئیں اور ان میں خون کی کمی بھی ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست اترپردیش کی ایک خاتون نے شوہر اور سسرالیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرواتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شوہر نورا فتیحی جیسا پرکشش نظر آنے کے لیے ان پر سخت ورزش کا دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔</p>
<p>نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/india-news/up-man-wanted-wife-to-be-nora-fatehi-made-her-exercise-killed-her-foetus-9128252"><strong>مطابق</strong></a> اترپردیش کے شہر غازی آباد کی رہائشی 26 سالہ خاتون نے شوہر اور سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ دائر کروادیا۔</p>
<p>خاتون نے شوہر اور سسرالیوں پر تشدد، بلیک میلنگ اور جہیز کے بے جا مطالبات کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شانوی یا شانو نامی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ان کے والدین نے شادی پر مجموعی طور پر 76 لاکھ روپے کے اخراجات کیے اور ان کے شوہر کو 24 لاکھ روپے کی گاڑی دینے سمیت 10 لاکھ روپے نقد بھی دیے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جہیز میں انہوں نے 16 لاکھ روپے کے زیورات بھی دیے لیکن اس باوجود سسرالی ان سے مزید جہیز کا مطالبہ کرتے رہے اور ان کے انکار پر انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔</p>
<p>خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر شیوم اجوال انہیں روزانہ تین گھنٹے سخت ورزش کرنے پر مجبور کرتے تاکہ وہ داکارہ نورا فتیحی کی طرح دلکش نظر آئے۔</p>
<p>خاتون کے مطابق اگر وہ ورزش کرنے سے انکار کرتیں تو انہیں کئی دنوں تک کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔</p>
<p>خاتون نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر انٹرنیٹ پر عورتوں کے قابل اعتراض ویڈیوز دیکھتے رہتے اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کرتے تھے۔</p>
<p>خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ان کی ساس اور سسرالی گھر کی دوسری خواتین انہیں طعنے دیتیں کہ ان کے شوہر کو تو نورا فتیحی جیسی خوبصورت خاتون  بھی مل سکتی تھی اور وہ ایسی ہی خاتون سے شادی کے قابل تھے۔</p>
<p>انہوں نے سسرالیوں پر اپنا حمل بھی ضائع کروانے کا الزام لگایا اور بتایا کہ انہیں اسقاط حمل کی گولی دی گئی، جس سے وہ بیمار بھی ہوئیں اور ان میں خون کی کمی بھی ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267278</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 20:29:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/212015524b5f279.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/212015524b5f279.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
